نا شکرے عوام
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
پنجاب کے عوام واقعی بڑے ناشکرے ہیں۔۔۔ آخر کب تک یہ لوگ خوشحالی سے تنگ آتے رہیں گے ۔۔۔؟ جب صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں، جب دو کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نکل کر خوشحالی کے سنہری میدانوں میں رقص کر رہے ہوں، جب یونیورسٹیوں کے دروازے علم کی روشنی سے چمک رہے ہوں، اسپتالوں میں مسیحائی قطار بنائے کھڑی ہو۔۔۔ اور سڑکیں اتنی ہموار ہوں کہ خواب بھی پھسل کر حقیقت بن جائیں، تو ایسے میں اگر محترمہ وزیراعلیٰ گیارہ ارب کا ایک چھوٹا سا طیارہ خرید لیں، تو آخر مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔؟ آخر اتنے بڑے صوبے کی ذمہ داری کوئی مذاق ہے ۔۔۔۔؟ کیا وزیراعلیٰ ہر شکایت سننے کیلئے رکشے پر تشریف لے جائیں۔۔۔۔؟ یا موٹر سائیکل پر فائلیں باندھ کر ضلع بہ ضلع پھرتی رہیں۔۔۔؟ نہیں جناب۔۔۔ وقار کا بھی تو ایک معیار ہوتا ہے ۔ اقتدار کا بھی تو ایک لباس ہوتا ہے ۔۔۔ اور قیادت کا بھی تو ایک پرواز طلب مزاج ہوتا ہے ۔ پولیس ہر شہری کو ”جی سر” کہہ رہی ہے ، عدالتوں میں اتنا انصاف ہے کہ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پی رہے ہیں، لوگوں کے چہروں پر خوشحالی کی ایسی چمک ہے کہ عینک کے بغیر دیکھنا مشکل ہو گیا ہے ، ایسے میں اگر کسی کے دل میں ہلکا سا سوال اٹھ جائے کہ کیا واقعی ترجیحات یہی تھیں۔۔؟ تو یہ سوال نہیں، ناشکری ہے ۔ آخرعوام کو سمجھنا چاہیے ، طیارے آسمان میں نہیں اُڑتے ، وہ وقار کو اُڑاتے ہیں۔ وہ طاقت کی علامت ہوتے ہیں، وہ اعلان کرتے ہیں کہ زمین پر سب کچھ مکمل ہو چکا، اب باری آسمان کی ہے ۔ لیکن شاید مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں لوگ خواب کم اور حساب زیادہ کرتے ہیں۔ وہ پوچھ لیتے ہیں کہ گیارہ ارب میں کتنے اسکول بن سکتے تھے ۔۔۔؟ کتنے اسپتالوں میں دوائیں آ سکتی تھیں۔۔۔۔؟ کتنے نوجوانوں کو روزگار مل سکتا تھا۔۔۔؟ یہ سوال واقعی مناسب نہیں۔ کیونکہ جب دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں، تو پیاس کا ذکر زیب نہیں دیتا۔ پنجاب کے لوگ واقعی ناشکرے ہیں۔ انہیں خوش ہونا چاہیے کہ ان کی قیادت زمین سے بلند ہو چکی ہے ۔ باقی رہ گئی عوام وہ آہستہ آہستہ خود بھی بلند ہو ہی جائیں گے ۔ آخر ترقی ہمیشہ اوپر سے نیچے آتی ہے ۔۔۔ ہے نا۔۔۔؟
اصل مسئلہ شاید طیارہ نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ عوام کی نظر ہے ۔ یہ لوگ زمین کو زیادہ دیکھتے ہیں، آسمان کم دیکھتے ہیں۔ انہیں گلی کے ٹوٹے نالے نظر آ جاتے ہیں، مگر ترقی کی اڑان دکھائی نہیں دیتی۔ انہیں بجلی کا بل یاد رہتا ہے ، مگر صوبے کا وقار یاد نہیں رہتا۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ جب وزیراعلیٰ کا جہاز فضا میں بلند ہوگا تو پوری دنیا کو پیغام جائے گاکہ پنجاب اب سائیکل کا نہیں، سائیڈ اسٹک اور کاک پٹ کا زمانہ ہے ۔۔۔؟ ترقی صرف سڑکوں سے نہیں ناپی جاتی، ترقی کبھی کبھی رن وے سے بھی ناپی جاتی ہے ۔۔۔ اور پھر یہ بھی تو سوچیں اگر قیادت تیز نہ اڑے تو عوام کو امید کیسے ملے گی۔۔۔؟ آخر مثال تو اوپر سے ہی قائم ہوتی ہے ۔ یہ جو لوگ سوال اٹھا رہے ہیں وہ دراصل حسد کے مارے ہیں، انہیں خوشحالی ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ چاہتے ہیں وزیراعلیٰ بھی ان کی طرح ٹریفک میں پھنسیں، گرمی میں پسینہ بہائیں، اور قطار میں کھڑے ہو کر شکایت سنیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے ۔۔۔۔؟ قیادت کا کام مسائل میں شامل ہونا نہیں، ان کے اوپر ہونا ہے ، بلند ہونا ہے ، دور اندیش ہونا ہے ۔۔۔۔ اور دور تک دیکھنے کے لیے بلندی ضروری ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں گیارہ ارب میں کئی اسکیمیں مکمل ہو جاتیں۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خوابوں کی قیمت منصوبوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور خواب ہمیشہ زمین پر نہیں بنتے وہ ہوا میں بنتے ہیں۔ پنجاب کے ناشکرے لوگو!!! خوش ہونا سیکھو، جب جہاز اڑے تو ہاتھ ہلایا کرو۔ شاید کسی دن وہی جہاز تمہاری دعاؤں کو بھی ساتھ لے جائے۔ آخر ترقی کی اصل تعریف یہی ہے نا، کہ چند لوگ بہت اوپر ہوں اور باقی لوگ نیچے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔۔۔؟
کہتے ہیں ترقی کا راستہ ہموار ہونا چاہیے ۔۔۔۔ سو ہم نے راستہ ہموار کر لیا، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ راستہ زمین پر نہیں، رن وے پر ہے ۔ ایک طرف شہر کی کچی بستیاں ہیں، جہاں بارش آتی ہے تو چھتیں دعا مانگتی ہیں، جہاں بجلی جاتی ہے تو اندھیرا مستقل رہائشی بن جاتا ہے ، جہاں بچے کتاب سے زیادہ قسمت پڑھتے ہیں۔ اور دوسری طرف ایک چمکتا ہوا رن وے ہے ، چکنا، سیدھا، روشنیوں سے مزین۔ جہاں سے ایک خواب پرواز کرے گا، گیارہ ارب کا خواب ۔۔۔ لوگ کہتے ہیں ترجیحات بدل گئی ہیں۔ نہیں جناب، ترجیحات بلند ہوئی ہیں۔ زمین سے آسمان تک کا سفر ہے یہ۔ آخر کب تک ہم گلیوں کی سطح پر سوچتے رہیں گے ۔۔۔؟ کبھی تو ہمیں بھی بادلوں سے بات کرنی چاہیے ۔ کچی بستی کا مکین اگر سوال کرے کہ اس کے نالے کی مرمت کب ہوگی، تو اسے سمجھنا چاہیے کہ صوبے کا وقار پہلے ہے ۔ کیونکہ جب جہاز اڑے گا تو شاید اس کی بستی کے اوپر سے بھی گزرے اور وہ سر اٹھا کر کہہ سکے ”یہ میرا صوبہ ہے ،یہ میرا فخر ہے ” ۔۔۔ اگرچہ اس کے گھر کی چھت ٹپک رہی ہو۔ اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم نے ترقی کو چھو کر دیکھنے کی عادت ڈال لی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں اسکول میں استاد ہو، اسپتال میں دوا ہو، روزگار میں استحکام ہو۔ لیکن جدید دور کی ترقی نظر سے نہیں، منظر سے ناپی جاتی ہے ۔ اور منظر میں جہاز خوب لگتا ہے ۔ سو اے رن وے کے کنارے کھڑے لوگو!!!! اپنی نظریں ذرا اوپر اٹھاؤ، زمین پر دراڑیں رہیں تو رہنے دو، آسمان صاف ہونا چاہیے ۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ اڑان یاد رکھتی ہے ، پاؤں کے چھالے نہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ مسئلہ نہ طیارہ ہے ، نہ رن وے ۔ مسئلہ ترجیح کا ہے ۔ اور ترجیح ہمیشہ نظریے سے جنم لیتی ہے ۔ قومیں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک وہ جو زمین مضبوط کرتی ہیں پھر آسمان کی طرف دیکھتی ہیں۔۔۔۔ اور دوسری وہ جو پہلے آسمان کو چھونے کی کوشش کرتی ہیں اور زمین بعد میں سنبھالتی ہیں۔ طنز اپنی جگہ، مخالفت اپنی جگہ، مگر سوال سب کے لیے ایک ہے ، کیا ترقی وہ ہے جو اوپر دکھائی دے ۔۔۔؟ یا وہ جو نیچے محسوس ہو۔۔۔؟ اگر اوپر روشنی ہو اور نیچے اندھیرا، تو کیا ہم اسے صبح کہہ سکتے ہیں؟ جہاز اڑ جائیں گے ، رن وے چمکتے رہیں گے ، تصاویر بنتی رہیں گی۔ مگر تاریخ آخرکار یہی پوچھے گی زمین کتنی مضبوط تھی۔۔۔؟
٭٭٭


