سندھ بلڈنگ، گلستان جوہر اسکیم 33میں ہنگامی اخراج کے بغیر عمارتیں
شیئر کریں
مکینوں میں خوف و ہراس ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کی ملی بھگت، تعمیراتی مافیا سرگرم
پلاٹ نمبر 8سیکٹر 17A رہائشی زون میں کمرشل عمارت تعمیر، پرانے پلاٹوں پر نئی منزلیں
ضلع شرقی میں واقع گلستان جوہر اسکیم 33میں غیر قانونی تعمیرات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ علاقے کی بیشتر پرانی عمارتیں ہنگامی اخراج کے بغیر کھڑی ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ ان عمارتوں کے گرنے کا خطرہ مسلسل موجود رہتا ہے اور مکین خوف کی حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق اس علاقے میں تعمیراتی مافیا کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ علاقہ مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ عدیل قریشی نہ صرف خلاف ضابطہ تعمیرات کو نظر انداز کر رہے ہیں بلکہ ان کی خاموشی کو تعمیراتی مافیا اپنی مرضی کی تعمیرات کی اجازت سمجھ بیٹھا ہے ۔مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کی تحریری اطلاع ڈپٹی ڈائریکٹر عدیل قریشی کو دی لیکن انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔واضح رہے کہ اسکیم 33میں رہائشی پلاٹس پر کمرشل تعمیرات کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے ۔ رہائشی پلاٹوں پر دکانوں کی تعمیر کی جا رہی ہے کمرشل گودام اور ورکشاپس قائم کیے جارہے ہیں ۔ ان تعمیرات کی وجہ سے علاقے میں پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات شدید متاثر ہو رہی ہیں ۔ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ ’’پلاٹ نمبر 8 سیکٹر 17A میں تعمیر ہونے والی عمارت سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل پیدا ہوں گے بلکہ علاقے کی رہائشی فضاء کو بھی خراب ہوگی۔ ہم نے اس کی تحریری شکایت اتھارٹی میں جمع کروائی لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا‘‘۔دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ بھی ایس بی سی اے کی ملی بھگت پر شدید برہمی کا اظہار کر چکی ہے ۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ایس بی سی اے کی ملی بھگت کے بغیر غیر قانونی تعمیرات نہیں ہو سکتیں اور شہر کا سارا بگاڑ انہی لوگوں کی وجہ سے ہے ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسکیم 33میں ہر چھت پر پانچ سے دس لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور تمام کمرشل پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کے لیے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی وصولی ہو رہی ہے ۔علاقہ مکینوں نے صوبائی وزیر بلدیات اور ڈی جی ایس بی سی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ عدیل قریشی اور تعمیراتی مافیا کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے ان غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات سے بچایا جا سکے ۔


