بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکا، آسٹریلیا اور یورپ سمیت کئی ممالک سخت ایکشن لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان ممالک نے ویزا قوانین مزید سخت کرنے، نگرانی بڑھانے اور سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں بھارتی سمگلرز ملوث نکلے، بھارتی سمگلرز اور جرائم پیشہ افراد عالمی سطح پر انسانی سمگلنگ، جعلی ڈگری نیٹ ورکس اور دہشتگردی کی واضح علامت بنتے جا رہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی سمگلرز کی منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کر دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انسانی سمگلنگ کے جرم میں ملوث ایک اور بھارتی شہری کو امریکی عدالت سے سزا سنا دی گئی۔ بھارتی سمگلر شیوم لنو درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہ چکا ہے۔ بھارتی سمگلر گذشتہ برس انسانی سمگلنگ کے کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ رہا، بھارتی شہریوں کی جانب سے انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کے دوران گرفتار ہوئے۔بھارتیوں کی غیرقانونی امیگریشن کا بڑھتا رجحان عالمی سکیورٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے، نااہل مودی کی ناقص اور ناکام پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو قانون شکن راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ماہرین کا کہنا تھابھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، منشیات سمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑے نیٹ ورکس عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بنتے کا رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کے میزبان ممالک میں بڑھتے جرائم نے مودی کے نام نہاد ترقی اور خوشحالی کے فریب زدہ بیانیے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔ بھارت ہمیشہ سے منشیات کی سمگلنگ کا مرکز رہا ہے مگر سمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہو گئے۔اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی UNODC کے مطابق "بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکل کی سمگلنگ کا بڑا مرکز، میانمار سے وسطی امریکہ اور افریقہ تک فراہمی جاری”۔حال ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت سے غیر قانونی افیون کی ترسیل ہزاروں زندگیاں تباہ کر کے صحت عامہ کے بحران کو بڑھا رہی ہیں، بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو غیر قانونی منشیات فراہم کرتا ہے۔
نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے 2023 میں بھارت سے سپلائی ہونے والی 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون ضبط کیں، نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے غیر قانونی (ٹراماڈول) ضبط کر لیے جو نشہ آور ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد، بھارت سے سمگلنگ افیون استعمال کر رہے ہیں،گھانا کا شہر تمالی بھی بھارت سے سمگل شدہ افیون کا سب سے بڑا شکار ہے۔ بھارت سے آنے والی افیونی ادویات نائیجیریا میں بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، 2018 میں حکومت نے غیر قانونی افیونی ادویات کی فروخت اور بھارت سے درآمد پر پابندی بھی لگائی۔تب سے اب تک سرحدپارسے مزیدافیونی ادویات کی سمگلنگ جاری ہے، بھارت سے افیون گھانا سمگل کی جاتی ہیں اور پھر گھانا کی سرحد سے نائیجیریا پہنچتی ہیں۔اقوام متحدہ کے یو این او ڈی سی کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت غیرقانونی شپمنٹس کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے اور بھارتی صنعتوں سے پریکرسر کیمیکلز میتھ لیبارٹریز تک پہنچ رہے ہیں۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔امریکی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کی ٹائمز آف انڈیا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق سال 2025 میں 23,830 بھارتی شہری غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے۔ جبکہ 2024 میں یہ تعداد کہیں زیادہ رہی اور امریکی حکام نے 85,119 بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے دوران حراست میں لیا تھا۔گرفتار ہونے والے بیشتر افراد بہتر روزگار اور زیادہ تنخواہ کے حصول کے لیے غیر قانونی راستوں کے ذریعے امریکہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص معاشی اور امیگریشن پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارتی اسمگلرز نے سخت نگرانی والے لاطینی امریکی راستوں کے بجائے کم استعمال شدہ، زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ راستوں کا انتخاب کیا، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور منظم جرائم میں اضافہ ہوا۔عالمی سیکیورٹی اداروں اور ماہرین نے بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس اور منظم جرائم کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے واضح خطرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مایوسی کے باعث یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں انسانی اسمگلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں ایک بھارتی شہری اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر دستاویزات میں جعل سازی اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی قیام کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی بھارتی نڑاد موٹل آپریٹرز کوشا اور ترون شرما کو منشیات کی فروخت اور جنسی اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ نومبر 2025 میں دکشت کمار پٹیل اور کیتن طلاتی نامی بھارتی شہریوں پر خواتین کی بین ریاستی اسمگلنگ اور جسم فروشی کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ان گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی تکالیف سے فائدہ اٹھانے والے ان عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
٭٭٭


