آبنائے ہرمز کامتبادل روٹ
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
عبد الرحیم
جب حالیہ مہینوں میںجنگ نے مشرق وسطیٰ کو گھیر لیاتو اس نے جہاز رانی کے دنیا کے ایک سب سے اہم روٹ تک رسائی منقطع کردی،شام کو موقع ہاتھ آگیا۔شام کی بحیرہ روم کی کئی بندرگاہوں اور ترکی ،عراق،اردن اور لبنان کے ساتھ سرحدیں ہیںجبکہ دنیا کوبند آبنائے ہرمز کے متبادل کی سخت ضرورت ہے تو شام یہ متبادل پیش کرتا ہے۔متحدہ عرب امارات سمیت عراق اور خلیجی ریاستوں نے تیل اور دوسری اشیاء شام سے بذریعہ جہازبھیجنی شروع کردی ہیں۔خطے میں تمام پڑوسی ممالک نے شام کی بندرگاہوں تک رسائی کیلئے اس کے دروازے پر دستک دی ہے۔ وہ بحران کے طویل ہونے کی صورت میں پلان بی بنا رہے ہیں۔تاہم ان نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے شام کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے جن میں بڑے پیمانے پرپانی اور بجلی کی کمی شامل ہے۔14 سالہ خانہ جنگی جو2024میںآمر بشارالاسد کی اقتدار سے محرومی کے بعد ختم ہوئی، میں انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا۔ شام عالمی تجارت میں رابطے کے طور پر طویل تاریخ رکھتا ہے۔ شام پرانا شاہراہ ریشم ہے اور یہ اہم تجارتی روٹ تھا۔ جنگ کے نتیجہ میںپڑوسی عراق میں خام تیلجمع ہونا شروع ہوگیاکیونکہ گاہکوں تک کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ عراق نے شام سے پوچھاکہ آیا وہ اپنی بندرگاہ بنی یاس سے خام تیل بذریعہ جہاز بھیج سکتا ہے۔ شام کیلئے یہ ضروری اقتصادی موقع تھا۔ ملک اپنی بندرگاہوں پر ٹرانزٹ اور ہینڈلنگ فیس وصول کرتا ہے۔ طویل المدت میں شامی رہنما امید کر رہے ہیں کہ وہ ممالک اور کمپنیوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ شام کے اثاثوں سے بھرپور فائدہ اٹھا ئیں۔تاہم انہیں بحالی اور انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس میں کچھ ماہ لگیں گے ، جس میں25ملین ڈالر کی لاگت کا تخمینہ ہے۔پھر بھی شام کے رہنما اس ممکنہ آسان دولتکو ضائع نہیں کرنا چاہتے۔شامی پیٹرولیم کمپنی کے احمداور وزارت عراقی تیل کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کھل بھی جاتی ہے تو ممالک کو آبنائے ہرمز کے متبادل کی ضرورت ہے۔شام سمندر کیلئے رابطہ بن جائے گا۔ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات سے200گاڑیوں کی پہلی ڈیلوری پہنچی تو شام کی ایک اور بندرگاہ لتاکیا سے یورپ بھیجی گئی۔
گزشتہ ماہ قبرص میں ایک اجلاس میں شام کے صدر احمد الشرع نے یورپین یونین کے رہنمائوں کو بتایا کہ ان کا ملک محفوظ اور اور اسٹریٹیجک راہداری بننے کی پوزیشن میں ہے جو وسطی ایشیا اور خلیج کے عرب ممالک کو یوروپ سے ملائے گی۔
۔۔۔
سابق صدر محمود احمدی نژاداور ایران کی قیادت
اگر ایرانی حکومت ختم ہو جاتی ہے توسابق صدر ر محمود احمدی نژاد اس کی جگہ لیتے۔امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے کا مقصدر محمود احمد ی نژاد کو نظر بندی سے آزاد کرانا تھا۔ اس حملے میں محمود احمدی نژاد زخمی ہو گئے۔ دی اٹلانک میں شائع شدہ مضمون میں احمد نژاد کے ایک گمنام معاو ن کے مطابق حملے کا مقصد احمد ی نژادکی نگرانی کرنے والے گارڈز کو قتل کرنا تھا تاکہ انہیں نظر بندی سے آزاد کرایا جائے۔ امریکی سمجھتے تھے کہ احمدی نژاد ایران کی قیادت کر سکتے ہیں اور ان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایران کی سیاسی، سماجی اور فوجی صورتحال پر قابو پالیں گے۔مستقبل قریب میں احمد ی نژاد بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امریکہ انہیں ڈیلسی روڈری گوئیز کی طرح سمجھتے تھے جس نے امریکی فوجوں کی مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا میں اقتدار سنبھالااور اس وقت سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ موساد کے سربراہ نے معاون کو بتایا کہ اگر مزید پیش رفت کی منظوری مل جاتی تو ایجنسی کے پلان کے کامیاب ہونے کا بہت زیادہ امکان تھا۔
۔۔۔
آبنائے ہرمز اور سلیکون چپس
جس طرح آبنائے ہرمز کی دنیا کو تیل کی فراہمی کیلئے اسٹریٹیجک رکاوٹ بن گئی ہے،اسی طرح آبنائے تائیوان کی سلیکون چپس کیلئے غیر معمولی طور پر بڑی اقتصادی اہمیت ہے کیونکہ تائیوان ناگزیر کمپنی ٹی ایس ایم سی کا گھر ہے۔ بیجنگ میں امریکہ چین سربراہی ملاقات میں تائیواں پر تبادلہ خیال ہوا۔ چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی سرکاری پالیسی اسٹریٹیجک مبہم ہے۔ تائیوان میں سیمی کنڈکٹر انڈسٹری سلیکون ڈھال کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ اس سے تائیوان کے تحفظ میں مدد ملی ہے کیونکہ وہاں تیار ہونے والے سلیکون چپس عالمی معیشت کیلئے ناگزیر ہیں۔عالمی مارکیٹ کا تقاضا ہے کہ حالات جوں کے توں رہیں۔مشرقی ایشیا میں سیاسی ہلچل ماکیٹوں کو اتنا ہی متاثر کر سکتی ہے جتنا کہ آبنائے ہرمز کے آس پاس ابتری نقصان پہنچاتی ہے۔ آپ آج کی دنیا میں کہیں بھی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں لیکن آپ جیو پالیٹکس کو نظر انداز نہیںکر سکتے۔آپ جہاں بھی جائیں،چپس ، اے آئی اور تیل کو دنیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں بالادستی حاصل ہے ۔
۔۔۔


