بصارت سے آگے کا سفر
شیئر کریں
محمد آصف
انسان کی حقیقت اس کے ظاہری وجود سے کہیں زیادہ وسیع اور عمیق ہے ۔ بظاہر وہ مٹی سے بنا ہوا ایک جسم ہے ، لیکن اس کی اصل پہچان صرف یہی نہیں۔ اس کے اندر روح کی ایک ایسی روشنی موجود ہے جو اسے تمام مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے ۔ انسان کے وجود میں احساس کی گہرائی، شعور کی وسعت اور ربِ کریم کی امانت پوشیدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جب اپنے باطن میں جھانکتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک پوری کائنات آباد ہے ۔ ایک ایسی دنیا جو ظاہری دنیا سے کہیں زیادہ خوبصورت، پراسرار اور معنی خیز ہے ۔انسان کا اصل سفر بھی یہی ہے کہ وہ اپنے باطن کی اس دنیا کو دریافت کرے اور اپنے اندر موجود اس نور کو پہچانے جو اسے اپنے رب سے جوڑتا ہے ۔
زندگی دراصل خود کو پہچاننے کا نام ہے ۔ انسان بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک مختلف مراحل سے گزرتا ہے ۔ اس دوران وہ کامیابیوں اور ناکامیوں، خوشیوں اور غموں، امیدوں اور محرومیوں کا سامنا کرتا ہے ۔ لیکن وقت کے ساتھ اسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ زندگی صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تربیتی عمل ہے ۔ انسان جتنا زیادہ تجربات سے گزرتا ہے اتنا ہی اس کی بصیرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہر واقعہ اس کی تعمیر کے لیے آیا تھا، ہر آزمائش اس کی مضبوطی کے لیے تھی اور ہر نقصان کسی بڑے سبق کا ذریعہ تھا۔ جب انسان ماضی کے بوجھ سے آزاد ہونا سیکھ لیتا ہے تو اس کے اندر ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے ۔ ماضی کی یادیں اگرچہ انسان کے تجربات کا حصہ ہوتی ہیں لیکن ان میں مسلسل زندہ رہنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ جو لوگ ہر وقت گزرے ہوئے لمحوں، ٹوٹے ہوئے خوابوں اور بچھڑے ہوئے لوگوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں وہ حال کی خوبصورتی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ ماضی سے سبق لے کر آگے بڑھتے ہیں، وہ زندگی کے حقیقی مسافر ہوتے ہیں۔ جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے بڑھنے کا
فیصلہ کرتا ہے تو دراصل وہ سیدھے راستے پر چل پڑتا ہے ۔
انسانی زندگی میں بعض رشتے اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت بن کر آتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ضرورت کے وقت صرف رسمی ہمدردی نہیں بلکہ اپنا دل پیش کر دیتے ہیں، وہ زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری خاموشیوں کو بھی سن لیتے ہیں، ہمارے دکھوں کو محسوس کرتے ہیں اور ہماری کمزوریوں کے باوجود ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ دنیا میں دولت، شہرت اور کامیابیاں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر
مخلص انسان بار بار نہیں ملتے ۔ اسی لیے ایسے لوگوں کی قدر کرنا دراصل اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنا ہے ۔ وقت کے ساتھ انسان کے اندر سکون کی طلب بڑھنے لگتی ہے ۔ جوانی میں جن چیزوں کو کامیابی سمجھا جاتا ہے ، عمر کے ایک خاص مرحلے پر وہی چیزیں بے معنی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ انسان شور سے دور اور خاموشی کے قریب آنا چاہتا ہے ۔ وہ تنہائی میں بیٹھ کر اپنے وجود کے معنی تلاش کرنا چاہتا ہے ۔ اس کے دل میں
خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے ہنگاموں سے کچھ دیر الگ ہو کر اپنے رب کے قریب بیٹھے ، اپنے دل کی آواز سنے اور اپنی روح کی ضروریات کو سمجھے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بصارت آہستہ آہستہ بصیرت میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
زندگی کی ایک بڑی حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر چیز ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ بعض تعلقات ختم ہو جاتے ہیں، بعض خواب ادھورے رہ جاتے ہیں اور بعض راستے اچانک بند ہو جاتے ہیں۔ انسان کے لیے سب سے مشکل لمحہ وہ ہوتا ہے جب اسے ایسے دروازے پر دستک دینی پڑے جس کی چابیاں کبھی اس کے اپنے ہاتھ میں تھیں۔ لیکن یہی لمحے اسے زندگی کا سب سے بڑا سبق دیتے ہیں۔ وہ سیکھتا ہے کہ دنیا میں کسی چیز پر مکمل اختیار نہیں اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے تابع ہے ۔ یہی ادراک انسان کو عاجزی اور حکمت عطا کرتا ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ غصے ، ضد، انا، ناکام محبتوں اور کمزور تعلقات میں ضائع کیا ہوتا ہے ۔ ہم بعض اوقات ایسی چیزوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں جو پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔ ہم ان لوگوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں جو ہماری قدر نہیں کرتے اور ان واقعات پر افسوس کرتے ہیں جنہیں بدلنا ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ مگر وقت گزرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہی دکھ اور یہی ناکامیاں ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھاتی ہیں۔ یہی زخم ہماری بصیرت کو جگاتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ سے متعارف کرواتے ہیں۔
بعض اوقات زندگی کا سب سے خوبصورت فیصلہ کسی چیز کو چھوڑ دینا ہوتا ہے ۔ ہر چیز کو تھامے رکھنا دانشمندی نہیں۔ کچھ دکھ، کچھ رشتے ، کچھ یادیں اور کچھ خواہشیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں رخصت کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے ۔ چھوڑ دینا کمزوری نہیں بلکہ ایک روحانی قوت ہے ۔ یہ اپنے دل کو آزاد کرنے کا نام ہے ۔ جب انسان نفرتوں، حسرتوں اور مایوسیوں کو دل سے نکال دیتا ہے تو اس کے اندر نئی روشنی کے لیے جگہ پیدا ہو جاتی ہے ۔ پھر اس کی روح پہلے سے زیادہ ہلکی، آزاد اور مطمئن محسوس کرتی ہے ۔ انسان کا سب سے بڑا سرمایہ اس کا ذہنی سکون، اس کی روحانی توانائی اور اس کا زندہ دل ہونا ہے ۔ اگر یہ چیزیں ختم ہو جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی خوشی نہیں دے سکتی۔ اسی لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی باقی ماندہ توانائی کی حفاظت کرے ، اپنے دل کو بے مقصد فکروں سے بچائے اور اپنے ذہن کو منفی سوچوں کا مسکن نہ بننے دے ۔ مایوسی وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی روح کو کمزور کر دیتا ہے ، جبکہ امید وہ روشنی ہے جو تاریک ترین رات میں بھی راستہ دکھا دیتی ہے ۔
عمر کے بڑھنے کے ساتھ انسان کی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے ۔ آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ سکتی ہے ، جسم کمزور ہو سکتا ہے ، مگر اگر انسان نے زندگی سے سیکھا ہو تو اس کی بصیرت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے ۔ وہ چیزوں کو صرف ظاہری شکل میں نہیں دیکھتا بلکہ ان کے پس منظر، ان کے مقصد اور ان کی حقیقت کو بھی سمجھنے لگتا ہے ۔ یہی فرق بصارت اور بصیرت کا ہے ۔ بصارت آنکھوں کی روشنی ہے جبکہ بصیرت دل کی روشنی ہے ۔ بصارت اشیاء کو دیکھتی ہے لیکن بصیرت ان کے معنی دریافت کرتی ہے ۔ اصل پختگی عمر کے بڑھنے میں نہیں بلکہ بصیرت کے بڑھنے میں ہے ۔ بہت سے لوگ عمر بھر زندہ رہتے ہیں مگر زندگی کو سمجھ نہیں پاتے ، جبکہ بعض لوگ کم عمری میں ہی ایسی بصیرت حاصل کر لیتے ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ جو شخص اپنے تجربات سے سیکھتا ہے ، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے اور ہر حال میں شکر کا دامن تھامے رکھتا ہے ، وہی حقیقی معنوں میں دانا ہوتا ہے ۔
زندگی کی خوبصورتی شکر میں پوشیدہ ہے ۔ انسان اگر اپنی محرومیوں کو شمار کرنے کے بجائے اپنی نعمتوں کو گننا شروع کر دے تو اس کا زاویئہ نگاہ بدل جاتا ہے ۔ جو چیز اس سے چھن جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اکثر اس کے بدلے میں اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے ۔ اس لیے نقصانوں کا ماتم کرنے کے بجائے نعمتوں کی پہچان ضروری ہے ۔ خوشی ہو یا غم، آسانی ہو یا آزمائش، ہر حال میں ”الحمدللہ”کہنا دل کو سکون اور روح کو اطمینان عطا کرتا ہے ۔اپنی روح کو کبھی بوڑھا نہ ہونے دیں۔ امید، محبت، دعا، شکر اور ایمان روح کی جوانی ہیں۔ زندہ جسم کے اندر مردہ روح سے بڑی محرومی کوئی نہیں۔ اسی لیے اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو رکھیں جو آپ کے دل میں روشنی پیدا کریں، جو آپ کو آپ کی قدر یاد دلائیں اور جو آپ کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کے چراغ دکھائیں۔ ایسے لوگ دراصل اللہ کی رحمت کا مظہر ہوتے ہیں۔
جب انسان کی بصارت کو بصیرت کی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے ، جب اس کا دل حقائق کو محسوس کرنے لگتاہے ، جب وہ زندگی کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ روح کی روشنی سے دیکھنے لگتا ہے ، تب اس کا وجود”البصیرہ”بن جاتا ہے ۔ وہ خود بھی روشنی حاصل کرتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی روشنی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔ یہی انسان کی اصل کامیابی ہے ، یہی اس کی حقیقی منزل ہے ، اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کی معرفت، اپنے وجود کی حقیقت اور زندگی کے اصل معنی پا لیتا ہے ۔
٭٭٭


