میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
25کروڑمال مویشی

25کروڑمال مویشی

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۵ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام/ ستار چوہدری

ہمارے ہاں سیدھا کام ہونا ہی مشکوک سمجھا جاتا ہے ، اگر کوئی ادارہ وقت پرکام کردے تو آدمی خود پریشان ہوجاتا ہے کہ آخرغلطی کہاں
ہوئی ہے ، یہاں سڑکیں بعد میں بنتی ہیں،افتتاحی تختیاں پہلے لگ جاتی ہیں، یہاں منصوبے مکمل بعد میں ہوتے ہیں،اشتہار پہلے چل پڑتے
ہیں، یہاں اسپتال میں دوائی بعد میں آتی ہے ،وزیراعظم کا دورہ پہلے ہوجاتا ہے ، یہاں ” بارش ” بعد میں ہوتی ہے ، شہر پہلے ڈوب جاتا ہے ،
یہاں قانون بعد میں جاگتا ہے ،پروٹوکول پہلے پہنچ جاتا ہے ، یہاں بجلی بعد میں آتی ہے ،بل پہلے پہنچ جاتا ہے ، یہاں نوکریاں بعد میں نکلتی
ہیں، سفارشیں پہلے پہنچ جاتی ہیں، یہاں امتحان بعد میں ہوتے ہیں،پیپر پہلے آؤٹ ہوجاتے ہیں، یہاں مجرم بعد میں پکڑا جاتا ہے ،پریس
کانفرنس پہلے ہوجاتی ہے ، یہاں حادثہ بعد میں ہوتا ہے ،بیانات پہلے تیار ہوتے ہیں، یہاں قرض بعد میں اترتا ہے ،سود پہلے چڑھ جاتا ہے۔ اور یہاں عوام بعد میں مرتے ہیں،اعدادوشمار پہلے زندہ ہوجاتے ہیں۔ہم نے ہرچیزکو الٹا کرکے ایسا نارمل بنادیا ہے کہ اب سیدھی بات بھی بغاوت لگتی ہے ، یہاں تعلیم مہنگی اورجہالت مفت ہے ، علاج کاروبار ہے اور بیماری قسمت۔ مزدورسارا دن جلتا ہے تاکہ شام کو چولہا جل سکے ،مگرجن کے گھروں کے اے سی کبھی بند نہیں ہوتے ،ریاست ان کیلئے مزید آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف رہتی ہے ۔ کبھی کبھی لگتا ہے ،یہ ملک عوام کیلئے نہیں بلکہ عوام سے چلنے والا ایک ایسا پمپ ہے جہاں سے دولت کھینچ کراوپرکی منزلوں میں بھیجی جاتی ہے ۔ اورپھرآتا ہے ہماراعظیم ٹیکس نظام، دنیا بھرمیں ریاستیں امیروں سے ٹیکس لے کرغریبوں پر خرچ کرتی ہیں تاکہ معاشرے میں کچھ توازن پیدا ہو،مگر پاکستان نے شاید معاشیات کو بھی الٹا پڑھ رکھا ہے ، یہاں غریب آٹے ،چینی،چائے ،بجلی،گیس،دوائی،یہاں تک کہ سانس لینے تک پر ٹیکس دیتا ہے ،اور اس کے دیے ہوئے پیسوں سے اشرافیہ کیلئے نئی گاڑیاں،نئے پروٹوکول اورنئی مراعات خریدی جاتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے پچیس کروڑ لوگ چند خاندانوں کے مالی سرپرست ہوں،اور ریاست ان خاندانوں کی خاندانی کمپنی۔
کمال یہ ہے کہ اس سارے کھیل کو اتنے اعتماد سے چلایا جاتا ہے جیسے یہی دنیا کا بہترین نظام ہو، ایک مزدور صبح فجر سے پہلے گھر سے نکلتا
ہے ، شام کو واپس آتا ہے تو اس کی جیب میں چند سو روپے ہوتے ہیں مگر ان چند سو روپوں میں بھی حکومت اپنا حصہ پہلے ہی کاٹ چکی ہوتی ہے ، وہ دکان سے بچوں کیلئے بسکٹ خریدے ،ٹیکس۔ موبائل لوڈ کروائے ،ٹیکس، بجلی کا بل بھرے ،ٹیکس، پیٹرول ڈلوائے ،ٹیکس۔۔ یعنی یہاں غریب آدمی زندہ کم اورٹیکس زیادہ دیتا ہے ۔دوسری طرف بڑے بڑے محلات ہیں،جن کی دیواریں شاید ٹیکس کے قانون سے بھی اونچی ہیں، وہاں دولت نسلوں سے جمع ہورہی ہے مگر خزانے تک اس کی خوشبو بھی نہیں پہنچتی،کبھی ایمنسٹی،کبھی رعایت،کبھی استثنیٰ، یوں لگتا ہے جیسے قانون بھی وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ چلتا ہے ، چھوٹا دکاندار پکڑا جاتا ہے ،ریڑھی والا جرمانہ بھرتا ہے ،تنخواہ دار طبقہ نچوڑا جاتا ہے ،مگر بڑے بڑے مگرمچھ ہمیشہ قانون کے جال میں سوراخ تلاش کرلیتے ہیں۔ایک شاعر نے شاید ایسے ہی کسی معاشرے کیلئے کہا ہوگا۔
الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگانِ عشق
آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کیلئے
ہم نے بھی معیشت کی آنکھیں بند کررکھی ہیں اوردعویٰ یہ ہے کہ ترقی کا دیدار کررہے ہیں،خزانہ خالی ہو توعوام پر بوجھ ڈال دو،اشرافیہ کی مراعات پرکبھی بات نہ کرو،شاید اسی لئے یہاں ہربحران کا علاج صرف غریب کی جیب میں تلاش کیا جاتا ہے ۔
ہمارے ہاں عجیب تماشا ہے ،حکومت جب بھی خزانہ خالی ہونے کا رونا روتی ہے ،سب سے پہلے غریب آدمی کی جیب ٹٹولی جاتی ہے ، ایسے ڈھونڈتے ہیں جیسے قومی خزانہ کسی مزدور کی بنیان کی خفیہ جیب میں رکھا ہو، بجلی مہنگی کردو،گیس مہنگی کردو،پیٹرول کی قیمتیں بڑھادو،چینی پر ٹیکس،آٹے پر ٹیکس،دوائی پرٹیکس،حتیٰ کہ بندہ اگر سانس بھی ذرا لمبا لے لے تو لگتا ہے اس پربھی کوئی سرچارج لگنے والا ہے ۔تنخواہ دارطبقے اورمزدور تو بیچارے دودھ دینے والی گائے بن چکے ہیں جسے روز دوہا جاتا ہے اورساتھ حب الوطنی کا لیکچر بھی دیا جاتا ہے ۔ادھر بڑے بڑے محلات،بڑے بڑے فارم ہاؤس،بڑے بڑے کاروبار،وہ ایسے مقدس مقامات ہیں جہاں شاید ایف بی آر بھی جوتے باہر اتار کر داخل ہوتی ہوگی۔اورکمال یہ ہے ،یہ سب کچھ اتنے سکون سے چل رہا ہے جیسے یہی انصاف ہو، دنیا میں امیرریاست کو پالتے ہیں،پاکستان میں ریاست امیروں کو پالتی ہے ، یہاں غریب بندہ اپنے بچوں کا دودھ چھوڑ کر بل بھرتا ہے اور اُس کے بلوں سے کسی بڑے صاحب کے پروٹوکول کی گاڑی میں پیٹرول ڈلوایا جاتا ہے ،کبھی کبھی تو واقعی لگتا ہے ،یہ ملک عوام کا نہیں،بلکہ چند خاندانوں کا مشترکہ فارم ہاؤس ہے ،جہاں پچیس کروڑ لوگ صرف مالی مویشی ہیں۔
جنگل تیرے ،پربت تیرے ،بستی تیری،صحرا تیرا۔۔۔
اب ذرا کمال انصاف بھی دیکھیں،یہاں اگرایک غریب آدمی دکان کے باہر ریڑھی لگالے تو فوراً قانون جاگ اٹھتا ہے ،اہلکارایسے پہنچتے
ہیں جیسے ملکی معیشت کو سب سے بڑا خطرہ یہی چنے بیچنے والا شخص ہو،مگردوسری طرف اربوں کھربوں کے کھیل چل رہے ہوتے ہیں،فائلیں
دب جاتی ہیں،قانون سو جاتا ہے ۔اوراحتساب کو شاید نیند کی گولیاں کھلا دی جاتی ہیں۔ہمارے ہاں امیر آدمی ٹیکس بچانے کیلئے ماہرمعاشیات بن جاتا ہے جبکہ غریب آدمی ٹیکس دیتے دیتے فلسفی، وہ بجلی کا بل ہاتھ میں پکڑ کر کافی دیر تک چھت کو دیکھتا رہتا ہے ،پھر آہستہ سے کہتا ہے ، ”یار یہ ملک چل کیسے رہا ہے ”؟ جواب بڑا آسان ہے ،یہ ملک غریب آدمی کے صبرپرچل رہا ہے ، وہ روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے تاکہ معیشت زندہ رہ سکے ۔اوردلچسپ بات یہ ہے ،جب بھی معیشت ڈوبنے لگتی ہے ،حکمران قوم سے قربانی مانگتے ہیں،قوم سے مراد ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے گھروں میں پہلے ہی قربانی دینے کیلئے کچھ نہیں بچا ہوتا، کبھی کہا جاتا ہے ایک وقت کھانا کھاؤ،کبھی بجلی کم استعمال کرو،کبھی پیٹرول بچاؤ،مگر کسی نے آج تک یہ مشورہ نہیں دیا کہ سرکاری عیاشیاں کم کرو،مراعات کم کرو،پروٹوکول کم کرو،کیونکہ یہاں اصل بچت عوام نے کرنی ہوتی ہے اور اصل خرچ اشرافیہ نے ۔
ایک اور شاعر شاید ہمارے ہی حالات دیکھ کر کہہ گیا تھا۔۔۔!!
وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے ،لیلیٰ نظر آتا ہے
پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی منظر ہے ،یہاں خزانہ خالی کرنے والے معیشت کے ڈاکٹر کہلاتے ہیں اوربل بھرنے والا عوام دشمن ،یہاں جوجتنا طاقتور ہے ،وہ اتنا ہی معصوم ہے اور جو جتنا کمزور ہے ،وہ اتنا ہی قصوروار!
بات صرف ٹیکس کی نہیں،سوچ کی ہے ، ریاست آخراپنے شہری کو سمجھتی کیا ہے؟ انسان یا صرف چلتا پھرتا اے ٹی ایم؟ یہاں غریب آدمی ساری عمربل بھرتے بھرتے بوڑھا ہوجاتا ہے ، مگر اُسے بدلے میں نہ اچھی تعلیم ملتی ہے ،نہ علاج،نہ انصاف،نہ سکون، اس کے حصے میں صرف قربانیاں آتی ہیں اور اشرافیہ کے حصے میں صرف مراعات۔اصل مسئلہ خزانے کا نہیں،نیت کا ہے ۔ اگر ریاست واقعی ماں ہوتی تو اپنے کمزور بچوں پر بوجھ نہ ڈالتی،ان کیلئے آسانیاں پیدا کرتی،مگر یہاں توالٹا حساب چل رہا ہے ،یہاں غریب آدمی حکومت کو پال رہا ہے ۔ اورحکومت چند امیرخاندانوں کو۔۔اورشاید اسی لئے یہ سوال اب ہرگلی،ہربازار،ہربل اورہرخالی جیب سے نکل رہا ہے ۔آخراس ملک میں ریاست عوام کیلئے ہے یا عوام ریاست کیلئے ؟ بہرحال مجھے تولگتا ہے ، یہ ملک عوام کا نہیں،چند خاندانوں کا مشترکہ فارم ہاؤس ہے ،جہاں پچیس کروڑ لوگ صرف مالی مویشی ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں