دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !
شیئر کریں
عطا محمد تبسم
اس وقت دنیا کروٹیں نہیں لے رہی بلکہ یہ پورا نظام جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ تبدیل ہونے جارہا ہے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے گزشتہ 80 سال سے اس میں ہر طرح کی تبدیلیاں آ نے کے امکانات ہیں ، ہم جسے دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ہمیں روز مرہ کے واقعات سے فرصت نہیں ہے ۔ ہمیں روز مرہ کے واقعات پہ اپنی اتنی توانائی خرچ کرنی چاہیے ۔ جتنا روز مرہ کی ضرورت ہے اصل میں تو ہم یہ دیکھیں کہ صدیوں میں آنے والی تبدیلی آ رہی ہے ۔دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ۔ اس سے کون کس حد تک فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اپنی رائے اور اپنے نظریات کے متعلق سے نیا رخ دے سکتا ہے اور ہمارا نظریہ کسی کے خلاف نہیں ہے ہمیں سب کو ساتھ لے کے چلنا چاہیے اور سچائی اور اصول کی بنیاد پر ساتھ دینا چاہئے ۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں۔ سب کو مل کے آگے بڑھنا ہے اس تبدیل ہوتی دنیا میں ۔ ہمارے سامنے کوئی وژن ہو ہم لوگ غور کریں۔ لمبے عرصے کے لیے سوچیں، دس سال بعد، 20سال بعد، 40سال کے بعد جو دنیا بننے جا رہی ہے وہ ہم کتنی بہتر بنا سکتے ہیں۔ پہلے ہم نہیں بنا سکے یا جتنی بھی بنا سکے اتنی ہی بن سکی یہ اس کے لیے ظاہر ہے علمی میدان بھی ہے ۔ تحقیق کا میدان بھی ہے ، سماجی دائرے میں بھی سرگرمی ہے تو وہ ہم میں سے ہر ایک کو اس بارے میں کوشش کرنی چاہیے ۔ مفتی منیب الرحمن علم کا دریا بہاتے ہوئے ، سوچ کے نئے زاویہ وا کر رہے تھے ۔ سیمنار کے شرکاء میں اہل علم ، دانشور، صحافی، علمائ، اورمختلف مسالک اور اداروں کے لوگ تھے ، بین الاقوامی قانون انسانیت کی خلاف ورزیاں اور مذہبی طبقات کے ممکنہ کردار پر بات چیت ہورہی تھی۔ اس سیمینار کا اہتمام آئی پی ایس اسلام آباد، اور آئی سی آر سی نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر انیس نے اپنے کلیدی خطاب میں ، مختلف مسالک کے علماء کو ایک عملی تجویز یہ بھی دی کہ وہ کچھ گھنٹے ، دوسرے مسالک کے
اداروں میں گزاریں، تاکہ ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہوسکیں، اور ایک دوسرے کے بارے میں جو خیالات ان کے ذہنوں میں
موجود ہیں۔ وہ ختم ہوں اور غلط فہمیاں دور ہوں۔چیئرمین آئی پی ایس جناب خالد رحمن نے افتتاحی خطاب میں اس سیمینار کی اہمیت پر
روشنی ڈالی۔ خالد رحمن نے آئی پی ایس کو نہ صرف ملک میں بلکہ تحقیق اور علم کی دنیا میں روشناس کرایا ہے ، بلکہ آئی پی ایس کو ایک معتبر اور اہم
اور حساس موضوعات پر گفتگو کا پلیٹ فارم بھی بنایا ہے ، اس لیے علمائ، بیوکریسی، سفارت کاری کے میدان میں آئی پی ایس ایک اہم ادارہ
بن گیا ہے ۔ سیمینار میں ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر کی مختصر اور معلومات سے بھرپور گفتگو میں جہاد ، آداب جنگ، اخلاقیات ،جنگ کے دوران امن
مذاکرات پر بات ہوئی۔ حافظ ثانی نے جنگ کے دوران حسن سلوک کے واقعات بتائے ۔صحافی عبدالجبار ناصر نے رپورٹنگ کے تجربات
بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب سوشل میڈیا قابل اعتماد نہیں رہا اور اب پرنٹ میڈیا کو اپنی تجدید کا موقع مل رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ
وہ اپنی ساکھ اور کریڈیبلٹی کو قائم کرے ۔مفتی اشفاق نے اس بات کو واضح کیا کہ اسلام ہمیشہ صلح کی دعوت دیتا ہے ۔ صحافی فیض اللہ خان
نے 9/11 کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ، کچھ مذہبی طبقات اور تنظیموں میں تشدد پسندی کے جواز اور اثرات پر بھی بات کی ، انھوں نے
کہا کہ میڈیا میں تربیت کی کمی ہے ، لیکن گذشتہ تجربات کے بعد اب پاکستان کا میڈیا محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ۔ آئی سی
آر سی کے ڈاکٹر ضیا اللہ رحمانی آئی سی آر کے کردار اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ مظلوم افراد کے لیے روشنی کی ایک کرن ہے ، اور مشکل
حالات کے باوجود ہم نے ہر جگہ مظلوموں کی امداد کی کوشش کی ہے ، اور اس سیمنار کا مقصد بھی یہی ہے کہ دنیا کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کا
پیغام دیا جائے کیونکہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہے ، اور دنیا میں امن مذاکرات ہی کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے ۔ اس سمینار میں گوانتا
ناموبے میں 20 سال امریکہ کی قید میں رہنے والے صنعتکار و تاجر سیف اللہ پراچہ اور ان کے صاحبزادے بھی تھے ، انھوں نے قید کے
واقعات سنائے ،جس نے سامعین کو رلا دیا۔
سیمینار کے مہمان خصوصی جامعہ رشیدیہ کے مولانا مفتی عبدالرحیم کا خطاب بھی چشم کشا تھا۔ انھوں نے کہا اقوام عالم نے جو قوانین عالم
انسانیت کے تحفظ کے لیے بنائے تھے ۔ آج یہ قوانین ان کے منہ پر تماچہ ہیں۔ انھوں نے جہاد اور قتال کے آداب کا بھی ذکر کیا۔ انھوں
نے بین الاقوامی فورم پر جاکر اپنا موقف پیش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں مذہبی جماعتوں اور دینی حلقوں
میں علماء جنگ کے آداب اس کی شرائط پر بات نہیں کرتے ، صرف فضائل بیان کر دیے جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے
آداب میں وہ ذمہ داریاں بھی بتائی ہیں کہ جنگ آپ کیسے کریں گے ۔کن حالات میں کریں گے ۔کن شرائط کے ساتھ کریں گے ۔ نوجوانوں کو اپنے مدارس میں اپنے مذہبی جماعتوں کو یہ بات ہم اچھے طریقے سے بتائیں کہ جیسے وضو کے اور نماز کے فرائض واجبات ہیں تو
جنگ کے بھی کچھ آداب ہیں کچھ فرائض ہیں ایسا نہیں ہے کہ کہیں سے بھی کسی نے کوئی بات کر لی اور آپ اٹھا کے مارنا شروع کر دیں ۔ جو
مسلمان غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں وہاں جا کر وہ مختلف طریقوں سے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیں کیا یہ شرعا جائز ہے ؟ ڈیڑھ کروڑ
مسلمان امریکہ میں ہیں۔ تین کروڑ یورپ میں ہیں۔ چند نوجوان جو ویزا لے کر جاتے ہیں۔ جو اس کاعہد کر کے جاتے ہیں کہ وہ ان ممالک
میں ان کے قانون کی پاسداری کریں گے ۔ وہاں وہ اپنے احتجاج اور رویہ سے کروڑوں مسلمانوں کے لیے خطرات پیدا کردیتے ہیں۔عہد
کی پاسداری مسلمانوں میں بہت ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ملک کے اندر بھی بات چیت اور مذاکرات کرنے چاہئے ، اور
مذاکرات میں طے لیے جانے والے معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہئے ۔آئی پی ایس اور آئی آر سی ، صحافت، مدارس، قانون دانوں اور
معاشرے کے سوچنے والے افراد کے لیے یہ سیمنار ایک روشن چراغ ہے ۔ ایسے چراغوں کو مزید روشن ہونا چاہیے ۔
٭٭٭


