ملک ریاض کا گھیرا مزید تنگ(ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ اور بے نامی سرمایہ کاری کے شواہد جمع کرنے کا ہدف)
شیئر کریں
بحریہ ٹان کے مالک کیخلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ،بھائی اور بیٹے کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا ،امیگریشن اہلکاروں پر رشوت وصولی کا الزام
بحریہ ٹائون میں سرمایہ لگانے والے متعدد افراد کو نوٹس جاری،ایئرپورٹ پر دونوں کو پروٹوکول دینے والے ایف آئی اے اہلکاروں کیخلاف تحقیقات شروع ،ذرائع
بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کے خاندان کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا جبکہ ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض کے خلاف تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیاگیا ہے۔ ان کے بیٹے احمد اور بھائی کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے امیگریشن کے اہلکاروں پر مبینہ طور پر پروٹوکول دینے اور رشوت وصول کرنے کا الزام بھی سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور ایئرپورٹ پر ملک ریاض کے بیٹے کو دبئی روانگی سے قبل روک دیا گیا، جبکہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کے بھائی کو بیرونِ ملک جانے سے منع کرتے ہوئے واپس بھیج دیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ایف آئی اے کے امیگریشن شعبے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ذرائع نے بتایاکہ دونوں افراد کو ایئرپورٹس پر پروٹوکول دینے کے لیے لاہور اور اسلام آباد میں تعینات ایف آئی اے اہلکاروں نے مبینہ طور پر بھاری رشوت وصول کی۔ اس انکشاف کے بعد ایف آئی اے حکام نے ان اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔نیب عدالت کے حکم پر پہلے سے جاری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اب ایف آئی اے کا اینٹی منی لانڈرنگ سیل بھی بحریہ ٹائون میں ہونے والی مبینہ غیر قانونی سرمایہ کاری پر متحرک ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے بحریہ ٹائون میں سرمایہ لگانے والے متعدد افراد کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے طلبی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔بحریہ ٹائون سے متعلق حساس نوعیت کی تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف آئی اے کراچی کے انسپکٹر ثنا اللہ اور سب انسپکٹر عدنان دلاور کا تبادلہ کر کے انہیں تحقیقات کمیٹی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔دونوں افسران کو بحریہ ٹائون سے منسلک منی لانڈرنگ اور بے نامی سرمایہ کاری کے شواہد جمع کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔یاد رہے کہ بحریہ ٹائون کے مالک ملک ریاض حسین گزشتہ چند ماہ سے نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے ریڈار پر ہیں ان کے خلاف جاری تحقیقات میں زمینوں کے غیر قانونی قبضے، منی لانڈرنگ، اور غیر قانونی سرمایہ کاری جیسے الزامات شامل ہیں۔


