میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی ایوی ایشن مسائل کا شکار

بھارتی ایوی ایشن مسائل کا شکار

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۸ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

عالمی ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں فضائی تحفظ کے مسائل اب انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ یہ انتظامی اور ریگولیٹری ناکامی کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بار بار پیش آنے والے حادثات، پائلٹس کے خلاف کارروائیاں اور بین الاقوامی اداروں کی وارننگز اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارتی سول ایوی ایشن کے نگرانی کے نظام کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
مودی کے پاکستان مخالف جارحانہ اقدامات کا خمیازہ بھارتی ائیرلائنز کو ناقابل تلافی معاشی نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مودی سرکار کی معاشی ناکامیوں کے نتیجے میں انڈین ایئرلائنز مسلسل زوال کا شکار ہو رہی ہیں۔ بی جے پی کی کٹھ پتلی بھارتی حکومت کی ناقص حکمت عملی نے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کو تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے اور مودی کے بلند بانگ ترقیاتی دعووں کے پیچھے بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کی مشکلات کی تلخ حقیقت سامنے آ گئی ہے۔بدترین پالیسیوں کے باعث ایوی ایشن سیکٹر شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کی وجہ سے مہنگے ایندھن اور کمزور بھارتی روپیہ نے ایوی ایشن کے شعبہ کی کمزوریاں آشکار کر دی ہیں۔ کم از کم 10 ایئرلائنز بھاری نقصانات کے باعث اپنا سفر ختم کرگئی ہیں۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایوی ایشن کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ معروف بھارتی صحافی پالکی شرما کے مطابق مودی کی نااہلی اور تباہ کن پالیسیوں کی وجہ سے ایئرلائنز کی ناکامیاں بھارتی ایوی ایشن سیکٹر کی مثال بن چکی ہے۔

بھارت کی 3 بڑی ایئر لائنز شدید بحران کا شکار ہونے کے سبب ملک میں پروازوں کی معطلی کا خدشہ پیدا ہوگیا، حکومت سے ہنگامی مدد کی اپیل کردی۔ بھارتی فضائی صنعت بحران کے دہانے پر پہنچ گئی، 3 فضائی کمپنیوں ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے حکومت سے فوری مدد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن آف انڈین ایئر لائنز (ایف آئی اے) جو ایئر انڈیا، انڈیگو، اور اسپائس جیٹ کی نمائندگی کرتی ہے، نے وزارتِ شہری ہوا بازی کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ صنعت ’’شدید دباؤ‘‘ کا شکار ہے اور فوری ریلیف نہ ملا تو پروازیں منسوخ اور طیارے گراؤنڈ کیے جاسکتے ہیں۔ایف آئی اے نے حکومت کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ حالیہ ایران جنگ اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی حد تک اضافہ ہوا ہے۔بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کے پائلٹ کے چرس پی کر 137 مسافروں اور عملے کے 8 ارکان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ یہ پرواز 4 اگست کو فوکٹ سے نئی دہلی جارہی تھی اور دورانِ پرواز اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے آگئی تھی جس کے نتیجے میں متعدد مسافر اور عملے کے ارکان زخمی ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد طیارے کے دونوں پائلٹس کے لازمی طور پر نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ طیارے کے کپتان کا ابتدائی ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد ضابطے کے تحت اس کا نمونہ تصدیقی ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا۔تصدیق کے لیے بھیجا گیا دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا اور ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ٹیسٹ میں ماریجوانا یعنی چرس کے استعمال کی نشاندہی ہوئی ہے۔واقعے کے وقت جہاز کا پائلٹ اپنی نشست پر موجود نہیں تھا اور فرسٹ آفیسر طیارہ اڑا رہا تھا۔ اچانک بلندی میں کمی کے باعث وہ افراد زیادہ متاثر ہوئے جو اپنی نشستوں پر سیٹ بیلٹ باندھے بغیر موجود تھے۔

بھارتی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو کے مطابق واقعے میں مسافر اور عملے کے ارکان زخمی ہوئے جبکہ بعض افراد کو کمر اور گردن کے حصے میں چوٹیں آئیں۔یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ دوسرا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے کا مطلب لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ پائلٹ واقعے کے وقت نشے کی حالت میں تھا۔حکام نے ابھی تک یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ پرواز کے دوران پائلٹ ماریجوانا کے اثر میں تھا یا طیارے کے اچانک 300 فٹ نیچے جانے کی وجہ اس کا مبینہ منشیات استعمال تھا۔بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے واضح کیا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین مکمل شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی ایک اطلاع کی بنیاد پر نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔واقعے کے بعد کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں کو روسٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک وہ پرواز نہیں کر رہے۔بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے بتایا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کردی ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم طیارے کے تکنیکی نظام، فلائٹ ڈیٹا، آپریشنل اور مینٹیننس ریکارڈز، طبی معلومات اور متعلقہ افراد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد واقعے کی اصل وجوہات اور اس میں کردار ادا کرنے والے عوامل کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات تجویز کرنا ہے۔

بھارتی سول ایوی ایشن ایک بار پھر عالمی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ایئر انڈیا کی ایک پرواز کینیڈا کے ہوائی اڈے پر اس وقت روک دی گئی جب پائلٹ میڈیکل ٹیسٹ میں ناکام ہو گیا۔ رپورٹس کے مطابق پائلٹ کو نشے کے زیرِ اثر پائے جانے پر فوری طور پر پرواز سے ہٹا دیا گیا۔ کینیڈا کے ٹرانسپورٹ ریگولیٹر نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایئر انڈیا سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایئر انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ 26 جنوری تک تحقیقات کی رپورٹ جمع کرائے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے بھی اس واقعے کے بعد ایئر انڈیا کے چار پائلٹس کو وارننگ نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان پر تکنیکی مسائل کے باوجود بوئنگ 787 طیارے کو پرواز کے لیے موزوں قرار دینے کا الزام ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی ایوی ایشن پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس سے قبل 12 جون کو ایئر انڈیا کا ایک طیارہ احمد آباد کے قریب حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 274 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ابتدائی رپورٹس میں انجن کی خرابی، ایئر ٹریفک کنٹرول کی لاپرواہی اور بروقت ہنگامی ردعمل کی کمی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں