عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم
حالیہ برسوں میں روایتی جیو پولیٹیکل دانشمندی یہ رہی ہے کہ عالمی نظام طاقت کے تین مراکز کی طرف بڑھ رہا ہے ۔اس نظریہ میں کہا گیا ہے کہ طاقت بنیادی طور پر اقتصادی پیمانے اور فوجی استعداد سے ابھرتی ہے۔ اب طاقت کا پیمانہ یہ نہیں رہا۔عالمی طاقت کا چوتھا مرکز تیزی سے اُبھر رہا ہے اور وہ ایران ہے۔ایران اقتصادی اور فوجی لحاظ سے باقی تین طاقتوں کا حریف نہیں ہے۔ اس کے بجائے ایران نے اپنی طاقت عالمی معیشت میں توانائی کے سب سے اہم پوائنٹ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول سے حاصل کی ہے۔
آبنائے ہر مز طویل عرصے سے بین الاقوامی گزرگاہ رہی ہے جس کے ذریعہ تمام ممالک کے جہاز سفر کرسکتے تھے لیکن اس سال امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم نے ایران کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مرضی سے فوجی رکاوٹ پیدا کرے۔دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً20 فی صد فراہمی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ مستقل قریب میں ان سپلائی روٹس کا کوئی حقیقی متبادل نہیں ہے۔اگر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مہینو ں یا برسوں برقرار رہتا ہے تو عالمی نظام کی دوبارہ تشکیل ہوگی جس سے امریکہ کو نقصان ہو گا۔
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت عارضی ہے۔ یہ توقع عام کی جارہی ہے کہ امریکہ اور اتحادی بحری فوجیں جلد ہی صورتحال میں استحکام پیدا کریں گی اور تیل کی پہلے کی طرح فراہمی دوبارہ شروع ہوجائے گی۔اس توقع میں یہ خرابی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کئے بغیر اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔آج آبنائے ہرمز ٹینکروں کیلئے کھلی ہے۔جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ، تیل کی ٹریفک90 فی صد رک گئی ہے اس لئے نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ہر جہاز کو ڈبو رہا ہے بلکہ اس لئے کہ حملے کے خطرہ کے پیش نظر انشورنس کرنے والوں نے جنگ کے خطرہ کا تحفظ واپس لے لیا ہے یا اس کی دوبارہ قیمت مقرر کردی ہے۔ہر چند روز بعد مال بردار جہاز کو نشانہ بنانے سے خطرہ نا قابل قبول ہو جاتا ہے۔
توانائی کا یہ بحران دنیا کو بدل کر رکھ دے گا
سری لنکا اور میانمار ایندھن کی راشننگ کر ہے ہیں۔فلپائن نے گیس اور بجلی کو بچانے کیلئے کام کا ہفتہ چار دن کا کردیا ہے۔ بنگلہ دیش نے مختصر عرصے کیلئے اپنی یونیورسٹیوں کو بند کردیا ہے تاکہ گھروں اور کاروبار کیلئے بجلی بچائی جا سکے۔بھارت بھر میں گھر اور ریستوران گیس کی کمی کی وجہ سے پکوان لکڑی کی آگ پر پکا رہے ہیں۔ائیر لائنیں اپنی پروازیں منسوخ کر رہے ہیں۔بھارت، انڈونیشیا اور ویت نام زیادہ کوئلہ جلا کر گیس کی زیادہ قیمتوں کا جواب دے رہے ہیں۔ لیکن طویل مدت میں یہ بحران خاص طور پر ایشیا اور یوروپ میں زیادہ صاف ٹیکنالوجیز کی طرف لے جائے گا۔یہ تیل کا پہلا بحران ہے جس میں تیل اور گیس کے صاف متبادل سستے اور بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں۔ ان صاف متبادل میں سولر پینلز،ونڈ ٹربائنز،الیکٹرک وہیکلز اور بیٹریز شامل ہیں۔
جب24مارچ کو فلپائن نے توانائی کی قومی ایمرجنسی نافذ کی تو منیلا کے کار شاپرز چینی کار میکرBYD کے شورومز میں جمع ہو رہے تھے اور الیکٹرک وہیکلز خرید رہے تھے۔ جرمن گاہکوں میں سولر وینڈرز اور اور انسٹالرز کیلئے دلچسپی میںاچانک اضافہ ہو رہا ہے ۔ برطانیہ میں ہیٹ پمپ کی تنصیبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں الیکٹرک رکشائوں کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت میں انڈکشن کْکٹاپس کی آن لائن فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ویتنام ملک کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھر کا منصوبہ ترک کرنا چاہتا ہے اور اس کی بجائے تجدید نو اور بیٹری اسٹوریج منصوبہ شروع کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال
چین سے سستے سولر پینلز کے سیلاب کے بعد پاکستان کا توانائی کا نظام بدل گیا ہے اور مائع قدرتی گیس کی حالیہ قلت سے تحفظ دلانے میں مدد کی ہے۔سولر اب اس کی بجلی کا30 فی صد پیدا کرتا ہے۔یہ شرح2020 میں محض3 فی صد تھی۔سینٹر برائے ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائیر نے تخمینہ لگایا ہے کہ سولر کی اچانک ترقی سے پاکستان کو اس سال قدرتی ایندھن کی درآمد میں7 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔یہ پاکستان کو حقیقی درد سے بچائے گا۔حالیہ امریکی تاریخ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ تیل اور گیس پر انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔توانائی کا صحیح تحفظ زیادہ صاف اور الیکٹریفائیڈ مستقبل کی طرف تیزی سے ترقی کرنے میں ہے۔
ٹرمپ ایران کی جنگ کا کنٹرول کھو چکے ہیں!
اس جنگ میں مرکزی سوال کبھی یہ نہیں رہا کہ آیا ایران کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔سوال یہ تھا کہ آ یا درد اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ تاہم اب تک ایران نے شکست قبول نہیں کی ہے۔ شہادت اور مزاحمت کے کلچر نے ایرا ن کی قیادت کو اقتدار میں رکھاہوا ہے۔
٭٭٭


