میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مودی کا دورہ اسرائیل

مودی کا دورہ اسرائیل

ویب ڈیسک
اتوار, ۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کا دو روزہ سرکاری دورہ کر کے واپس لوٹ چکے ہیں۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔مودی کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے ممالک کے تعلقات ایک مضبوط اور کئی جہتوں پر محیط سٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں تعلقات نمایاں طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔’اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ ہفتے دورے کا اعلان کرتے ہوئے خود کو اور مودی کو ‘ذاتی دوست’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دورہ اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت میں اضافہ کرے گا۔
غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کے کئی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ بھارت نہ صرف ایک طاقتور اتحادی ہے بلکہ اسرائیل کا ایشیا میں دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ بھارت کی وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق مالی سال 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان کل تجارتی حجم 3.62 ارب ڈالر تھا۔نریندر مودی اس سے قبل 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بنے تھے اور جواب میں نیتن یاہو نے بھی اگلے سال انڈیا کا دورہ کیا تھا۔وزیراعظم نریندر مودی کا اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا انڈیا کی خارجہ پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کی علامت ہے۔ انڈیا ماضی میں پر فلسطینیوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور 1992 تک اس نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے۔نریندر مودی سات اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے حملے کے فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والے پہلے عالمی رہنماؤں میں شامل تھے۔اس کے علاوہ انڈیا رواں ماہ کے اوائل میں 100 سے زائد ممالک کے ساتھ شامل تھا جنہوں نے اسرائیل کے نئے اقدامات کی مذمت کی تھی جن کے تحت مغربی کنارے پر کنٹرول بڑھانے اور فلسطینی اتھارٹی کی محدود اختیارات کو مزید کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کادورہ اسرائیل، پاکستان کی سلامتی اور حکمت عملی پر اثرات، جنگی و ٹیکنالوجی شراکت میں تیزی، اسرائیلی ہیکساگون آف الائنسز میں بھارت کی مرکزی حیثیت، پاک بھارت فضائی تصادم میں اسرائیلی ٹیکنالوجی کے استعمال نے پاکستان میں خدشات کو بڑھا دیا۔ اسلام آباد نے دفاعی حکمت عملی اورامریکا کیساتھ تعلقات مضبوط کر کے کچھ تدابیر اختیار کی ہیں۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا، تو اس سے بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی گہری اہمیت سامنے آئی، جس سے پاکستان کی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مودی کے دورے میں دفاع، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائبرسیکیورٹی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی، جبکہ اسرائیل کے ‘ہیکساگون آف الائنسز’ منصوبے میں بھارت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے تاکہ ‘ریڈیکل شیعہ اور صوفی محور’ کے خلاف مضبوط اتحاد قائم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اسٹریٹجک حساب کتاب میں اس سے متاثر ہوگا۔
یہود و ہنود اپنے ایسے ناپاک منصوبوں پر ایک دوسرے کی تقلید میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیوں کو بسانے کے لئے نئی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے شروع کر دئیے ہیں تو اس کی تقلید میں ہندو بنیاد پرست مسلم دشمن حکمرانوں نے اپنے عضب شدہ خطہ کشمیر میں ہندوئوں کو بسانے کے لئے بستیاں قائم کرنے کے منصوبے بنا لئے ہیں۔ جنوبی بیت المقدس میں جبل المکبر کے مقام پر اسرائیلی حکومت نے یہودیوں کے لئے شہر کی سب سے بڑی کالونی کی تعمیر کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے فلسطینی شہریوں بالخصوص نوجوان طالب علموں میں خوف و دہشت طاری کرنے کے لئے ان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ جہاں تک بھارت کے زیر قبضہ وادی کشمیر کے کم و بیش ایک کروڑ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا تعلق ہے۔ پاکستان قریباً ربع صدی سے ان کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت کرتا چلا آ رہا ہے۔ اب بھی پاکستان کی موجودہ برسرِ اقتدار قیادت اور عوام کی بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں اور اس کے مظلوم مسلمانوں پر بھارتی افواج کے بے رحمانہ مظالم قریباً چار ماہ کے زائد عرصے سے عائد کرفیو، اشیائے خورد و نوش کی عدم فراہمی، بیمار عورتوں، مردوں اور بچوں کے لئے ادویات کی عدم دستیابی، خواتین کی بے حرمتی اور انسانیت سوز سلوک کی روح فرسا داستانیں دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں زبان زدعام ہو چکی ہیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ کرہ ارض میں آزادی، انسانی حقوق، شہری آزادیاں اور جمہوری اقدار کے نام نہاد علمبردار بزعم خود ”سپرپاور” کہلانے والے ممالک کے اربابِ اقتدار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ان کا دل کشمیر و فلسطین کے بے بس عوام جن میں عورتیں، مرد ، بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں اور دن رات اپنے اپنے وطن کی فضائوں میں وحشت و دہشت زدہ زندگی گزارتے ہوئے نت نئے خوفناک قسم کے مظالم کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ کوئی دل دکھوں کے بارے ان عوام کے لیے پسیجتا نہیں۔
ستم بالائے ستم یہ ہے کہ امت مسلمہ کے لیڈران کرام بھی اپنے اپنے بیانات میں تان اس عالمی ادارہ یو این او سے اْمیدوں ہی پر توڑتے ہیں جس ادارے نے کشمیر سمیت فلسطین کے مسائل کے حل کے لئے کوئی موثر قدم اٹھانے کی بجائے وہاں کے مظلوم عوام کی جدوجہد کی راہوں کو آسان کرنے کی بجائے کانٹوں سے بھرا اور اب تک بھی اس ادارے کے کار پردازان کو کشمیر و فلسطین کے سسکتے اور کراہتے ہوئے عوام کی سسکیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ غیرتِ مسلم امہ کے لیے اس سے بڑا چیلنج اور کیا ہو گا کہ بھارتی فوج کے ایک سابق جرنیل سہنا پوری پوری ڈھٹائی کے ساتھ فوجیوں کو کشمیری خواتین کی بیحرمتی کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ قومی بدقسمتی ہے کہ اسے بزعم خود بعض لیڈرانِ قوم کی مصلحت آمیز مخصوص مفادات کی پالیسی تھی یا بیرونی دبائو کا خوف کہ کشمیر پاکستان کے ہاتھ آتے آتے ہی جانے دیا گیا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں