میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور امریکی اہداف

 ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت اور امریکی اہداف

جرات ڈیسک
منگل, ۳ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

اسرائیل کے تازہ ترین حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے جس کی ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کر دی۔ ایرانی ریاستی ٹی وی نے علی شمخانی اور پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر پاکپور کی شہادت کی بھی تصدیق کر دی۔جس کے بعد بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نے پاسدارانِ انقلاب کی کمان سنبھال لی۔ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کر دیا گیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق شہادت کے وقت ایرانی سپریم لیڈر اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ ملک میں7 روز کے لیے چھٹی کا بھی اعلان کیا گیا۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر عراق میں مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئی ہیں اور ایران کے شہر مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، یہ پرچم روایتی مذہبی عزا یا سوگ کے مواقع پر لہرایا جاتا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطاق آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر مشہد میں سوگ کی فضاہے، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مشہد میں عوام بڑی تعداد میں جمع ہوگئے عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر حملہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں واقع اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق ایران کے حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے ساتھ، جس کی علامت تہران اور دیگر شہری مراکز پر میزائل حملے ہیں، خطے کی نئی تشکیل کی کوشش عملی طور پر شروع ہو چکی ہے۔ ابھی یہ واضح ہونے میں چند دن لگ سکتے ہیں کہ آیا اس جنگ کا نام نہاد ‘‘حکومت کی تبدیلی’’ کا مقصد حاصل ہو سکا ہے یا نہیں، اور اسلامی جمہوریہ ایران اس لڑائی میں جسے وہ اپنی بقا کی جنگ قرار دیتا ہے کس حد تک ثابت قدم رہتا ہے۔ابھی جنگ ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کا حتمی نتیجہ دو بنیادی عوامل پر منحصر ہوگا: ایران امریکہ، اسرائیل اور ان کے خلیجی اتحادیوں کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے، اور ایرانی عوام و قیادت امریکی فوجی طاقت کے بے پناہ دباؤ کے باوجود کتنے عرصے تک اس جنگ کو جاری رکھنے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتے ہیں، جبکہ امریکہ عملاً اسرائیل کے معاون کے طور پر میدان میں موجود ہے۔اگر یہ جنگ ہفتوں سے بڑھ کر مہینوں تک پھیل جاتی ہے اور ایران کی حکومت برقرار رہتے ہوئے میزائل حملوں کے ذریعے جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے تو ممکن ہے گریٹر اسرائیل کا خواب خود ایک ڈراؤنے خواب میں بدل جائے۔ اگر امریکی تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے یا امریکی فوجی ہلاکتیں ہوتی ہیں تو امریکہ میں میگا(MAGA) حلقوں کے اندر اسرائیل کے لیے امریکی کردار پر اختلافات مزید گہرے ہو جائیں گے، اور ایسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ روکنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔جنگ کے ابتدائی دھندلکے میں سوالات یقیناجوابوں سے زیادہ ہوں گے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ ایران کے جوہری پروگرام یا اس کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی مبینہ کوشش سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران کے یورینیم افزودگی کو محدود کرنے والے معاہدے کو ختم کرنے اور مذاکرات کے دوران تہران پر دو مرتبہ حملے کرنے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اصل مقاصد نمایاں ہو چکے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق اصل ہدف ‘‘حکومت کی تبدیلی’’، ایران کی میزائل سازی اور لانچنگ صلاحیت کا خاتمہ، اور اس کی بحری طاقت کو تباہ کرنا ہے۔ ایک آسٹریلوی ٹی وی چینل پر دفاعی ماہر نے درست طور پر کہا کہ ٹرمپ دراصل اسرائیل کی زبان بول رہے ہیں نہ اس سے زیادہ، نہ کم۔امریکی سرخ لکیریں وقتاً فوقتا اسرائیلی قیادت کے مطالبات کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔ ایران کا میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اتحادیوں سے تعلق امریکہ کی بنیادی شرط نہیں تھے؛ اصل مسئلہ صرف ایران کا جوہری پروگرام بتایا جاتا تھا ، جو اب پس منظر میں جا چکا ہے۔ اسرائیل اور اس کے بااثر مالی حامیوں کا اثر اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ امریکہ خود ایک نمائندہ کردار اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔گزشتہ سال کی 12 روزہ ایران۔اسرائیل جنگ میں ایران نے نسبتاً مؤثر ردعمل دیا تھا۔ اسرائیلی حملوں میں اس کی اعلیٰ فوجی قیادت اور جوہری و میزائل سائنس دانوں کو نشانہ بنایا گیا، مگر اس کے باوجود ایران نے تل ابیب اور حیفہ کی بندرگاہ سمیت مختلف اہداف پر شدید میزائل حملے کر کے خوف و بے چینی پیدا کی۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی اسی نوعیت کے حملوں کا مقابلہ کر سکے گا؟اس بار فرق یہ ہے کہ امریکہ کی غیر معمولی فوجی تعیناتی موجود ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ امریکی فوجی وسائل کا بڑا حصہ اس کارروائی میں شامل ہے اور وہ عملی طور پر اسرائیلی فوج کا بازو بن چکا ہے۔ امریکہ سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اگر ایران طویل مزاحمت کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو امریکہ کتنی دیر تک اس جنگ کو برداشت کر پاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ دونوں فریق اپنی تیاریوں میں کس حد تک کامیاب رہے، کیونکہ ایران کو اندازہ تھا کہ یہ دن جلد آنے والا ہے۔
عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں طاقت، بیانیہ اور حقیقت کے درمیان خلیج روز بروز وسیع ہوتی جا رہی ہے اورطاقت کی سیاست، قومی مفاد اور داخلی سیاسی تقاضے بین الاقوامی اصولوں پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی سیاست میں امریکہ اور بھارت کا ابھرتا ہوا اسٹرٹیجک اشتراک بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ بحرِ ہند و بحرالکاہل کی حکمت عملی، چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ اور دفاعی تعاون کے معاہدے دونوں ممالک کو قریب لا رہے ہیں۔ ایسے میں اسرائیل کے ساتھ بھارت کی قربت اور ایران کے بارے میں امریکہ کا سخت مؤقف خطے میں ایک نئی صف بندی کا اشارہ دیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان طاقت کا توازن نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔لیکن یہ بات اٹل ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے: تباہی، بربادی اور انسانیت کا قتل یہاں سوال یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ کے سائے کو پہچان نہ سکے؟ گزشتہ برسوں میں ایران، اسرائیل، امریکہ اور خلیجی ریاستوں کے درمیان کشیدگی نے ایک پیچیدہ جال بْن دیا ہے۔ بحیرہ روم سے لے کر خلیج فارس تک میزائل، ڈرون اور بیانات ایک دوسرے کا تعاقب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر فریق اپنے اقدام کو دفاع قرار دیتا ہے، ہر بیان میں قومی سلامتی کا حوالہ ہوتا ہے، مگر سرحدوں کے پار عام انسان کے لیے یہ سب خوف کی ایک طویل رات میں بدل جاتا ہے۔ ایران کا
موقف یہ ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی اثر و رسوخ کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے۔ اس کے نزدیک پابندیاں، خفیہ کارروائیاں اور عسکری دباؤ اس کی سلامتی کے خلاف ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل اپنے وجودی خطرات کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے خطرے کو قبل از وقت روکنے کا حق رکھتا ہے جو اس کی سرحدوں یا شہریوں کے لیے مہلک ہو سکتا ہے۔ امریکہ خود کو خطے میں استحکام کا ضامن قرار دیتا ہے، مگر اس کی عسکری موجودگی اور پابندیوں کی پالیسی سے کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔یہ تمام عوامل مل کر ایک بڑے سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا موجودہ عالمی قیادت طاقت کے مظاہرے کو سفارت کاری پر فوقیت دے رہی ہے؟ اگر‘‘امن بزورِ طاقت’’ ہی اصول بن جائے تو کیا عالمی ادارے، کثیرالجہتی مذاکرات اور بین الاقوامی قانون اپنی افادیت برقرار رکھ سکیں گے؟ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز کا کردار اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب بڑی طاقتیں انھیں کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کریں۔تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو موجودہ عالمی بیانیہ زیادہ تر داخلی سیاست سے جڑا ہوا ہے۔دنیا کو اس وقت ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو طاقت اور ذمے داری کے درمیان توازن قائم کر سکیں، جو داخلی سیاست کے تقاضوں کو عالمی اصولوں پر غالب نہ آنے دیں اور جو سفارت کاری، انصاف اور انسانی وقار کو اپنی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت عارضی ہو سکتی ہے، مگر انصاف اور توازن ہی پائیدار امن کی بنیاد بنتے ہیں، اگر عالمی قیادت اس اصول کو پیشِ نظر رکھے تو موجودہ بحرانوں سے نکل کر ایک زیادہ مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل ممکن ہے۔ ایسے حالات میں تمام فریقوں کو امن اور سلامتی کے وسیع تر مفاد میں ہتھیار خاموش کر کے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ گزشتہ 12 روزہ ایران۔ اسرائیل تصادم نے ثابت کیا کہ جلد بازی میں طاقت کا استعمال طویل المدتی مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ابتدائی حملے کو اکثر حکمتِ عملی قرار دیا جاتا ہے، جبکہ ردعمل کو غیر ذمہ داری کہا جاتا ہے۔ مگر اصل مقصد واضح دکھائی دیتا ہے: طاقت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی۔ ایران پر حملہ دراصل مغربی ایشیا کے سیاسی نقشے کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے تاکہ ایسی حکومت کو ہٹایا جا سکے جو اسرائیل اور امریکہ کی اسٹریٹجک ترجیحات
سے ہم آہنگ نہیں۔اگر تہران میں اسرائیل نواز حکومت قائم کی گئی تو خطے میں طاقت کا توازن بنیادی طور پر بدل جائے گا، جس سے ہمسایہ ممالک عدم استحکام کا شکار ہوں گے اور مزید مداخلتوں کی راہ ہموار ہوگی۔ پاکستان کے لیے یہ کوئی دور کی جنگ نہیں۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک تعاون ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے، اور ایران میں جبری حکومت کی تبدیلی کے پاکستان، خصوصاً بلوچستان کے تناظر میں، اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی طاقت کے مقابلے میں طویل جنگ ایران کے لیے مشکل ہو سکتی ہے، مگر جنگیں صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتیں؛ ان کا فیصلہ سیاسی جواز، استقامت اور بعد کے نتائج کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ، جو کبھی طویل جنگوں کے خلاف انتخابی مہم چلاتے تھے، آج اسی نوعیت کے بیرونی تنازع میں الجھے نظر آتے ہیں۔اصل سبق یہ نہیں کہ ایران عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر طاقتور ریاستیں کسی خودمختار ملک پر روک تھام کے نام پر یکطرفہ حملے کرنے لگیں تو  بین الاقوامی نظام خود عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر عالمی قانون کی کوئی اہمیت باقی رکھنی ہے تو اسرائیلی جارحیت کی نشاندہی اور مزاحمت ضروری ہے۔اس موقع پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا اس کی داخلی پالیسیوں کی مکمل حمایت نہیں، بلکہ اس اصول کا دفاع ہے کہ تنازعات کا حل سفارت کاری سے ہونا چاہیے، نہ کہ میزائل حملوں یا ایسی پابندیوں سے جو عام لوگوں کو بھوک اور مشکلات کا شکار بنائیں۔موجودہ صورت حال میں اگر فوری طور پر کوئی سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے خلاف شروع کی گئی مشترکہ اسرائیلی امریکی جارحیت پورے مشرقِ وسطیٰ  بلکہ اس سے بھی آگے شدید افراتفری اور تباہ کن صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود کو امن پسند رہنما قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا  دعویٰ ہے کہ انہوں نے8 جنگیں رکوا دیں اور گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلح کشیدگی میں مداخلت کر کے کروڑوں جانیں  بچائیں لیکن حالیہ اقدامات ان کے اس خود ساختہ تاثر کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ایران کے معاملے میں  ٹرمپ نے ایک جنگ پسند رہنما ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

بظاہر ایران عالمی برادری کو یہ یقین دہانی کروانے کے لیے تیار تھا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، اس کے باوجود امریکہ مسلسل اپنے مطالبات تبدیل کرتا رہاکبھی ایران کی جوہری پالیسی پر تنقید، کبھی اندرونی  اختلاف رائے کے خلاف کارروائیوں پر اعتراض، اور کبھی خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کو مسئلہ بنایا گیا۔ اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مذاکرات محض وقت حاصل کرنے کا ایک حربہ تھے اور امریکہ اسرائیل اتحاد درحقیقت امن کے لیے سنجیدہ ہی نہیں تھا۔ اب وہ جنگ شروع ہو چکی ہے جس کی تیاری طویل عرصے سے کی جا رہی تھی، اور اس کا انجام کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔ایران میں حکومت کی تبدیلی کو ہدف بناتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو‘‘صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا’’۔ تاہم حکومت کی تبدیلی اتنی آسان نہیں ہوگی، اور اس کے نتیجے میں وہی تباہی جنم لے سکتی ہے جو افغانستان، لیبیا اور عراق میں دیکھی گئی۔اگر یہ تنازع جاری رہا تو نہ صرف خونریزی میں بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ خطہ دنیا کو تیل اور گیس کی فراہمی کا اہم مرکز اور عالمی تجارت کا بڑا گزرگاہ ہے۔ فوری جنگ بندی ناگزیر ہے، ساتھ ہی تمام ممالک کی علاقائی خودمختاری کے احترام کا واضح عہد بھی ضروری ہے۔ تاہم موجودہ طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے بعید دکھائی دیتا ہے کہ تل ابیب اور واشنگٹن عقل و دانش کی آواز پر کان دھریں گے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں