میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گل پلازہ خوشی کا مرکز، اب موت کا سناٹا،کراچی والوں کی ایک ادھور ی عید

گل پلازہ خوشی کا مرکز، اب موت کا سناٹا،کراچی والوں کی ایک ادھور ی عید

ویب ڈیسک
هفته, ۳۱ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

40 گھنٹے بعد کا ہولناک منظر،آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟،سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
آگ گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 7 تک اتنی جلدی کیسے پہنچی؟ میڈیا نمائندگان کا آنکھوں دیکھا حال

(رپورٹ:افتخار چوہدری)شہرِ قائد کا مشہور زمانہ گل پلازہ، جو دہائیوں سے عید کی خریداری اور شادیوں کے سامان کا مرکز تھا، حالیہ ہولناک آگ کے بعد اب محض ایک سیاہ کھنڈر بن چکا ہے۔میڈیا نمائندگان نے کولنگ کے عمل کے بعد عمارت کے اندر قدم رکھا اور اس سانحے کا دل دہلا دینے والا منظر بیان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کراچی کا وہ ’گلدستہ‘ تھا جہاں ہر عمر اور طبقے کے لوگ آتے تھے۔ "اگر کسی کے گھر شادی ہو اور وہ گل پلازہ نہ جائے تو اس کی شادی ادھوری سمجھی جاتی تھی۔” شعبان کا مہینہ شروع ہوتے ہی دکانداروں نے عید کی تیاریوں کے لیے دکانیں مال سے بھر دی تھیں لیکن اب وہاں خوشیوں کے بجائے صرف کالک، دھواں اور ناقابلِ برداشت تپش باقی ہے۔انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے تقریباً 40 گھنٹے بعد جب انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت ملی، تو وہاں کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ سانس لینا محال تھا۔ اندر صرف اندھیرا تھا اور جلے ہوئے سامان کی وہ مخصوص بو جو ہوش اڑا دے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی دکانداروں نے اس امید میں شٹر گرا دیے تھے کہ آگ جلد بجھ جائے گی، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ شٹر ان کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو رہے ہیں۔انہوںنے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ محض 30 سے 45 منٹ کے اندر پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں کیسے آگئی؟ ان کے مطابق، یہ ایک بڑا سوال ہے کہ آگ گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 7 تک اتنی جلدی کیسے پہنچی؟ کیا یہ بجلی کی تاروں کا شارٹ سرکٹ تھا یا عمارت میں موجود کیمیکل اور پلاسٹک کا سامان؟ اس کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔رپورٹ کے مطابق کراچی کی 99 فیصد تجارتی عمارتوں میں ’فائر ایگزٹ‘ یا آگ بجھانے کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں۔ ساجد رؤف نے بتایا کہ دو سال قبل سروے کے باوجود کسی نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب دکانداروں سے ان انتظامات کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ تعاون کرنے کے بجائے لڑنے پر اتر آتے ہیں۔گل پلازہ کی فوڈ اسٹریٹ، وہاں کے چنا چاٹ اور کھٹے آلو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ اس بار کراچی والوں کی عید ویسی نہیں ہوگی، 1200 سے زائد دکانوں کا جلنا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی خوشیوں کا قتل ہے۔رپورٹرز کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ ’ڈنڈے‘ کے زور پر سیفٹی قوانین نافذ نہیں کرے گی، ایسے حادثات معصوم شہریوں کی زندگیاں نگلتے رہیں گے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں