ہمیں اپنے درد کی بو محسوس نہیںہوتی !
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
جب خوف ریاستی فضا میں تحلیل ہو جائے اور خاموشی سرکاری زبان بن جائے تو ادب محض کہانی نہیں رہتا، گواہی بن جاتا ہے۔ الیگزینڈر
سولژنیتسن کا ناول کینسر وارڈ اسی گواہی کی سنگین مثال ہے ایک ایسا بیانیہ جہاں اسپتال کا وارڈ محض بیماری کا مقام نہیں، پورے عہد کی اخلاقی
گلن کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ کہانی کسی ایک جسم کے بگڑنے کی نہیں، ایک نظام کے اندر پھیلتے ہوئے اُس خوف کی ہے جو خلیوں کی طرح
بڑھتا ہے، بے آواز، مگر قاتلانہ۔یہ ناول ہمیں سکھاتا ہے کہ کینسر صرف جسم میں نہیں ہوتا؛ کینسر نظریات میں بھی جنم لیتا ہے، ضمیروں میں بھی،
اور تاریخ کی دیواروں میں بھی۔ اسپتال کے بستروں پر لیٹے ہوئے مریض دراصل ریاستی جبر کے مختلف چہرے ہیں۔ کوئی سابق قیدی ہے،
کوئی پارٹی کا وفادار، کوئی ڈاکٹر جو علاج کرتا ہے مگر خود بھی اسی نظام کی گرفت میں ہے۔ یہاں شفا کا وعدہ بھی مشروط ہے اور زندگی کا حق
بھی۔ وارڈ کی فضا میں جراثیم سے زیادہ خوف تیرتا ہے وہ خوف جو برسوں کی خاموشی سے پیدا ہوا، جو ہر مکالمے کو سرگوشی میں بدل دیتا ہے،
جو ہر سچ کو بیماری کی علامت بنا دیتا ہے۔سولژنیتسن نے اس وارڈ کو ایک اخلاقی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہر کردار اپنے ماضی کے
ساتھ بستر پر پڑا ہے۔ ریاست نے جنہیں دشمن کہا، وہ یہاں محض مریض ہیں؛ اور جنہوں نے ریاست کی اطاعت کو نجات سمجھا، وہ بھی اسی
اذیت کے حصے دار ہیں۔ اس ناول میں انصاف کوئی جج نہیں سناتا، جسم سناتا ہے۔ ہر ٹیومر ایک سوال ہے: کیا خاموشی بھی جرم ہے؟ کیا
اطاعت بھی بیماری بن سکتی ہے؟ کیا خوف ایک ایسا وائرس ہے جو نسلوں میں منتقل ہوتا ہے؟سولژنیتسن خود جلاوطنی اور قید کی اذیت سے
گزرے۔ اُن کی تحریر میں وہی تلخی ہے جو برفانی میدانوں میں جمنے والی سانس میں ہوتی ہے۔ مگر یہ تلخی محض شکایت نہیں؛ یہ ایک اخلاقی
اعلان ہے کہ انسان کو بیماری سے زیادہ اُس نظام سے لڑنا ہے جو بیماری کو تقدیر بنا دیتا ہے۔ وارڈ کے ڈاکٹر علاج کرتے ہیں، مگر ان کے
ہاتھوں میں بھی اختیار محدود ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر مریض کی کہانی سیاسی ہے، مگر سیاست پر بات کرنا ممنوع ہے۔ یوں علاج ادھورا رہ
جاتا ہے جسم بچ بھی جائے تو روح کا کینسر باقی رہتا ہے۔
یہ ناول ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ خوف کا سب سے مہلک پہلو اُس کی غیر مرئی موجودگی ہے۔ آپ اسے دیکھ نہیں سکتے، مگر وہ ہر فیصلہ متاثر
کرتا ہے۔ ہر مریض اپنے الفاظ تول کر بولتا ہے۔ ہر چہرے پر ایک احتیاطی مسکراہٹ ہے۔ یہاں تک کہ امید بھی خفیہ انداز میں آتی ہے،
جیسے کوئی ممنوعہ کتاب۔ کینسر وارڈ کی دیواریں صرف اینٹ اور گارے کی نہیں؛ وہ تاریخ کی خاموشیوں سے بنی ہیں۔اگر ہم اس بیانیے کو
اپنے عہد پر رکھیں تو سوال اور بھی کڑا ہو جاتا ہے۔ کیا ہمارے معاشروں میں بھی خوف کا یہی کینسر نہیں پھیل رہا؟ کیا ہم بھی اختلاف کو بیماری
اور سوال کو غداری نہیں سمجھنے لگے؟ سولژنیتسن کا وارڈ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے وہ آئینہ جس میں ہم اپنی اجتماعی کمزوری دیکھنے سے کتراتے ہیں۔
اس آئینے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کا اصل علاج سچ ہے، مگر سچ سب سے مہنگی دوا ہے۔کینسر وارڈ کوئی ہسپتال کی روداد نہیں؛ یہ
بیسویں صدی کی سیاسی اخلاقیات پر فردِ جرم ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے دلوں میں خوف بسا دے تو وہ خود بھی ایک
بیمار جسم بن جاتی ہے۔ اور جب ادب اس بیماری کو نام دے دے، تو وہ محض فن نہیں رہتا، مزاحمت بن جاتا ہے۔ سولژنیتسن کی تلخی دراصل
امید کی آخری شکل ہیوہ امید جو کہتی ہے کہ اگر بیماری کو پہچان لیا جائے تو شاید شفا کی کوئی صورت نکل آئے، مگر شرط یہ ہے کہ ہم خوف کو اپنا
مقدر ماننے سے انکار کر دیں۔کینسر وارڈ میں اسپتال کا وہ کمرہ محض علاج گاہ نہیں تھا، ایک عہد کی تشخیص گاہ تھا۔ آج اگر ہم آنکھ اٹھا کر اپنے
اردگرد دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ وارڈ کسی ایک شہر یا ایک ریاست تک محدود نہیں رہاوہ پھیل کر پورے ملک کی صورت اختیار کر چکا
ہے۔ اور اس استعارے کو سمجھنے کے لیے الیگزینڈر سولژنیتسن کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، صرف اپنے گلی کوچوں میں چلنے کی ہمت
چاہیے۔پاکستان اب نقشے پر ایک ملک کم اور ایک وارڈ زیادہ دکھائی دیتا ہے ایک ایسا وارڈ جہاں بستر کم ہیں اور مریض زیادہ، جہاں دوا
نایاب ہے اور درد عام۔ یہاں ہر شخص کسی نہ کسی رپورٹ کا منتظر ہے: کسی کو روزگار کی بایوپسی کا نتیجہ چاہیے، کسی کو انصاف کی کیموتھراپی، کسی کو
شناخت کی سرجری۔ مگر فائلیں گردش میں ہیں اور تشخیص التوا میں۔ بیماری بڑھ رہی ہے اور اعلانات تسلی کی گولیاں بانٹ رہے ہیں۔یہاں
خوف وہی ہے جو سولژنیتسن کے وارڈ میں تھاخاموش، مگر غالب۔ لوگ بات کرتے ہیں مگر آہستہ؛ سوال کرتے ہیں مگر احتیاط سے؛ سچ
سوچتے ہیں مگر زبان پر نہیں لاتے۔ اختلاف کو ٹیومر سمجھا جاتا ہے اور مزاحمت کو میٹاسٹیسس۔ نتیجہ یہ کہ ہر باشعور ذہن خود احتسابی کے
آپریشن تھیٹر میں لیٹ جاتا ہے اور اپنی ہی زبان کا ایک حصہ کاٹ دیتا ہے تاکہ زندہ رہ سکے۔ زندہ رہنا یہاں صحت مند ہونے کا مترادف
نہیں، صرف سانس لینے کا نام ہے۔عام آدمی کی زندگی اس وارڈ میں سب سے زیادہ بے توقیر ہے۔ وہ صبح مزدوری کی لائن میں لگتا ہے تو
ایسے جیسے خون کے ٹیسٹ کے لیے قطار ہو۔ شام کو خالی جیب گھر لوٹتا ہے تو جیسے رپورٹ میں لکھا ہو:”حالت جوں کی توں، علاج جاری
رہے گا۔”اس کے بچوں کی آنکھوں میں خواب نہیں، ڈرپ لگی ہوئی ہے آہستہ آہستہ ٹپکتی ہوئی امید۔ اس کی بیٹی کے لیے تحفظ ایک نایاب دوا
ہے، اس کے بیٹے کے لیے روزگار ایک مہنگا آپریشن۔ اور وہ خود؟ وہ صرف ایک فائل نمبر ہے، ایک کیس ہسٹری، جس پر مہر لگی ہے:”انتظار
کریں”۔یہ وارڈ صرف معاشی بیماری کا نہیں، اخلاقی سرطان کا بھی ہے۔ جھوٹ یہاں حفاظتی ٹیکہ سمجھا جاتا ہے اور سچ الرجی۔ طاقتور ڈاکٹر
بنے کھڑے ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں شفا سے زیادہ اختیار ہے۔ وہ علاج کم اور اعداد و شمار زیادہ سنبھالتے ہیں۔ اور مریض؟ مریض ایک
دوسرے کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ کون پہلے جائے گا، کون بعد میں۔ اس اجتماعی بے بسی نے انسان کو انسان سے کاٹ دیا ہے۔ ہر کوئی
اپنی بقا کی سرجری میں مصروف ہے، کسی کے پاس کسی کے زخم پر مرہم رکھنے کا وقت نہیں۔مگر سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس وارڈ کی
عادت ہو چکی ہے۔ بجلی کا جانا معمول، مہنگائی کا بڑھنا روایت، انصاف کا تاخیر کا شکار ہونا تقدیر۔ جیسے فیودور دوستوئیفسکی نے کہا تھا کہ
انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے ہم بھی ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنے ہی درد کی بو محسوس نہیں ہوتی۔ ہمیں اپنے ہی زخموں کی پیپ دکھائی نہیں
دیتی۔ ہم نے بیماری کو زندگی کا دوسرا نام مان لیا ہے۔یہ الزام نہیں، آئینہ ہے۔ اگر پورا ملک ایک کینسر وارڈ بن چکا ہے تو اس کے مریض
صرف عام لوگ نہیں، پورا سماج ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی کے پاس درد ہے اور طاقتور کے پاس دوا کی الماری کی چابی۔ اور جب
تک چابی چند ہاتھوں میں قید رہے گی، وارڈ کی فضا بدلنے والی نہیں۔سوال یہ نہیں کہ بیماری ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اسے بیماری
ماننے کو تیار ہیں؟ کیونکہ جب تک قوم اپنے سرطان کا نام نہیں لیتی، علاج محض ڈرامہ رہتا ہے۔ اور ڈرامے سے نہ جسم بچتے ہیں نہ معاشرے۔ اگر ہم نے خوف کو اپنا مقدر مان لیا تو یہ وارڈ نسلوں تک پھیلا رہے گا۔ مگر اگر ہم نے سچ کو دوا سمجھ کر نگل لیاہے وہ کتنا ہی کڑوا
کیوں نہ ہو تو شاید اس اجتماعی جسم میں کہیں شفا کی ہلکی سی حرکت پیدا ہو جائے۔ورنہ تاریخ کے رجسٹر میں پاکستان کا نام ایک ایسے وارڈ کے
طور پر درج ہوگا جہاں مریض بہت تھے، مگر بیماری تسلیم کرنے کی ہمت کم۔
٭٭٭


