
مسائل کا مقابلہ کرنا ہے تو سیاسی استحقام قائم کرے ,بلاول بھٹو
شیئر کریں
کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مسائل کا مقابلہ کرنا ہے تو سیاسی استحکام قائم کرنے کی کوشش کریں-
زرائع کا کہنا ہے کہ 2013 تک پیپلز پارٹی دور میں انقلابی اصلاحات لائی گئیں، کچھ قوتوں کو پسند نہیں آئیں –
پیپلز پارٹی پر حملے کیے گئے، پی ٹی آئی کو جگہ دینے کے لیے یہ کیا گیا، اپوزیشن اس وقت نہ جمہوری ہے نہ سیاسی ہے، سیاسی جماعتیں سیاست کے دائرے میں سیاست نہیں کر رہیں۔
پیپلز پارٹی کے 57ویں یوم تاسیس کے جلسوں سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ہمیشہ لیول پلیئنگ فیلڈ کی شکایت ہوتی ہے-
ہم نے اپنے اعتراضات ایک طرف رکھے، جمہوریت کیلیے آگے بڑھے، تاریخ میں پہلی بار صدر زرداری دوسری بار صدر کا عہدہ سنبھال رہے ہیں۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ن لیگ کو اکثریت نہیں دی گئی، دیگر جماعتوں کو اکثریت دی گئی –
پیپلز پارٹی جہاں فیصلہ کرے حکومت بنے، اپوزشن حکومت کیلیے سیریس نہیں تھی-
قائد کو جیل سے نکالنا چاہتے تھے، ن لیگ کے ساتھ حکومت کا حصہ نہیں بنے، کھلا میدان دیا تاکہ پرفارم کرسکیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہر موقع پر ہم نے عوام کے فائدے، قومی مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا، مہنگائی میں کمی، غربت میں کمی، امن و امان دیکھنا چاہتے ہیں-
پیپلز پارٹی ملک کا روشن مستقبل چاہتی ہے، سیاسی جماعتیں، ادارے ملک کے مسائل حل کر سکتے ہیں-
افسوس کے ساتھ سیاسی استحکام نہیں، عوام کو نقصان ہورہا ہے-
انہوں نے کہا کہ تین نسلوں کی جدوجہد کے بعد آج بھی پیپلز پارٹی ملک کے کونے کونے میں موجود ہے-
پیپلز پارٹی کی جدوجہد، عوام، جمہوریت، معاشی ترقی کے لیے ہے-
شہید ذولفقار علی بھٹو کے منشور کو پاکستان کے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، شہید بی بی نے تمام سازشوں کا مقابلہ کیا، اگر بی بی کو شہید نہ کیا جاتا تو تیسری بار وزیر اعظم بنتیں-
شہید بینظیر بھٹو کے دور میں عوام کو فائدہ ہوتا تھا، وہ جب بولتی تھیں تو پوری دنیا سنتی تھی –
انہوں نے بہادری سے آمریت کا مقابلہ کیا، 18 اکتوبر کی مثال ہم سب کے سامنے ہے-
بی بی شہید پر حملہ کیا گیا، قاتلوں کی سوچ تھی بے نظیر کو شہید کرکے پیپلز پارٹی کو ختم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے وہ حاصل کیا جو تاریخ میں حاصل نہیں کیا گیا-
وہ جب پہلی بار منتخب ہوئے تو 18ویں ترمیم پاس کروائی، سی پیک انقلابی منصوبہ دیا-
انہوں نے اپنے دور میں عوام دوست پالیسیاں دیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قائد عوام کی سوچ اور نظریہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے-
ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کا عدالتی قتل کیائ گیا-
جب بینظیر بھٹو پر حملہ ہوا تو وہ بھی عوام کو چھوڑ کر بھاگ سکتی تھیں۔انہوں نے شہید بھٹو اور بینظیر کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔