مودی اور نیتن یاہو کی رام ملائی جوڑی
شیئر کریں
ڈاکٹر سلیم خان
دنیا کا ہر دُکاندار اپنا مال بیچنے کی خاطر گاہک کے دروازے پر جاتا ہے ۔ ہندوستان چونکہ فرانس کے بعد سب سے زیادہ ہتھیار اسرائیل سے خریدتا ہے اس لیے وہاں کا وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ہندوستان آنا چاہتا تھا لیکن اس کا دورہ تین مرتبہ منسوخ ہوا۔ آخری اس کی آمد سے قبل دہلی دھماکے ہوئے جس میں صرف دس لوگ ہلاک ہوئے ۔ اس سے ڈر کر غزہ میں بہترّ ہزار بے قصور لوگوں کے قاتل نے موت کے ڈر سے اپنا دورہ منسوخ کردیا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی حکمراں نہایت سفاک ہونے کے ساتھ ساتھ کتنے بزدل ہیں۔ اس کے بعد خود وزیر اعظم نریندر مودی نے گوں ناگوں وجوہات کی بناء پر اسرائیل کے لیے رختِ سفر باندھا تو ا سلحہ کے تاجر نیتن یاہو اپنی چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوائی اڈے پر خاص لمحات کا ذکر اور کہا کہ ‘میں اور میری اہلیہ سارا نے آپ کا استقبال کیا اور میں آپ کو گلے لگا کر ملا۔ دنیا جسے ‘مودی ہگ’ کہتی ہے ، اس کا تجربہ کیا۔ اس منافقانہ دکھاوے پر ہندوستان کا گودی میڈیا فدا ہوگیا اور دورے کے حوالے بڑی بڑی باتیں کرنے لگا مثلاً مودی جی اسرائیل سے میزائل خرید کر لائیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ ایران نے تو دنیا بھر کی پابندیوں کے باوجود اپنے سوپر سونک میزائل بنالیے لیکن پچھلے بارہ سال سے اقتدار پر فائز ‘میک ان انڈیا’کا نعرہ لگانے والوں کو انہیں در آمدکرنے کی نوبت کیوں آئی؟ کیا’ خود انحصاری’ کا دعویٰ محض ایک ڈھکوسلہ تھا؟
ذرائع ابلاغ کے اندر اسرائیل کے ‘آئرن ڈوم’ کی در آمد کا بھی خوب چرچا ر ہا۔ ایسے میں پوچھا جانا چاہیے کہ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک کی خاطر وہ ‘آہنی گنبد’ کس طرح مفید ہوگا جو اسرائیل جیسے ننھے منے سے ملک کی بھی حفاظت نہیں کرسکا ۔ ایران نے اپنے اوپر ہونے والے حملے کے جواب میں جب میزائلوں کی برسات کی تو اس گنبد میں بے شمار سوراخ ہوگئے ۔ یہاں تک کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو اپنا گھر چھوڑ کر سائپرس کے کسی نا معلوم فوجی اڈے میں جاکر چھپنا پڑا۔ اپنے ملک کے اندر وزارتِ داخلہ کی عمارت کو منہدم ہونے میں ناکام ہونے والا آئرن ڈوم بھلا ہندوستان کے کس کام آئے گا جبکہ اس کا سابقہ چین کے جدید ترین اسلحہ سے ہوگا جو اس نے پاکستان کو بھی دے رکھے ہیں۔ اس لیے آئرن ڈوم نہیں خریدا گیا کیونکہ وہ کسی کام کا نہیں ہے ۔ اس خریدو فروخت سے پرے اس موقع اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک "اتحاد کا مسدس تشکیل دینے کا خطرناک اعلان کردیا۔ اس کوانہوں نے "بنیاد پرست محور کے خلاف متحد اقوام کی قوت بتایا۔
دنیا کی جن اقوام کے خلاف اسے منظم کیا گیا ہے اس کی وضاحت یوں کی گئی کہ یہ خاص طور پر بنیاد پرست شیعہ اور ابھرتے ہوئے بنیاد پرست سنی خطرات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ اس طرح انہوں نے اسرائیل کی بہت بڑی سفارتی شکست کو تسلیم کرلیا ۔ اس سے قبل اسرائیل کی حکمتِ عملی شیعہ ممالک کو سنی ّدنیا سے لڑا کر ان کی پھوٹ کا فائدہ اٹھانے کی تھی لیکن غزہ کی مزاحمت نے شیعہ سنی تفریق کی دیوار گرادی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اختلاف پیدا کرنے والا اسرائیل اب بلا واسطہ ان کو اتفاق و اتحاد کی جانب ڈھکیل رہا ہے ۔ مجوزہ مسدسِ اتحاد میں شامل ممالک اسرائیل، ہندوستان، یونان، قبرص، اور دیگر بے نام عرب، افریقی و ایشیائی ممالک کانام سن کر محاورہ یاد آتا ہے ‘کیا پدیّ کیا پدیّ کا شوربہ’؟ایک طرف جہاں سعودی عرب ، پاکستان اور ترکی یکجا ہورہے ہیں اور چین و روس ان کے ساتھ آرہے ہیں ایسے میں یہ مسدس کیا کرلے گا؟ مسدسِ اتحاد میں شامل کسی ایک ملک پر حملہ سبھی پر تصور کیا جائے گا۔
اسرائیلی جمہوریت میں توہر الیکشن سے قبل فلسطینیوں یا کسی نہ کسی پڑوسی ملک سے جنگ چھیڑ دی جاتی ہے تاکہ اس کی مدد سے انتخاب جیتا جا سکے ۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر وہ ایران سے لڑ پڑے تو کیا ہندوستان اس کو مدد کرنے کے لیے یہاں سے میزائل پھینکے گا؟ وہ میزائل پاکستان کو پار کرکے صحیح سلامت ایران پہنچ پائیں گے ؟ اور پہنچ بھی گئے تو کیا ان کا جواب نہیں آئے گا ۔ اس طرح بیٹھے بٹھائے ملک اپنے صدیوں پرانے دوست کو دشمن بنالے گا۔ اسی طرح اگر اسرائیلی سرپھرے سعودی عرب پر حملہ کربیٹھیں تو تمام خلیجی ممالک اس کے ساتھ اسرائیل کے خلاف متحد ہوجائیں گے ۔ ایسے میں مذکورہ بالہ مسدّسِ مزاحمت کے تحت ہندوستان اور اسرائیل یکجا ہوجائیں گے ۔ اس کے بعد جنگ کا مرحلہ سے پہلے وہاں رہنے والے تقریباً ایک کروڈ ہندوستانی باشندے ملک دشمن بن جائیں گے ۔ ان کو واپس لانا بہت بڑا مسئلہ ہوگا اور لوٹنے سے بڑے پیمانے پر بیروزگاری بڑھ جائے گی۔ ان کے ذریعہ آنے والا زر مبادلہ غائب ہوجائے گا ۔ وہاں ہونے والی برآمدات بند ہوجائیں گی اور اگر سارا تیل وینزویلا سے خریدنا پڑجائے تو ہندوستانی عوام کا تیل نکل جائے گا لیکن اگر مودی اڈانی کے مفادات کوکروڈوں شہریوں پر ترجیح دیں تو ان کی مرضی؟
ایک زمانے تک اسرائیل کی طاقت کا بڑا غلغلہ تھا لیکن ایران پر حملے نے وہ بھرم توڑدیا۔ بارہ دن کی جنگ نے اسرائیل کے انجر پنجر ڈھیلے کر کے اسے امریکہ کے آگے سجدہ ریز ہونے پر مجبورکردیا۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنے بہترین میزائلوں سے ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی مگر اس کا بال بیکا نہیں کرسکا۔ ابھی حال میں اتنا دباو بنایا گیا کہ کسی بھی لمحہ جنگ شروع ہوسکتی ہے مگر ٹرمپ نے حالیہ پارلیمانی خطاب میں یہ کہہ کر اس سے تقریباً رجوع کرلیا کہ ہم نے ایرانی جوہری پروگرام کو روک دیا ہے ۔ یہ جھوٹ اپنی گردن چھڑانے کے لیے گھڑا گیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے وزیر اعظم مودی کا غیر معمولی استقبال کرتے ہوئے کہا، ”…مجھے آپ کو بتانا ہے ، نریندر، میرے پیارے دوست، میں آج یہاں آپ کے آنے سے بہت خوش ہوں۔ میں اتنا خوش کبھی نہیں ہوا جتنا میں ایک عظیم دوست، بھارتـاسرائیل اتحاد کے عظیم حامی اور عالمی سطح پر عظیم لیڈر کے آنے سے ہوا”۔
نیتن یاہو کی چکنی چپڑی باتوں سے مودی جی کا دل بھر آیا۔ انہیں یاد آگیا کہ جس منحوس گھڑی میں اسرائیل کو تسلیم کیا گیا اسی دن ان کی پیدائش ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں کے اندر یک گونہ منحوسیت مشترک ہے ۔ مودی جی کو خطاب کے دوران 76 سال قبل ہندوستان چھوڑ کر جانے والے یہودی قبائل یاد آگئے ۔ انہوں یہ کہہ کر اسرائیل پر احسان جتایا کہ ان ہندوستانی نژاد لوگوں نے اسرائیل کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے میدان جنگ میں ان کے کارناموں کا تذکرہ کیا۔ جوش خطابت میں فرمایا کہ حیفاکی جنگ چار ہزار ہندوستانی نژاد فوجیوں نے جان دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر چار ہزار ہندوستانی تھے تو جملہ کتنے لوگ
مارے گئے ؟ اسرائیل نے تو کبھی بھی اتنی ساری اموات کو تسلیم نہیں کیا ۔ اب نیتن یاہو کا امتحان تھا کہ وہ اس تعداد کو تسلیم کریں یا تردید مگر انہوں نے یہودی مکر و فریب کا سہارا لے کر اسے نظر انداز کردیا تاکہ کسی توجہ اس جانب مبذول نہ ہو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ان یہودی قبائل کے حوالے سے ساوکر کے نظریۂ ہندوتوا کی بھی ٹانگ توڑ دی ۔ ساورکر اور گولوالکر کے مطابق ہندوستان کے مسلمانوں اور عیسائیوں کا مادرِ وطن تو ہندوستان ہے مگر ان کا پدرِ وطن ہندوستان نہیں ہے کیونکہ ان کی عقیدت کے مقامات سرزمین ِ ہند سے باہر ہیں یہی بات یہودیوں پر بھی صادق آتی ہے ۔ مودی بولے اسرائیل چلے جانے والے یہودیوں کا مادرِ وطن ہندوستان اور وطن پدری اسرائیل ہے ۔ سچائی تو یہ ہے فلسطین پر یہودیوں کا غاصبانہ قبضہ ہے ۔ وہ متنازع علاقہ یہودیوں کے باپ کا ملک نہیں ہے ۔ ویسے وہاں جاکر بس جانے والے یہودیوں کا مادرِ وطن اگرہندوستان ہے تو انہیں یہاں آکر بسنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ اسرائیل جس وقت بنا اسی زمانے میں پاکستان بھی عالمِ وجود میں آیا۔ اس سے پہلے وہاں بسنے والوں کا مادرِ وطن ہندوستان تھا تو کیا یہی بات مودی جی پاکستانیوں اور بنگلہ دیشی لوگوں کے بارے میں بھی کہیں گے ۔
یہ عجب تماشا ہے مبینہ طور پر بنگلہ دیش سے یہاں آنے والوں کو تو گھس پیٹھیا(درانداز) کہہ کر سیاست کی جائے اور اسرائیل کے یہودیوں کو ان کا مادرِ وطن یاد دلایا جائے ۔ اس طرح تو سی اے اے کی پوری کہانی ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ مودی جی بھول گئے کہ اتفاق سے اس قانون میں مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کا بھی ذکر نہیں ہے اور وہ پڑوسی ممالک کے لیے مخصوص ہے ۔ اس لیے اسرائیل پر اس کا اطلاق ہی نہیں ہوتا۔ ایسا لگتا ہے کہ عمر نے مودی جی کے دماغ کو متاثر کر دیا ہے اس لیے وہ بہکی بہلی باتیں کرنے لگے ہیں۔ ایسے میں سبکدوش ہوکر آرام کرنے میں ان کی اور ملک کے دیگر لوگوں کی بھلائی ہے ۔ ابھی چند ماہ کے اندر اسرائیل میں انتخاب ہونے ہیں ۔ نیتن یاہو کو لگتا ہوگا کہ مودی کی آمد سے ان کی کامیابی کے امکانات روشن ہوجائیں گے حالانکہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ مودی نے جب ہیوسٹن میں جاکر ‘اگلی بار ٹرمپ سرکار’ کا نعرہ لگایا تھا تو وہ ہار گئے ۔ اس لیے مودی کے دورے نے یاہو کی شکست پکیّ کردی ہے ۔ یروشلم میں نیتن یاہو نے مودی کو دوست سے بڑھ کر بھائی کہا ایسے مشہور مثل ‘چور چور موسیرے بھائی ‘ کی یاد آگئی ۔ (جاری ہے)
٭٭٭


