میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تیل کی عالمی آگ، پاکستان کی جیب، پیٹرول 370روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ

تیل کی عالمی آگ، پاکستان کی جیب، پیٹرول 370روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۱۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ملک میں پیٹرول کی قیمت حکومتی ٹیکسوں اور لیوی سے طے ہوتی ہے،ماہرین توانائی
پیٹرول کی قیمت کو ملکی معیشت کا مہنگائی کا انجن کہا جاتا ہے،تجزیہ کاروں کا مؤقف

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھنے لگی ہیں اور 2022 کے بعد کئی بار سو ڈالر فی بیرل کی حد کو چھو چکی ہیں، توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نئی بلند سطح کو چھو سکتی ہیں، لیکن دلچسپ اور اہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف عالمی منڈی سے نہیں بلکہ حکومتی ٹیکسوں اور لیوی سے بھی طے ہوتی ہے، جو عوام پر اصل بوجھ بن چکے ہیں۔سرکاری توانائی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریبا4۔5 لاکھ سے 5 لاکھ بیرل پیٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں، اگر اس کو ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے توماہانہ کھپت تقریبا1 کروڑ 30 لاکھ سے 1 کروڑ 50 لاکھ بیرل، یعنی سالانہ کھپت تقریباً 18 کروڑ بیرل کے قریب، پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہتی ہے تو پاکستان کا سالانہ درآمدی بل تقریبا 17 سے 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین کے مطابق ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل تقریبا2 ارب ڈالرتک بڑھ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر لے آتا، پاکستان میں پیٹرول کی قیمت صرف خام تیل کی قیمت سے نہیں بنتی بلکہ اس میں کئی اضافی اخراجات شامل ہوتے ہیں۔ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، ریفائننگ اور امپورٹ لاگت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن، ڈیلر کمیشن، حکومتی ٹیکس اور لیوی شامل ہوتے ہیں۔ اس وقت حکومت فی لیٹر پیٹرول پر حکومت مختلف مد میں بھاری رقم وصول کرتی ہے، تقریبا پیٹرولیم لیوی 60 روپے فی لیٹر، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر چارجز 10 سے 15 روپے اور ڈیلر کمیشن تقریبا 8 روپے، آئل کمپنی مارجن، تقریبا 7 روپے بنتا ہے، یعنی ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 70 سے 90 روپے تک صرف ٹیکس اور چارجز شامل ہوتے ہیں۔ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت100 سے 110 ڈالر فی بیرل تک رہی تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت350 سے 370 روپے فی لیٹر تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، اگر قیمتیں مزید بڑھیں تو مہنگائی کا دباؤ ٹرانسپورٹ، بجلی اور روزمرہ اشیاء تک منتقل ہو جاتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے کے سب سے زیادہ اثرات ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ، اشیائے خوردونوش مہنگی، بجلی اور صنعت کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر آ سکتی ہے۔اسی وجہ سے پیٹرول کی قیمت کو پاکستان کی معیشت کا مہنگائی کا انجن بھی کہا جاتا ہے، تاہم حکومت کے لیے یہ ٹیکس کم کرنا آسان نہیں کیونکہ پیٹرولیم لیوی سے ہر سال کھربوں روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں