این آئی سی وی ڈی، طاہر صغیر کی سرپرستی میں دُہرا معیار نافذ
شیئر کریں
پروفیسر ، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور رجسٹرار ،اوقات کی پابندی سے بے نیاز
غریب پیرا میڈکس یا لوئر اسٹاف کے لیے انتہائی سخت ضابطے،سخت سزائیں
این آئی سی وی ڈی میں دُہرے معیار اور الگ الگ پالیسیوں کے نفاذ کے حوالے سے طاہر صغیر کے خلاف یہ انتہائی سنگین الزامات اور تشویشناک معاملات سامنے آ رہے ہیں۔ ایسی امتیازی پالیسیوں نے ادارے کے اندر انصاف، شفافیت اور یکساں احتساب پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔آخر این آئی سی وی ڈی میں دو مختلف نظام اور دو الگ قوانین کیوں چلائے جا رہے ہیں؟ایک قانون میڈیکل فیکلٹی کے لیے اور دوسرا پیرا میڈکس اور لوئر اسٹاف کے لیے ۔اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو پھر پروفیسر صاحبان، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور رجسٹرار حضرات کو اپنی مرضی سے آنے جانے کی اجازت کیوں ہے ؟ ان کے لیے نہ سخت بائیومیٹرک سسٹم موجود ہے ، نہ اوقاتِ کار کی پابندی، اور نہ ہی دورانِ ڈیوٹی پرائیویٹ پریکٹس کرنے پر کوئی مؤثر احتساب نظر آتا ہے ۔دوسری جانب اگر کوئی غریب پیرا میڈکس یا لوئر اسٹاف معمولی تاخیر کا شکار ہو جائے یا کسی چھوٹی غلطی کا مرتکب ہو تو فوراً اس کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے یا اس کے خلاف ڈسپلنری کارروائی شروع کر دی جاتی ہے ۔آخر، یہ دُہرا معیار کیوں؟اگر ادارے کے قوانین سب کے لیے یکساں ہیں تو پھر ان پر عملدرآمد بھی سب پر برابر کیوں نہیں کیا جاتا؟احتساب صرف کمزور ملازمین کے لیے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر اُس فرد کے لیے ہونا چاہیے جو ادارے کے قوانین کی خلاف ورزی کرے ، چاہے اس کا عہدہ یا حیثیت کچھ بھی ہو۔چیئرمین بورڈ آف گورنرز اور صوبائی وزیر صحت کو چاہیے کہ وہ ان سنگین معاملات اور طاہر صغیر کی انتظامیہ کے تحت مبینہ دُہری پالیسیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات اور مؤثر کارروائی عمل میں لائیں۔این آئی سی وی ڈی میں انصاف، برابری اور ایک قانون سب کے لیے ناگزیر ہے ، بصورتِ دیگر یہ امتیازی نظام مسلسل سوالات اور تنقید کی زد میں رہے گا۔


