آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
کبھی کبھی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ لفظ سامنے پڑے ہوتے ہیں، کاغذ خالی ہوتا ہے ، وقت بھی میسر ہوتا ہے ۔ مگر موضوع نہیں ملتا، اورعجیب بات یہ ہے کہ یہی کیفیت صرف ایک لکھنے والے کی نہیں، پورے معاشرے کی ہے ۔آج ہرشخص بول رہا ہے ، مگربات نہیں کر رہا،ہرکوئی مصروف ہے ، مگر مقصد نہیں جانتا، ہرچہرہ زندہ ہے ، مگر اندر سے جیسے کچھ مر چکا ہے ، میں آج کالم لکھنے بیٹھا تو سوچا، کیا لکھوں؟ مہنگائی پر؟ وہ تو سب لکھ رہے ہیں، سیاست پر؟ وہاں سچ کم اور شورزیادہ ہے ، رشتوں پر؟ وہ اب موضوع نہیں، مسئلہ بن چکے ہیں۔
پھرخیال آیا۔شاید اصل موضوع یہی ہے کہ ہم سب ”موضوع ” کھو چکے ہیں ۔شاید مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس موضوع نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم سچ سے دور بھاگ رہے ہیں، کیونکہ سچ ہمیشہ موضوع بننے کے قابل ہوتا ہے ، مگر سچ لکھنا آسان نہیں ہوتا، وہ چبھتا ہے ، وہ اپنے ہی اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے اور ہم نے ایک عجیب عادت بنا لی ہے ،ہم دوسروں پر لکھ سکتے ہیں، مگر خود پرنہیں، ہم مہنگائی پرکالم لکھتے ہیں، مگر اپنی خواہشات کی مہنگائی نہیں دیکھتے ، ہم سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہیں، مگر اپنے چھوٹے چھوٹے جھوٹ بھول جاتے ہیں، ہم معاشرے
کے زوال کا رونا روتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس زوال میں ہمارا حصہ کتنا ہے ۔اسی لیے شاید ہمیں موضوع نہیں ملتا، کیونکہ اصل موضوع ہم خود ہیں۔اور ہم خود کو موضوع بنانے سے ڈرتے ہیں ۔آج کا انسان باہرکی دنیا میں بہت بہادرہے ، مگر اندرسے بہت کمزور، وہ سوشل میڈیا پر بڑے بڑے جملے لکھ دیتا ہے ، مگر رات کو تنہائی میں اپنے ہی سوالوں سے ہار جاتا ہے ۔اورایک وقت آتا ہے جب انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ، سوائے ایک سچے جملے کے ۔
جب ایک فرد خود سے نظریں چرا لیتا ہے ، تو پھر پورا معاشرہ آئینوں سے ڈرنے لگتا ہے ۔آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سچ بولنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے اورجھوٹ کو حکمت کا نام دے دیا گیا ہے ، ہرشخص نے اپنے اپنے چہرے پر ایک خوبصورت نقاب سجا رکھا ہے ، اتنا خوبصورت کہ اب اصل چہرہ خود اسے بھی یاد نہیں، رشتے اب احساس پر نہیں، مفاد پر کھڑے ہیں، دوستیاں سچائی سے نہیں، ضرورت سے جڑی ہیں ۔اور باتیں دل سے نہیں، ماحول دیکھ کر کی جاتی ہیں ، ایسے میں اگر کوئی سچ لکھنے بیٹھ جائے ، تو وہ صرف کالم نہیں لکھتا وہ کئی چہروں سے نقاب اتار دیتا ہے ۔اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں معاشرہ بے چین ہو جاتا ہے ، کیونکہ معاشرہ سچ نہیں پڑھنا چاہتا، وہ صرف وہی پڑھنا چاہتا ہے جو اسے اچھا لگے ، اسی لیے آج موضوع نہیں ملتا۔ کیونکہ ہم نے اپنے لیے موضوعات کا دائرہ خود محدود کر لیا ہے ، ہم صرف وہی بات کرنا چاہتے ہیں جو محفوظ ہو، جو تالیاں لے آئے ، جو کسی کو ناراض نہ کرے ، مگر سچ یہ ہے کہ جو تحریر کسی کو تکلیف نہ دے ، وہ اکثرکسی کو بدل بھی نہیں سکتی۔
ہم سب سچ سے نہیں، اپنے آپ سے بھاگ رہے ہیں، یہ جو ہم بار بار کہتے ہیں کہ موضوع نہیں مل رہا، اصل میں یہ ایک بہانہ ہے ، ایک پردہ ہے ، جو ہم نے اپنے اور اپنے سچ کے درمیان ڈال رکھا ہے ، کیونکہ اگر واقعی ہم لکھنے بیٹھ جائیں نا، تو سب سے پہلا جملہ یہی ہوگا کہ ہم ٹھیک نہیں ہیں، ہم تھکے ہوئے ہیں، الجھے ہوئے ہیں ۔اورسب سے بڑھ کر ہم اندر سے خالی ہو چکے ہیں، مگر یہ بات مان لینا آسان نہیں ہوتا، اس لیے ہم موضوع ڈھونڈتے رہتے ہیں، مہنگائی، سیاست، حالات، لوگ، تاکہ ہمیں خود پر لکھنا نہ پڑے ۔ حالانکہ سچ یہ ہے ، اگر ایک انسان ہمت کر کے اپنے اندر اتر جائے ، تو اسے ہزار موضوع مل جاتے ہیں، اس کی خاموشیاں، اس کے ڈر، اس کے ادھورے خواب۔اور وہ سارے سچ، جو وہ دنیا سے تو کیا، خود سے بھی چھپاتا ہے ، مگر ہم یہ راستہ چنتے ہی نہیں، کیونکہ یہ راستہ آسان نہیں، یہ راستہ انسان کو توڑ دیتا ہے ۔اورپھراسی ٹوٹنے سے ایک نیا سچ جنم لیتا ہے ۔
توپھر سوال یہ نہیں کہ موضوع کہاں ہے ، سوال یہ ہے کہ آپ کہاں کھڑے ہیں؟ کیونکہ سچ یہ ہے ، ہر دور کا سب سے بڑا موضوع، اس دور کا انسان ہوتا ہے ۔اور آج کا انسان عجیب موڑ پر کھڑا ہے ، وہ سب کچھ جانتا ہے ، مگر کچھ بدلتا نہیں، وہ سچ سن لیتا ہے ، اسے مان بھی لیتا ہے ، مگر اسے جینے کی ہمت نہیں کرتا، ہم وہ لوگ ہیں، جو اچھی تحریریں پڑھ کر سر ہلا دیتے ہیں، مگر اپنی زندگی میں ایک جملہ بھی نافذ نہیں کرتے ، ہمیں لفظوں سے محبت ہے ، مگر سچ سے نہیں، اسی لیے شاید آج کے کالم دلچسپ تو ہوتے ہیں، مگر مؤثر نہیں ہوتے ، کیونکہ وہ قاری کو چھیڑتے ہیں، بدلتے نہیں۔ تو آج اگر واقعی کوئی نیا موضوع چاہیے تو وہ یہ نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے اندر کیا نہیں ہو رہا، کیونکہ انقلاب ہمیشہ سڑکوں پرنہیں آتا، کبھی کبھی وہ ایک انسان کے اندرآتا ہے ، خاموشی سے ، بغیر شورکے ، مگر ہمیشہ کے لیے ۔اور جس دن یہ اندر والا انقلاب آ گیا نا۔ اس دن آپ کو موضوع ڈھونڈنا نہیں پڑے گا، آپ خود ایک موضوع بن چکے ہوں گے ۔اگرپھر بھی آپ کو لگے ،موضوع نہیں مل رہا، تو ایک بارخاموش ہو کر اپنے اندر جھانکیں، شاید وہاں ایک چیخ بند ہے ، ایک سچ رکا ہوا ہے ، ایک کہانی دم توڑ رہی ہے ، اور وہی آپ کا اصل موضوع ہے ۔
٭٭٭


