میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ حیدرآباد میں تعمیراتی کرپشن عروج پر

سندھ بلڈنگ حیدرآباد میں تعمیراتی کرپشن عروج پر

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۵ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

دامن کوہسار متاثرین کالونی میں پلاٹ نمبر 21 پر تین منزلہ غیر قانونی تعمیرات
اورنگزیب رضی اور شہاب الدین پر ناجائز تعمیرات کی سرپرستی کے الزامات

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) حیدرآباد، ایک مرتبہ پھر مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی تعمیرات کے الزامات کی زد میں آگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق لطیف آباد نزد دامن کوہسار متاثرین کالونی میں واقع پلاٹ نمبر 21، رقبہ 240گز، جو کہ وکیلا بیگم کے نام پر اسٹام پیپر پر درج ہے ، اس پر مبینہ طور پر تین منزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازت دی گئی، حالانکہ متعلقہ پراپرٹی کی رجسٹری اور ٹرانسفر کا عمل مکمل نہ ہونے کے دعوے سامنے آرہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران نے مبینہ طور پر لاکھوں روپے رشوت کے عوض مذکورہ تعمیرات کی منظوری دی۔ اس معاملے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اورنگزیب رضی اور شہاب الدین کے نام بھی سامنے آرہے ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کی۔علاقہ مکینوں کے مطابق متاثرین کالونی سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بغیر این او سی، بغیر منظور شدہ نقشوں اور غیر قانونی اضافی منزلوں کی تعمیرات معمول بنتی جارہی ہیں جبکہ متعلقہ ادارہ مبینہ طور پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے ۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ بااثر بلڈرز اور پراپرٹی مافیا کو رشوت کے عوض کھلی چھوٹ دی جارہی ہے جس کے باعث رہائشی علاقوں میں خطرناک اور غیر محفوظ عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ پر تعمیراتی اجازت نامہ جاری کرنے سے قبل نہ تو زمین کی ملکیت، رجسٹری اور اسٹام پیپر کی مکمل قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کی گئی اور نہ ہی دیگر قانونی تقاضے پورے کیے گئے ، جو سندھ بلڈنگ کنٹرول قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جارہی ہے ۔شہری، سماجی اور قانونی حلقوں نے وزیراعلیٰ سندھ، ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ کرپشن اسکینڈل کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری آپریشن کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔(نمائندہ جرأت)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں