سندھ بلڈنگ، ناظم آباد میں غیر قانونی تعمیراتی مافیا پھر سرگرم
شیئر کریں
پلاٹ نمبر 2A-4/17اور 3D-26/12 پر دوبارہ تعمیرات، ڈپٹی کامران ملوث
منہدم عمارتوں کی جگہ کمرشل یونٹس کی غیر قانونی تعمیر، شہریوں میں تشویش بڑھنے لگی
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری کارروائیوں کی شفافیت ایک مرتبہ پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ ناظم آباد نمبر 2 کے پلاٹ نمبر 2A-4/17پر کچھ عرصہ قبل قواعد کے خلاف تعمیرات کو مسمار کیا گیا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر اسی مقام پر دوبارہ تعمیراتی کام برق رفتاری سے جاری ہے اور عمارت اب تکمیل کے قریب پہنچ چکی ہے ۔اسی طرح ناظم آباد نمبر 3 کے پلاٹ نمبر 3D-26/12 پر بھی منظور شدہ نقشے سے ہٹ کر کمرشل یونٹس کی تعمیر بدستور جاری ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے کی جانے والی انہدامی کارروائیاں صرف نمائشی اقدام محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ انہی پلاٹس پر دوبارہ غیر قانونی تعمیرات شروع ہو جانا متعلقہ افسران کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے ۔ ڈائریکٹر ڈیمولیشن ریحان خان کی نگرانی میں جاری آپریشنز کو بھی تنقید کا سامنا ہے ، جو بظاہر مستقل نتائج دینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈائریکٹر وسطی رؤف شیخ کی مبینہ غفلت اور ڈپٹی ڈائریکٹر کامران کی سرپرستی کے باعث بلڈرز مافیا دوبارہ متحرک ہو چکا ہے ۔ ان کے مطابق غیر قانونی تعمیرات نہ صرف سرکاری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ شہریوں کی زندگیوں اور املاک کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔شہری و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے ، ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ناظم آباد سمیت شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے ۔جرأت سروے ٹیم کی جانب سے متعلقہ افسران سے موقف لینے کے لئے رابطے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔(نمائندہ جرأت)


