پاکستان میں ایرانی سفیر ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل
شیئر کریں
دیگر دو نامزد افراد میں تقی دانشور کی شناخت ایران کی وزارت انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی میں انسداد جاسوسی افسر کے طور پر ہوئی
غلام حسین محمدنیہ نے 2018 میں نکالے جانے سے قبل البانیہ میں ایران کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ نے منگل کے روز پاکستان میں ایران کے موجودہ سفیر رضا امیری مقدم کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
ان سمیت دو دیگر ایرانی اہلکاروں پر 2007 میں ایران کے جزیرہ کیش سے ایک امریکی ریٹائرڈ خصوصی ایجنٹ کے اغوا میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔
فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’معلومات کی تلاش‘ کے پوسٹرز کا اجرا میں تین سینئر ایرانی عہدیدار شامل ہیں، رابرٹ اے ’باب‘ لیونسن کی گمشدگی اور ایران کی جانب سے اپنی ذمہ داری چھپانے کی مبینہ کوششوں کے بارے میں جاری تحقیقات کا حصہ ہیں۔
دیگر دو نامزد افراد میں تقی دانشور ہیں، جن کی شناخت ایران کی وزارت انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی میں انسداد جاسوسی افسر کے طور پر ہوئی ہے
جبکہ غلام حسین محمدنیہ جنہوں نے 2018 میں نکالے جانے سے قبل البانیہ میں ایران کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ایف بی آئی کے واشنگٹن فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر انچارج سٹیون جینسن نے جاری شدہ بیان میں کہا کہ ’یہ تین انٹیلی جنس افسران ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مبینہ طور پر باب لیونسن کے 2007 کے اغوا اور اس کے بعد ایرانی حکومت کی طرف سے پردہ پوشی میں سہولت فراہم کی تھی۔‘
’باب ممکنہ طور پر بعد میں اپنے خاندان، دوستوں اور ساتھیوں سے بہت دور قید میں جان سے گئے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ایف بی آئی اس اغوا میں ملوث کسی بھی شخص کو ان کے قابل مذمت اعمال کا حساب دینے کے لیے اپنی مسلسل کوشش جاری رکھے گی۔‘
ایف بی آئی کے مطابق، مقدم، جنہیں احمد امیرینیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے لیونسن کے اغوا کے وقت منسٹری آف انٹیلیجنس اینڈ سکیورٹی ایران کے آپریشن یونٹ کی قیادت کی، ایف بی آئی کے مطابق یورپ میں مقیم انٹیلیجنس ایجنٹوں نے انہیں تہران میں اطلاع دی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں حکام نے ایف بی آئی ایجنٹ کے اغوا کا الزام پاکستان کے بلوچستان کے علاقے میں سرگرم عسکریت پسند گروپ پر ڈالنے کی کوشش کی۔
ایف بی آئی باب لیونسن کے بارے میں ٹھوس اطلاع، بازیابی یا ان کی واپسی کی معلومات کے لیے پچاس لاکھ ڈالر تک کے انعام کی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس کے علاوہ، امریکی محکمہ خارجہ کا ’انعام برائے انصاف پروگرام‘ اس کیس میں متعلقہ معلومات کے لیے بیس لاکھ ڈالر انعام تک کی پیشکش کر رہا ہے۔
امیری مقدم کی عمر 64 برس ہے، اور پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔


