میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جنگ کے ایک ماہ بعد ایران کی حملہ آور صلاحیت برقرار،خلیجی ممالک پھر نشانہ

جنگ کے ایک ماہ بعد ایران کی حملہ آور صلاحیت برقرار،خلیجی ممالک پھر نشانہ

ویب ڈیسک
منگل, ۳۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

پیر کی صبح امارات، بحرین اور سعودی عرب میں حملے، ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹ نکلا
امارات میں فضائی خطرے کے سائرن بجنے اور متعدد حملوں کی اطلاعات موصول

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ایک ماہ بعد بھی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت برقرار دکھائی دے رہی ہے، جب کہ پیر کی صبح بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں فضائی خطرے کے سائرن بجنے اور متعدد حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ علاقائی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران خلیج کے مختلف حصوں میں حملوں کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ دبئی کے اوپر فضائی خطرے کے سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئیں اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیے جانے کے مناظر دیکھے گئے۔ بحرین میں بھی کئی مقامات پر سائرن بجنے کے بعد رہائشیوں نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بتایا کہ مشرقی صوبے میں فضائی دفاعی نظام نے پانچ بیلسٹک اور ایک کروز میزائل کو مار گرایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی میزائل صلاحیت کو نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس حملوں میں اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق گزشتہ روز اس کی فضائی حدود میں 14 میزائل اور 12 ڈرونز کی نشاندہی کی گئی، جب کہ اس سے ایک رات قبل 17 بیلسٹک میزائل ریکارڈ کیے گئے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی ایک روز قبل اپنی فضائی حدود میں 16 میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ حملوں کا سلسلہ اس وسیع تر ردعمل کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جو ایران اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے جواب میں دے رہا ہے۔ ایران میں اسٹیل پلانٹس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بحرین میں ایلومینیم کی بڑی تنصیب کو نقصان پہنچنے اور امارات میں بھی ایلومینیم کے ایک بڑے صنعتی مرکز کو ہدف بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں