میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ حکومت کا پروپیگنڈابے نقاب،سائیں سرکار کے ڈھول کا پول کھل گیا

سندھ حکومت کا پروپیگنڈابے نقاب،سائیں سرکار کے ڈھول کا پول کھل گیا

ویب ڈیسک
جمعه, ۸ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

کراچی یونیورسٹی روڈ پر میٹرو لائن بچھانے کادو سال کا منصوبہ تھا مگر سندھ حکومت پانچ سال میں منصوبے کا حتمی ڈیزائن نہ دے سکی
15 ارب کا منصوبہ 31 ارب تک پہنچ گیا، یقین سے کہتا ہوں منصوبہ 80 ارب تک جائیگا،ہم سے رقم کی ڈیمانڈ کرتے تھے،کمپنی

کراچی یونیورسٹی روڈ پر میٹرو لائن بچھانے والی کمپنی نے سائیں سرکار کے ڈھول کا پول کھول دیا ۔ سندھ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت ابھی تک ریڈ لائن منصوبے کا ڈیزائن تیار نہیں کرسکی۔ کھدائی کے بعد سارا ڈیزائن انہوں نے تبدیل کیا اور اب تک حکومت کے پاس حتمی ڈیزائن نہیں ہے ۔ اے ایم ایسوسی ایٹس کے مالک امین انور نے کہا کہ دو سال کا پراجیکٹ پانچ سال میں بھی مکمل نہیں ہوا ۔ جب ہمارے آرمی چیف اور باہر کی طرف سے کام جلد مکمل کرنے کا پریشر آ یا تو ہم خوش ہو گئے کہ ہمیں موقع مل جائے گا اور ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اور کام کرسکیں گے ۔ ٹھیکیدار امین نے سندھ حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ اپنے پیسے بنانے کے لیے سب کچھ کررہے ہیں ،ہم سے رقم کو ڈیمانڈ کرتے تھے ہم بار بار کہہ رہے تھے عدالت میں بھی ہم نے درخواست کی کہ نیب کو بھیجا جائے تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے جو زمہ داروں کا تعین کرے ۔ انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹر تو ذمہ دار نہیں ہے ڈسٹرکٹ بورڈ نے بھی ان کے خلاف اور ہمارے حق میں فیصلہ دیا اگر ان کا فیصلہ غلط ہے تو دنیا میں جہاں چاہے چیلنج کریں معاملہ اینٹی کرپشن میں لے جائیں ۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا چائنیز کمپنی بھی سندھ حکومت سے پریشان ہے کہ ان کو انصاف نہیں مل رہا ہے ۔ کسی کنٹریکٹ کی پاسداری نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں بھی کام کیا ہے ہزارہ ایکسپریس وے کا منصوبہ 32 ماہ کا تھا ہم نے 26 ماہ میں کام مکمل کیا۔ چینی سفارت کا اپنے ملک کی کمپنیوں کو منع کر رہے ہیں کہ سندھ حکومت کے ساتھ کام نہ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے 13 اپریل کو وزیراعلی کو خط لکھا 15 اپریل کو ہمیں انہوں نے ڈیزائن دیا اور 20 تاریخ کو ہمارا کنٹریکٹ کینسل کر دیا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی طرف سے ایف ڈبلیو او سے تین ماہ میں کام مکمل کرانے کے دعوے پر کہا یہ کام ہم بھی تین مہینہ میں مکمل کرسکتے تھے ابھی جتنا سٹاف ہے وہ میرا ہے جو کام کر رہا ہے پھر اپ نے جو چھ سال میں نہیں کیا وہ کام تین ماہ میں کر دیں گے۔ ایف ڈبلیو او جو کام کر رہے ہیں وہ باقی کام تو نہیں کر رہے نا اوریجنل کام تو ہم نے ہی کرنا ہے کہا کہ ہم عالمی ثالثی عدالت میں چلے گئے تو ملک کا نقصان ہوگا اور ہم ایسا کرنا نہیں چاہتے انہوں نے بتایا کہ زیڈ کے بی نامی کمپنی نے صرف 15 فی صد کام کیا ہے اور ہم نے 40 فی صد کام کیا اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار کہتی ہے 15 ارب روپے کا منصوبہ 31 ارب تک پہنچ گیا میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ منصوبہ 80 ارب تک جائے گا کیوں کہ اگر یہ پانچ سال میں ڈیزائن نہیں تیار کر سکے تو اتنے لوگوں کو اور پیسے دے کر ضائع کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ اس لیے میں نے کہا ہے کہ کمیشن بنائیں تاکہ پتہ چلے کہ کس کی غلطیاں تھی ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وزیر اعلیٰ نے چار سال میں ایک بار بھی پروجیکٹ کا دورہ نہیں کیا اور اب روزانہ چکر لگا رہے ہیں۔ اگر وہ پہلے ایسا کر لیتے تو افسروں کو موقع نہ ملتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں