میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، صدر ٹاؤن مخدوش عمارت پر چوتھی منزل تعمیر مکینوں کی جان خطرے میں

سندھ بلڈنگ، صدر ٹاؤن مخدوش عمارت پر چوتھی منزل تعمیر مکینوں کی جان خطرے میں

ویب ڈیسک
منگل, ۳۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

افسران اور بیٹر گٹھ جوڑ ،ڈپٹی ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور بیٹر فرحان کے خلاف مکینوں کا شدید احتجاج
ملوث افسران کے خلاف فوری انکوائری کا مطالبہ خلاف ضابطہ تعمیر پر اتھارٹی کی خاموشی برقرار

ضلع جنوبی کے معروف صدر ٹاؤن میں قائم قدیم رہائشی علاقے رام سوامی میں پلاٹ نمبر 79/1آر ایس 2 کمزور بنیادوں کی مخدوش عمارت پر چوتھی منزل کی تعمیر نہ صرف خلاف ضابطہ ہے بلکہ عمارت کے ساختی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے ۔ ماہرین تعمیرات کے مطابق اس طرح کی غیر معیاری تعمیر کسی بھی زلزلے یا معمولی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ جس سے مکینوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عمارت کی بنیاد میں معیاری مواد کا استعمال نہ کرنے اور بلڈنگ بائی لاز کی سنگین خلاف ورزی کے باعث یہ تعمیر کسی بھی وقت تباہی کا سبب بن سکتی ہے ۔عینی شاہدین اور علاقہ مکینوں کے مطابق یہ غیر قانونی تعمیر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور بیٹر فرحان کے مبینہ گٹھ جوڑ سے ممکن ہوئی۔الزام ہے کہ افسران نے نہ صرف تعمیر کے دوران خاموشی اختیار کی بلکہ بارہا کی جانے والی شکایات کو بھی دبانے کے ساتھ ساتھ متعلقہ ریکارڈ میں ردوبدل کیا۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعمیر کے دوران کسی بھی مرحلے پر ایس بی سی اے کی جانب سے کوئی معائنہ نہیں کیا گیا، جو افسران کی ملی بھگت کی واضح دلیل ہے ۔اس صورتحال پر علاقہ مکینوں نے سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے ۔ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی چوتھی منزل کو فوری طور پر گرایا جائے اور ملوث افسران ڈپٹی ڈائریکٹر قمر قائم خانی اور بیٹر فرحان کے خلاف اعلیٰ سطح پر انکوائری کر کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کی جانب سے بار بار کی جانے والی نظر اندازی جان بوجھ کر کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔ مقامی مکینوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری طور پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ مزید سخت گیر احتجاج کریں گے ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بھی علاقے میں خلاف ضابطہ تعمیرات کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، مگر اتھارٹی کی جانب سے کسی بھی بڑے افسر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں