مقبوضہ وادی میں منشیات کی وبا
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں مودی کی بھارتی حکومت نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف انسدادِ منشیات کی آڑ میں ریاستی نگرانی اور جبر کے اقدامات تیزکردیئے ہیں ، جس پر ماہرین اور مبصرین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کی کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک خودارادیت کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منشیات سے جوڑا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف کارروائی کو ایک حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سیاسی اختلافِ رائے کو مجرمانہ سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مودی حکومت متنازعہ قوانین جیسے” پی آئی ٹی این ڈی پی ایس ایکٹ ”اور جدید ٹریکنگ نظام متعارف کرارہی ہے۔بھارت ان کالے قوانین کو بطور ہتھیار استعمال کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہا ہے، جہاں منشیات کے خلاف کارروائی محض ریاستی نگرانی کا ایک بہانہ ہے۔ ان قوانین کے تحت کشمیری نوجوانوں کی جبری نظربندی دراصل تحریک آزادی کودبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قرار دینے کی ایک سوچی سمجھی چال ہے جو پہلے ہی بھارت کے غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پسماندگی کا شکار ہے۔ماہرین کے مطابق ان اقدامات کا مقصد نہ صرف شہری آزادیوں کو محدود کرنا بلکہ پوری آبادی کو ایک مسلسل نگرانی کے نظام کے تحت لانا ہے۔مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے ہی شدید خوف ودہشت اور عدم تحفظ کاماحول قائم ہے اور کشمیری نوجوانوں کی جبری گرفتاریوں کاسلسلہ جاری ہے۔ نیشنل کوآرڈینیشن میکانزم کے تحت مقبوضہ کشمیر کے تعلیمی اداروں اور زرعی شعبے کو بھی نگرانی کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔اسکولوں کو ”احتیاطی تعلیم” کے نام پر نگرانی کے مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جبکہ زرعی شعبے میں مداخلت کے ذریعے دیہی آبادی کو متاثر کیا جا رہا ہے،تاکہ کشمیری کسانوں کو ان کے روزگار سے محروم کیاجاسکے۔ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کا ایک مسئلہ بنا کر پیش کرہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کی ان پالیسیوں سے خطے میں ایک سرویلنس اسٹیٹ کے قیام کی عکاسی ہوتی ہے، جہاں سماجی بہبود کے نام پر شہریوں کی زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق پالیسیوں کو ترتیب دیا جائے تاکہ مقبوضہ علاقے میں میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عمر عبداللہ کی زیر قیادت حکومت کی ایک وزیر نے انسداد منشیات کی آڑ میں کشمیریوں کے گھروں کو مسمار اور جائیدادوںکو ضبط کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیرکی وزیر صحت اور تعلیم سکینہ ایتو نے کہا کہ ہندو اکثریتی خطے جموں میں منشیات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ جابرانہ کارروائیاں مسلم اکثریتی وادی کشمیر میںکی جارہی ہیں۔ میں وزیر صحت کی حیثیت سے بتارہی ہوں کہ جموں میں منشیات کے عادی افراد زیادہ ہیں، لیکن لوگوں کے گھرکشمیر میں گرائے جا رہے ہیں اور جائیدادوں پر قبضہ کیا جارہا ہے، کیوں؟ان کا بیان نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت قابض انتظامیہ کی طرف سے نام نہاد انسداد منشیات مہم کی آڑ میں جاری کارروائیوں کے تناظر میںسامنے آیاہے جس میں لوگوں کے گھروں کو مسمار اورضبط کیاجارہاہے۔ اس طرح کے تعزیری اقدامات قانونی اور اخلاقی طور پر بلاجواز ہیں۔حکام کی ترجیح نوجوانوں کو منشیات سے بچانا ہونا چاہیے نہ کہ خاندانوں کو سزا دینا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے انسداد منشیات مہم کی آڑ میں کشمیریوں پر ریاستی نگرانی اورظلم و جبر تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کالے قوانین کے تحت جبری نظربندیاں تحریک آزادی کو دبانے اور نوجوان نسل کو مجرم قراردینے کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو بدنام کرنے اور تحریک آزادی کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے منشیات کے استعمال کو سکیورٹی کے لئے خطرہ قراردے رہی ہے۔
نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون، چرس، ہیروئین، کوکین، بھنگ، براو?ن شوگر،گوند،رنگ پتلا کرنے والے محلول اور دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔ کشمیر کے بعض علاقوںمیں جان بوجھ کروہاں کی نوجواں نسل کوبربادکرنے کے لئے بھارتی فورسز منشیات کے پھیلائوکا حربہ استعمال کر رہی ہیں تاکہ نوجوان نسل کومنشیات کی لت پڑے اوروہ اسی میں لگے رہیںانہیں اپنی اوراپنے قوم کی فکر دامن گیر نہ رہے اوروہ اس طرف دیکھنے یاسوچنے کے قابل نہ رہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میںحالات کا جبر،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورروزافزوں مہنگائی بھی اس کا باعث بن رہی ہے،جبکہ منشیات کے استعمال کی ایک اہم اور بنیادی وجہ دین سے دوری اورتعلیمات دین پرمشتمل نسخہ ہائے کیمیاسے اجتناب اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات اور وعیدوں سے بے خبری ہے۔ لیکن سب سے افسوس سناک امریہ ہے کہ اس وقت منشیات کے استعمال کے بارے میں ہم بعض افسوس ناک مخمصوں میں مبتلا ہیں۔


