میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مومن آباد اور منگھوپیر ٹاؤنز میں مشکوک ملازمین کی بھرمار

مومن آباد اور منگھوپیر ٹاؤنز میں مشکوک ملازمین کی بھرمار

ویب ڈیسک
پیر, ۱۶ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

مشکوک ملازمین کی 2012 میں بھرتی ظاہر بینک اکاؤنٹ دو سالوںمیں کھلوائے گئے
سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ نقصان پہنچانے کے خلاف شروع تحقیقات بے نتیجہ

ضلع غربی کے مومن آباد اور منگھوپیر ٹاؤن میں سینکڑوں ہیلی کاپٹر ملازمین کی بھرتیوں اور سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ نقصان پہنچانے کے خلاف شروع کی جانے والی تحقیقات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں، خصوصی مالی مفاد اور مبینہ دباو ٔکے نتیجے میں یہ تحقیقات خاموشی سے سرد خانے کی نذر کردی گئیں۔ صوبائی محکمہ بلدیات اور ضلع غربی کے قریبی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سرکاری نوکریوں پر طویل عرصہ تک پابندی کے باوجود مومن آباد ٹاؤن اور منگھوپیر ٹاؤن کے ملازمین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان ملازمین کو کالعدم ضلع کونسل کراچی اور کالعدم ڈی ایم سی غربی کا ظاہر کرکے مومن آباد اور منگھوپیر ٹاؤن میں کھپایا گیا، یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مشکوک ملازمین 2012کی بھرتی کے ملازمین ظاہر کیے گئے تاہم ان کے بینک اکاؤنٹ گزشتہ دو سالوںمیں کھلوائے گئے ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں ٹاونز خاص طور پر مومن آباد ٹاؤن میں بڑی تعداد ایسے ملازمین کی ہے جن کے نام پیرول میں نہیں لیکن انہیں بینک ایڈوائس پر تنخواہ جاری کی جارہی ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع غربی کی تقسیم کے بعد مومن آباد اور منگھو پیر میں تعینات کیے جانے والے اصل ملازمین کی نشاندہی اور احتجاج پر تحقیقاتی اداروں نے انکوائری شروع کی تاہم مبینہ چمک اور دباؤ کے سبب انکوائری نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی اور سرد خانے کی نذر کردی گئی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں