میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

ویب ڈیسک
منگل, ۳۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے ”ہم نے ختم کر دیے گئے ہیں”۔ ان حملوں کے بعد امریکی کمانڈر اور فوجی اڈوں سے فرار ہو کر مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ایران کی کارروائیوں نے امریکہ کی فوجی موجودگی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایران کی افواج اور عوام غیور ہیں اور ڈٹ کر اسلام دشمنوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ الحمدلللہ ایران اکیلا ہی امریکہ اسرائیل پر کافی ہے۔وہ اسلام کے تشخص مسلمانوں کے وجود کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اللہ پاک انہیں کامیابیاں دے رہا ہے۔ایرانی سربراہ کا کہنا ہے کہ ہم لمبی جنگ کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مسلمان ممالک کے سربراہوں سے کہا ہے کہ آج بھی وقت ہے کہ وہ آپس کے اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں تو اسلام دشمن ممالک کسی مسلمان ملک کا کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
امریکی اخبار کی ایک اہم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں قائم امریکا کے متعدد فوجی اڈے شدید نقصان کے باعث ناقابلِ رہائش ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کو ہنگامی طور پر ہوٹلوں اور دفتری عمارتوں میں منتقل کرنا پڑا۔ اس غیر معمولی صورتحال نے امریکی فوجی نظام کو متاثر کیا ہے اور اب امریکی زمینی افواج کا بڑا حصہ روایتی اڈوں کے بجائے دور سے کارروائیاں کرنے پر مجبور ہے جبکہ صرف محدود فضائی عملہ ہی متاثرہ اڈوں پر موجود رہ گیا ہے۔
ایرانی حملوں میں خلیجی ممالک کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں قائم اہم امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں العدید ایئر بیس، علی السالم ایئر بیس اور پرنس سلطان ایئر بیس شامل ہیں، جبکہ ان حملوں میں متعدد امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔ مجموعی طور پر 13 میں سے بیشتر امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے ہیں اور خاص طور پر کویت میں موجود تنصیبات کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے جس کے بعد امریکی افواج کو اپنی موجودگی اور آپریشنل طریقہ کار تبدیل کرنا پڑا۔ادھر پاسداران انقلاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے نئے ٹھکانوں کی نشاندہی کریں جبکہ ایران نے امریکا پر شہری علاقوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس صورتحال نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے کیونکہ بدلتی ہوئی جنگی حکمت عملی اور فوجی اڈوں کی کمزوری نے امریکا کی تیاریوں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ 30 ویں روز میں داخل ہو گئی، ایران کے پاسداران انقلاب نے حملوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک و زخمی کرنے اور ایف 16 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیل کے لبنان اور ایران میں شہری علاقوں پر وحشیانہ حملے جاری ہیں۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جنوبی فارس میں ایک امریکی ایف 16 طیارہ مار گرایا، طیارہ سعودی ایئر بیس پہنچنے سے پہلے کریش ہوگیا، مقبوضہ فلسطین اور خطے میں امریکی و اسرائیلی صنعتوں پر شدید حملے کئے ہیں، آئندہ ایرانی صنعتوں پر حملہ ہوا تو نتیجہ سوچ سے برا ہوگا۔ حیفہ میں اسٹریٹجک الیکٹرونک وار فیئر سینٹر کو نشانہ بنایا ہے، بن گورین ایئر بیس پر ایندھن کے ذخیروں پر بھی حملہ کیا گیا۔روس نے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کی عالمی برادری کو بھرپور مخالفت کرنی چاہئے۔ ایران کی جوہری تنصیبات، بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ، پر حملے نہایت خطرناک ہیں اور ان سے بڑے پیمانے پر تابکاری پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔یمن کے حوثی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنوبی اسرائیل کے کچھ حصوں میں دوسرا حملہ کیا ہے، کروز میزائلوں اور ڈرونز کی مدد سے یہ حملے کیے جن کا ہدف اسرائیل کی کئی اہم فوجی تنصیبات تھیں۔ یہ حملے ایران اور حزب اللہ کی متعلقہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ مل کر کیے گئے تھے اور اپنے مقاصد میں کامیاب رہے اور آئندہ چند دنوں میں مزید حملے کیے جائیں گے جب تک کہ دشمن اپنی حملوں اور جارحیت کو بند نہیں کرتا۔پارلیمنٹ سمیت متعلقہ ادارے این پی ٹی سے ایران کے دستبردار ہونے پر غورکر رہے ہیں۔ایرانی میڈیا کا کہناہے کہ واضح ہو چکا ہے کہ ایران کے این پی ٹی میں رہنے کا جواز ہی نہیں بچا، اقدام کا مقصد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے بھیس میں امریکا اور اسرائیل کو ایران کی مزید جاسوسی سے روکنا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی بجلی گھروں پر حملے کیے جارہے ہیں اورآئی اے ای اے اس کی مذمت تک نہیں کر رہی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ وہ انتقامی کارروائی کے دوران اب خطے میں اسرائیل اور امریکی یونیورسٹیوں کو نشانہ بنائیں گے۔پاسداران انقلاب نے یونیورسٹیوں کے عملے، طلبہ اور ان جامعات کے قریب رہنے والے عام شہریوں کو کہا ہے کہ وہ اپنی جانیں محفوظ رکھنے کے لیے ان تعلیمی اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر کا فاصلہ رکھیں۔پاسداران انقلاب نے یہ دھمکی تہران میں واقع ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر حملے کے ردعمل میں دی ہے، جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے جان بوجھ کر ایران کی کئی جامعات اور تحقیقی مراکز پر حملے کیے۔ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف امریکا میں بڑے پیمانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نو کنگز مظاہرے کیے جارہے ہیں۔امریکا بھر میں مظاہروں میں 70 لاکھ افراد نے شرکت کی جس میں مظاہرین نے جنگ روکنے کے مطالبات کیے، نیویارک میں عالمی شہرت یافتہ ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے امریکی صدر پر کڑی تنقید کی۔آج بھی امریکا کی 50 ریاستوں میں 3ہزار200احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں، مظاہرین انتظامیہ کے مطابق مظاہروں میں امریکی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں مظاہرین کی شرکت کریں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں