حیدر آباد،نیو سبزی منڈی میں غیر قانونی الاٹمنٹس اور چائنا کٹنگ
شیئر کریں
نیو سبزی منڈی ماسٹر پلان میں بار بار تبدیلیاں، بااثر گروہ کو فائدہ پہنچانے کے الزامات
اربوں کی کرپشن اور غیر قانونی الاٹمنٹس، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں درخواست جمع
حیدرآباد کی نیو سبزی منڈی ہالا ناکہ میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن، غیر قانونی الاٹمنٹس اور چائنا کٹنگ کا ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آ گیا ہے ، جس کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے ۔درخواست گزاروں کے مطابق مارکیٹ کمیٹی کے بعض افسران اور بااثر افراد نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے سرکاری زمین کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے من پسند افراد میں بانٹ دیا۔ اس سلسلے میں مختلف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں، تاہم ان الزامات پر متعلقہ افراد کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیو سبزی منڈی کے ماسٹر پلان میں مبینہ طور پر سات مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں قیمتی زمین مخصوص گروہ کے ہاتھوں منتقل ہونے کے الزامات سامنے آئے ۔درخواست میں خاص طور پر ظہیرالدین ولد محمد رمضان کا نام لیا گیا ہے ، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہیں اور ان سے منسلک افراد کو قواعد کے برعکس متعدد پلاٹس اور دکانیں الاٹ کی گئیں۔ 4 دسمبر 1994کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایک لائسنس ہولڈر کو صرف ایک پلاٹ یا دکان دینے کی اجازت تھی۔شہریوں اور تاجر برادری نے شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، غیر قانونی الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ماہرین کے مطابق اگر اس اسکینڈل کی مکمل تحقیقات ہوئیں تو یہ حیدرآباد کی تاریخ کے بڑے کرپشن کیسز میں شمار ہو گا۔(نمائندہ جرأت)


