میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی

ویب ڈیسک
جمعه, ۸ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بھارت میں رواں مالی سال کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 96 اعشاریہ 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رواں مالی سال کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 96 اعشاریہ 5 فیصد کی زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ مالی سال کے دوران بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 10 ارب ڈالر رہی تھی جو اب کم ہو کر صرف 35 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے، یہ ریکارڈ کم ترین سطح بتائی گئی ہے۔ اس شدیدگراوٹ کی بنیادی وجہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے ہائی پروفائل ابتدائی عوامی پیشکشوں (IPOs) سے سرمایہ نکالنا اور بھارتی کمپنیوں کی طرف سے بیرون ملک سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں نے رواں مالی سال کے دوران بھارت سے 49 ارب ڈالر کی رقم نکال لی۔ جب کہ پچھلے مالی سال کے دوران بھی وہ 41 ارب ڈالر کی رقم بھارت سے نکال کر لے گئے تھے۔کچھ عرصہ قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی فون پر نیا ٹیکس عائد کرکے بھارت کو ایک اور بڑے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت میں بننے والے ایپل آئی فون کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک اور بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں صرف وہی آئی فون فروخت ہوں گے جو امریکا میں ہی بنے اور تیارکیے گئے ہوں ناکہ بھارت یا کسی اور جگہ سے درآمدکیے گئے ہوں۔ ایسے آئی فون کی امریکا میں فروخت پر ایپل کمپنی کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا، اپیل کے مالک ٹم کک کو اس حوالے سے پہلے ہی آگاہ کیا جا چکا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں بھارت کی نیٹ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 96.5 فیصد کی شدید کمی کے بعد صرف 35 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گئی، جو گزشتہ سال کے 10 ارب ڈالر کے مقابلے میں ایک ریکارڈ کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ بلیٹن میں اس کمی کی وجہ بڑی سطح پر سرمایہ واپس لے جانے، منافع بخش ابتدائی عوامی پیشکشوں ( آئی پی اوز) سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اخراج، اور بھارتی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری میں اضافے کو قرار دیا گیا۔ آئی پی او مارکیٹ میں ہنڈائی موٹر اور سوِگی جیسے اداروں کی فہرست میں آنے سے طویل مدتی سرمایہ کاروں نے بھاری منافع حاصل کر کے مارکیٹ سے سرمایہ نکالا۔ دوسری طرف بھارتی کمپنیوں نے بھی عالمی سپلائی چین میں تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے بیرون ملک سرمایہ کاری میں اضافہ کیا۔یہ سب اس وقت ہوا جب مجموعی ایف ڈی ا?ئی میں مضبوط اضافہ دیکھا گیا، مگر غیر ملکی اداروں کی جانب سے سرمایہ نکالنے اور بھارتی کمپنیوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے باعث نیٹ ایف ڈی آئی میں کمی واقع ہوئی۔ مالی سال 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھارت سے 49 ارب ڈالر کا سرمایہ نکالا جو گزشتہ سال کے 41 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ بھارت کی جارحانہ سفارتی اور عسکری پالیسیوں کے مہنگے اثرات اب معیشت پر نمایاں ہونے لگے۔مالی سال 2024 کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری تقریبا 96.5 فیصد تک کم ہوگئی ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
نریندر مودی کے شائننگ انڈیا کے بلند بانگ دعوے زمینی حقائق کے سامنے ماند پڑ گئے ہیں ، جہاں معاشی اشاریوں نے حکومتی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے۔ بھارت کو شدید مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ پیدا ہونے والی صورتحال نے بھارتی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔بھارت میں شیئرز کی قیمتیں مارچ 2020 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں جس سے سرمایہ کاروں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ بھارتی بینکوں کے حصص میں 2.5 فیصد تک کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو بینکنگ نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی تجارتی دباؤ اور علاقائی تنازعات نے بینکوں کی مالی حالت کو انتہائی کمزور بنا دیا ہے۔نجی شعبے کی کارکردگی بھی گزشتہ 3 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جو ملکی ترقی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ بھارت کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد پر آ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافے نے بھارتی معیشت کو بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس صورتحال میں توانائی کی درآمدات مزید مہنگی ہو گئی ہیں جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔بھارتی حکام نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 1.3 فیصد تک اضافے کا اعتراف کرتے ہوئے مزید خرابی کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی کی غیر متوازن پالیسیوں کی وجہ سے بھارت مسلسل غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو رہا ہے۔ترسیلات زر اور کرنسی کے بحران نے بھارتی معاشی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ملکی معیشت کو درپیش ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی دکھائی دیتے ہیں جس سے مستقبل قریب میں معاشی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں