میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مودی ،یاہو اتحاد

مودی ،یاہو اتحاد

ویب ڈیسک
اتوار, ۱ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

موددی کے اسرائیلی دورے سے کئی راز اب راز نہیں رہے، اِس دورے سے دنیا پر واضح ہو گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل ہر حوالے سے
ایک ہیں اوردونوں ہی جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں ۔ماضی میں بھارت نے ہمیشہ کوشش کی کہ اسرائیل سے تعلقات کے
باوجود عرب ممالک سے بھی بناکر رکھی جائے تاکہ معاشی مفادات متاثر نہ ہوں۔ اِسی لیے اکثر فلسطینی کے حق میں باتیں کی جاتیںلیکن
نریندرامودی کی قیادت میں بھارت کو معاشی اہداف کے ساتھ اسلحہ ذخائر میں اضافے کا جنون ہے ،اسی جنون نے بھارت کو اسرائیل سے
نتھی کردیا ہے اوروہ اب عرب ممالک سے حاصل معاشی مفادات کی قربانی دینے پر بھی آمادہ و تیار ہے۔ مگر بھارت و اسرائیل کا اتحاد عرب
ممالک کے ساتھ عالمی امن کے لیے بہت خوفناک ،پریشان کُن اور تباہ کُن ثابت ہوگاجس کا ابھی مکمل اور درست تخمینہ لگانا مشکل ہے مگر
مودی کے دورے نے امن پسندوں کے تمام ابہام دور کردیے ہیں جس کے لیے عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کو نئی حکمت عملی اختیارکرنا ہوگی۔
عرب ممالک کواسرائیل اور بھارت کی شراکت دار ی کے مُضمرات کا ابھی صیح معنوں میں ادراک نہیں، اسی لیے اُن کا ردِ عمل توقعات
سے بہت کم ہے۔ ظاہری اِس صورت میںتیاری بھی نامکمل ہوگی سعودی عرب جیسا ملک بھی مخمصے کا شکار لگتا ہے جبکہ اُردن جو براہ راست
اسرائیلی خطرے کی زد میں ہے وہ بھی کچھ کہنے کی بجائے خاموشی سے دیکھنے پراکتفاکیے ہوئے ہیں ،اِس کی وجہ اسرائیلی خوف ہی ہو سکتا ہے
مگر خاموشی اختیار کرنے سے خطرہ یا خوف کم نہیں ہوتا،جب تک تدارک کے لیے عملی طورپر کچھ پیش رفت نہ کی جائے جس کے کسی بھی
عرب ممالک کی طرف سے آثار نظر نہیں آتے۔ اسی بناپر ایسی قیاس آرائیاں تقویت پکڑ رہی ہیں کہ صیہونی قیادت عظیم تر اسرائیل کے
منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عملی طورپر کام آغاز کر چکی ہے اور جو مقاصد عرب بہار کے دوران حاصل نہیں ہو سکے تھے، وہ اب
بزورطاقت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کاشام سے آغاز ہوچکامگرکیاخطرات کا سامنا کرنے کے لیے عرب ممالک تیار ہیں؟
ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اسی بناپریقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آمدہ چند برسوں کے دوران عرب ممالک کی جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی
یقینی ہے۔
امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات میں بظاہر سب اچھا نہیں ہے ۔اِس کے باوجودنہ صرف دفاعی معاہدہ بھارت سے ہی کیا ہے
بلکہ مشترکہ دفاعی پیداوار کے لیے اولیں انتخاب بھارت ہی ہے۔ یہ تضاد بہت حیران کُن ہے اور ایسے خیال کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت
آج بھی امریکہ کاخطے میں اولیں انتخاب ہے ،کیونکہ اسرائیل جو امریکہ کا سب سے مضبوط شراکت دار اور دفاعی مہرہ ہے وہ بھارت پر ازحد
مہربان ہے، بھارت کی ہتھیارجمع کرنے کی ہوس پوری کرنے میں معاون ہے جس سے جنوبی ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کا تیز ہونا یقینی
ہے۔ اگر پاکستان کا سعودی عرب سے مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا ہے تو بھارت نے ایسا ہی کچھ ملتا جلتا بندوبست اسرائیل سے کر لیا ہے۔
حالات کی نزاکت کوعرب امارات نے اسرائیل کاساتھ دیکر مزید بڑھا دیا ہے۔ اِن حالات میں اگر بلوچستان میں شورش بڑھے یا شمال
مغربی سرحد سے پاکستان پر دبائومیں اضافہ ہوتو اِس میں کسی کو حیرانگی نہیں ہونی چاہیے۔
مودی نے دورہ اسرائیل کے دوران بھارت کا روایتی موقف دوریاستی ترک کیااور سات اکتوبر2023کے حماس حملے کا درد محسوس
کرنے اور پورے یقین ومضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 25 فروری بدھ کے روزاسرائیلی پارلیمنٹ
سے خطاب کے دوران مودی نے کہا کہ بھارتی عوام کی جانب سے ہر جان کے ضیاع اور ہر خاندان کے لیے گہری تعزیت لایا ہوں جس کی
دنیا حماس کے وحشیانہ حملے میں تباہ ہو گئی مگر کہیں بھی غزہ کے اُن ہزاروں افراد کے لیے ایک لفظ تک بولنے سے اجتناب کیاجو اسرائیل کے
سفاکانہ حملوں کے دوران رزقِ خاک بن گئے ۔یہ مظلوم سے دوری اور طاقتور کی حمایت کے سوا کچھ نہیں۔ مودی کے حالیہ دورے سے
بھارت کی اِس تبدیل شدہ خارجہ پالیسی سے جانبداری کی تصدیق ہوئی ہے۔ اب سچ یہ ہے کہ عالمی حالات وواقعات میں بھارت اور اسرائیل یکجان دوقالب ہیں ۔
کچھ لوگوں کو صدرٹرمپ کے بنائے بورڈ آف پیس کے اجلاس کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہاکبی کے انٹرویوپر تعجب ہے
جس میں انھوں نے عظیم تر اسرائیل کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کوحق حاصل ہے کہ وہ دریائے فرات اور
دریائے نیل کے درمیان تمام عرب علاقوں پر قبضہ کرلے ،جب انٹرویو کو آگے بڑھاتے ہوئے مائیک ہاکبی سے وضاحت چاہی گئی کہ کیا
آپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اُردن، شام ،عراق ،سعودی عرب اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے تو جواب میں بائبل کاحوالہ دیتے
ہوئے انھوں نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر تائید کردی کہ اسرائیل نہ صرف اِن تمام علاقوں پر قبضہ کر سکتاہے بلکہ یروشلم ،گولان کی پہاڑیوں اور
غزہ پر بھی اسرائیل کو اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہیے۔ اب اِس کا مطلب ہے کہ 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ میں لیے گئے کسی علاقے
کواسرائیل واگزار نہیں کرناچاہتا اوراِس میںامریکہ کی اُسے آشیر باد حاصل ہے۔ یہ انٹرویوکسی عام شخص کے خیالات نہیں بلکہ مائیک ہاکبی
دراصل صدرٹرمپ کے معتمد خاص دوست ہیں اور آرکنساس کے سابق گورنربھی رہے ہیں ،اسی لیے سفیر جیسے اہم عہدے پر فائز شخص کے
خیالات کے ساتھ یہ امریکی سوچ کی وضاحت ہے کہ اِس کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی امکان نہیں ۔یہ سوچ اقوامِ متحدہ کی
پاس کی گئی قراردادوں کی بھی نفی ہے۔ اِن حالات میں مودی کا نیتن یاہوکاساتھ دینا قتلِ عام کی تائید اور انسانی حقوق کی نفی میں معاونت ہے ۔
بظاہرعرب ممالک کی حکومتوں کو مائیک ہاکبی نے چونکادیا ہے لیکن مزید سچ یہ ہے کہ عظیم تر اسرائیل کی مائیک ہاکبی نے پہلی بار بات
نہیں کی بلکہ 2008سے وہ ایسے خیالات کااظہار کررہے ہیں ۔بارہ نومبر 2024کوسی این این تک کہہ چکا کہ صدرٹرمپ اپنے ایک
ایسے معتمدخاص دوست کو بطور سفیر اسرائیل بھیج رہے ہیں جو فلسطین کومسئلہ مانتا ہی نہیں۔ اسی سے ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ غزہ کے
حوالے سے بنائے بورڈ آف پیس میں غزہ کے نمائندے کو شامل نہ کرنااسرائیلی مفاد کا تحفظ ہے اوریہ دراصل اسرائیل کو مضبوط کرنے کی
دانستہ کوشش ہے لیکن اِس حد تک طرفداری کے باوجودپاکستان اور عرب حکومتوں کاامریکی منصوبہ کا ساتھ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا
فلسطین اور غزہ کے حوالے سے امریکی اور اسرائیلی اقدامات عربوں کو جگانے کے لیے کافی نہیںیا وہ مزید کسی نقصان کے انتظار میں ہیں؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں