میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پنجاب میں سیلا ب سے تباہی،بستیاں ڈوب گئیں(اموات 25 ، لاکھوں شہری متاثر،متعدد لاپتا

پنجاب میں سیلا ب سے تباہی،بستیاں ڈوب گئیں(اموات 25 ، لاکھوں شہری متاثر،متعدد لاپتا

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۹ اگست ۲۰۲۵

شیئر کریں

 

دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال سے تباہی مچ گئی،پانی آبادیوں میں داخل ،لاکھوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ،ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ، رابطہ سڑکیں اور کئی پل بہہ گئے
چوہنگ کے قریب نجی سوسائٹی سیلابی پانی میں ڈوب گئی، دریائے راوی میں شاہدرہ اوربلوکی پرپانی کا بہاؤ تیز ہوگیا، بندکے ایک حصے پر شہری مال مویشیوں کے ساتھ موجود ، امداد کے منتظر

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث تباہی مچ گئی، لاکھوں افراد متاثر ہوئے اور جاں بحق افراد کی تعداد 22 افرادہو گئی جبکہ متعدد لاپتہ ہو گئے۔پنجاب کے بڑے دریائوں سے پانی کناروں سے نکل کر آبادیوں میں داخل ہونے سے لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئیں، 6 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں، سیکڑوں دیہات زیر آب آ چکے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچہ جات کے نقصانات کا اندازہ پانی اترنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔ دریائے راوی میں شاہدرہ پر پانی میں اضافے کے بعد اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہائو ایک لاکھ 45 ہزار 160 کیوسک ہو گیا ہے۔کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ ابھی تک راوی میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50ہزارکیوسک ہے۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام محکموں کی تیاری مکمل ہے اور ہائی الرٹ پرہیں، راوی میں جسڑ کے مقام پر سیلاب کا زور کم ہونے لگا ہے، پانی کا بہائو ایک لاکھ52 ہزار کیوسک پر آگیا۔دریائے چناب میں ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادر آباد پر پانی کے بہائو میں کچھ کمی آنا شروع ہوئی ہے مگر صورتحال اب بھی خطرناک ہے۔ہیڈ خانکی پر پانی کا بہا ئوساڑھے 10 لاکھ کیوسک سے کم ہو کر 8 لاکھ 59 ہزار کیوسک پر آ گیا ، ہیڈ قادر آباد پر بھی غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے۔ وہاں پانی کا بہائو 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک ہو گیا۔دوسری جانب دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہائو 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زائد ہے اور یہاں بھی غیر معمولی سیلاب ہے۔اسی طرح ہیڈ مرالہ پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہا ئو ایک لاکھ 91 ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور ستلج میں سلیمانکی پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔ سیالکوٹ میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد، گجرات میں 4، نارووال میں 3، حافظ آباد میں 2 اور گوجرانوالہ شہر میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔گجرات کے شہبازپور میں دریائے چناب کا بند ٹوٹنے سے تین بچے بھی ڈوب گئے، جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ ایک کو زندہ بچا لیا گیا۔سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں سیلاب کے باعث 3 افراد جاں بحق ہو گئے ۔سیلاب سے نارووال کے کئی دیہات زیر آب آگئے، ہزاروں ایکڑپر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، شکر گڑھ نارووال روڈ بھی ڈوب گیا جبکہ قلعہ احمد آباد میں ریلوے ٹریک سیلاب کی زد میں آگیا جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔شکرگڑھ میں کوٹ نیناں کے مقام پر دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، متعدد دیہات زیرِآب آچکے ہیں، رابطہ سڑکیں اور کئی پل بہہ گئے۔دوسری جانب ساہیوال کے نواحی علاقے میں دریائی کٹا ئوسے ساہیوال مین جی ٹی روڈ سمیت مختلف مقامات پر پانی سڑک کے ساتھ بہنے لگا۔چناب میں سیلاب سے وزیر آباد میں پلکھو نالا بپھر گیا، گنجائش سے زیادہ پانی سے نالہ اوور فلو ہوگیا اور سیلابی ریلا وزیرآباد شہر میں داخل ہونے سے کئی دیہات اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔گوجرانوالہ میں لوگوں نے اپنی مدد کے تحت نقل مکانی کی، حافظ آباد کے گاں سجادہ میں بھی سیلابی ریلا پل بہا کر لے گیا۔ادھر مظفرگڑھ میں کئی دیہات زیرآب آگئے، بڑا سیلابی ریلا اگلے دو سے تین روز میں گزرے گا۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر مختلف دیہات زیر آب آگئے، گائوں کے گائوں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔انتظامیہ کی وارننگ اور اعلانات کے باوجود کئی مکین گھروں اور مویشیوں کو چھوڑنے پر تیار نہیں۔دوسری جانب بہاول نگر میں کپاس اور دھان کی فصلوں کو نقصان پہنچا، کئی رابطہ سڑکیں بہہ گئیں جبکہ وہاڑی کے علاقے میلسی میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی دیہات اور فصلیں زیر آب آگئیں۔ملتان میں دریائے ستلج میں جلالپور پیر والا کے مقام پر سیلابی صورتحال ہے، بستیوں میں پانی داخل ہوگیا، ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں