میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کورونا وائرس سے متعلق 100 سوالات، امریکی کانگریس میں ڈاکٹر فاوتچی کا جواب سے انکار

کورونا وائرس سے متعلق 100 سوالات، امریکی کانگریس میں ڈاکٹر فاوتچی کا جواب سے انکار

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

اگلے ہفتے فاوتچی کو کانگریس کی توہین کے الزام میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا، چیئرمین کمیٹی کا عزم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امریکی سینیٹ میں ایک ہنگامہ خیز سماعت ہوئی جو تقریبا 3 گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاوتچی نے ہوم لینڈ سکیورٹی اینڈ گورنمنٹل افیئرز کمیٹی کے ارکان کے ان سوالات کے جوابات دینے سے انکار کر دیا جو چینی لیبارٹری ووہان سے کورونا وائرس کے لیکیج کے الزامات اور شہری آزادیوں پر عائد کی گئی پابندیوں سے متعلق تھے۔

سابق امریکی اہلکار نے خود کو جرم سے بچانے کے اپنے آئینی حق پر سختی سے عمل کیا۔کمیٹی کے چیئرمین اور ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے اگلے ہفتے فاوتچی کو توہینِ کانگریس کے الزام میں ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے محاذ آرائی کو مزید بڑھا دیا۔

نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 85 سالہ فاوتچی نے سماعت کے دوران 100 سے زائد بار جواب دینے سے انکار کیا اور صرف ایک ہی جملہ دہراتے رہے: اپنے وکیل کے مشورے پر، میں آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت ملنے والے حقوق کی بنیاد پر احترام کے ساتھ جواب دینے سے انکار کرتا ہوں۔

فاوتچی نے پہلے سے تیار کردہ ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ پانچویں ترمیم کا سہارا لینے کے لیے اپنے وکیل کی ہدایت پر عمل کر رہے ہیں اور انہوں نے اس موقف کو اختیار کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میں صرف اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہوں کہ مجھے اس کمیٹی کے سامنے بلانے کا واحد مقصد مجھے کچھ ایسا کہنے پر مجبور کرنا ہے جو اس کے چیئرمین کے ان دہرائے گئے عوامی وعدوں کو درست ثابت کر سکے کہ میرا انجام سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔

فاوتچی نے مزید کہا کہ پال کا ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا تعصب، ان کے توہین آمیز بیانات اور ان کی ذاتی یادداشتوں کی اشاعت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس سماعت کا حقیقی مقصد سیاسی انتقام ہے۔

اس کے برعکس سینیٹر رینڈ پال نے تاکید کی کہ فاوتچی کو جواب دینے سے گریز کے لیے پانچویں ترمیم کا سہارا لینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سابق صدر جو بائیڈن سے ملنے والی قبل از وقت معافی انہیں نتائج سے نہیں بچا سکے گی۔

ریپبلکنز کو امید تھی کہ اس سماعت سے فاوتچی سے کورونا وائرس کے ماخذ اور چین کے شہر ووہان میں کی جانے والی تحقیقات پر پردہ ڈالنے کے الزامات کے بارے میں جواب طلبی کا موقع ملے گا اور شاید کانگریس کے سامنے جھوٹے بیانات دینے کے الزام میں ان کے خلاف کارروائی کا راستہ کھل جائے گا۔

لیکن اس سماعت نے ریپبلکنز کے الزامات کو تقویت دینے والا کوئی نیا ثبوت فراہم نہیں کیا بلکہ اس نے کورونا وبا کے انتظامی امور پر سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا۔ جس وبا نے 10 لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جانیں لیں اور فاوتچی کو امریکہ کی متنازع ترین شخصیات میں سے ایک بنا دیا۔

سماعت کے دوران ایک نمایاں تصادم اس وقت دیکھنے میں آیا جب پال نے فاوتچی کے وکیل ڈیوڈ شرٹلر کو بار بار مداخلت کرنے پر ایوان سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔ شرٹلر نے بعد میں اس فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سماعت کی انتقامی اور بغیر کسی قانونی بنیاد والی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب ہوم لینڈ سکیورٹی اینڈ گورنمنٹل افیئرز کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رینڈ پال کے ساتھ شدید تلخ کلامی کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے ڈاکٹر انتھونی فاوتچی کے وکیل کو سینیٹ کی سماعت سے باہر نکال دیا۔

سینیٹر نے ڈاکٹر فاوتچی کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ خاموشی سے بیٹھ جائیں اور ایک لفظ بھی نہ بولیں۔ میں نے کہا خاموشی سے بیٹھ جائیں، آپ کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ایک اور لفظ بولا تو آپ کو باہر نکال دیا جائے گا۔ وکیل بولنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے جس پر سینیٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا سر، آپ کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

سکیورٹی اہلکارو، برائے مہربانی انہیں ہال سے باہر نکالیں۔ہال سے باہر نکلتے ہی کچھ صحافیوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وکیل کیا کہنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انہوں نے شروع میں کوئی بیان دینے سے انکار کر دیا تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ فاوتچی کو پانچویں ترمیم کے تحت جائز آئینی حق حاصل ہے اور انہیں اس پر قائم رہنے کا پورا حق ہے۔

پھر انہوں نے مزید کہا کہ یہی وہ بات تھی جو میں کمیٹی کو بتانے کی کوشش کر رہا تھا، بس یہی بات میں کمیٹی کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا۔واضح رہے فاوتچی اس سماعت میں رینڈ پال کی طرف سے جاری کردہ سمن کے تحت پیش ہوئے تھے جو سالوں سے اس سابق ہیلتھ آفیشل پر یہ الزام عائد کرنے کی مہم چلا رہے ہیں کہ انہوں نے چین کے شہر ووہان میں ان تحقیقات کی مالی معاونت کی جن کے نتیجے میں، ان کی رائے میں، وبا پھیلی تھی۔

فاوتچی مسلسل ان الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ سائنسی اداروں اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے حکام نے بھی ان الزامات کی تردید کی ہے۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ فاوتچی نے کمیٹی کے سامنے اپنے ابتدائی کلمات میں یہ واضح کیا تھا کہ ان کی خاموشی پارلیمانی نگرانی کے انکار کی عکاسی نہیں کرتی۔

انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ انہوں نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کی 38 سالہ قیادت کے دوران 200 سے زائد بار کانگریس کے سامنے گواہی دی ہے۔ واضح رہے کہ فاوتچی نے 38 سال تک وائٹ ہاس کے چیف میڈیکل ایڈوائزر اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

اس دوران انہوں نے 11 صدارتی دورِ حکومتوں میں 7 امریکی صدور کا ساتھ دیا اور 2022 میں ریٹائرمنٹ تک متعدد وائرسز اور وباں کا مقابلہ کرنے اور ان سے نمٹنے کی نگرانی کی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں