امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ
شیئر کریں
جاوید محمود
۔۔۔۔
امریکہ سے
امریکی کانگریس کی جانب سے ایران جنگ کے دوران امریکی فضائیہ کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اس لڑائی کے دوران امریکہ کے 42طیارے تباہ ہوئے یا انہیں نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سینٹرل کمانڈ سینٹ کام اور نیوز آرٹیکلز کا حوالہ دیا گیا جن کے مطابق جن طیاروں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوئے ان میں بغیر پائلٹ کے طیارے ، لڑاکا طیارے اور ڈرون طیارے شامل ہیں۔ دو مارچ 2026 کو سینٹ کام نے تصدیق کی کہ امریکہ کے دو ایف 15ای سینٹرائک لیگل طیارے کویت میں فرینڈلی فائر کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گئے۔ اس واقعے میں دونوں طیاروں سے عملے کے چھ افراد باحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔پانچ اپریل 2026کو سینٹ کام نے بتایا کہ امریکہ کا ایک ایف 15ای طیارہ ایران میں ایک فضائی کارروائی کے دوران گرکرتباہ ہو گیا ،جس کے دونوں پائلٹس کو ایک الگ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران وہاں سے نکال لیا گیا۔ 19مارچ کے ایک نیوز آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہر جنگی کارروائیوں کے دوران ایرانی زمینی فائر نے ایک ایف 35اے طیارے کو نقصان پہنچایا ۔اس وقت امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام نے تصدیق کی تھی کہ ایک امریکی ایف 35لڑا کا طیارے کو ایران کی فضائی حدود میں جنگی مشن کے بعد مشرقی وسطیٰ کے ایک ایئر بیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی ۔سینٹرل کمانڈ کی طرف سے واقعے کی مزید تفصیلات نہیں دی گئی لیکن سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جہازکو ایران نے ہدف بنایا تھا۔ 12مارچ 2026 کو سینٹ کام نے اطلاع دی کہ دو کے سی 135 ٹینکر طیاروں کے درمیان عراق کی فضائی حدود میں ہونے والے تصادم کے نتیجے میں ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جبکہ ایک بحفاظت لینڈنگ کرنے میں کامیاب ہو گیا، گرنے والے طیارے میں عملے کے تمام چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارے فضا میں لڑا کا طیاروں کی فیولنگ کے کام آتے ہیں ۔14مارچ کو ایرانی میزائل اور ڈرون حملے کے دوران طیاروں کو نقصان پہنچا 135کے سی سعودی عرب کے شہزادہ سلطان ایئر بیس پر زمین پر موجود پانچ پی تھری سینٹری ایئر بونڈز ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم ایئر کرافٹ پانچ اپریل 2026کو دو ایم سی 130جے طیاروں کو جان بوجھ کر ناکارہ کیا گیا جو تباہ ہونے والے ایف 15ای طیارے کی تلاش اور ریسکیو کی کارروائیوں میں معاونت کر رہے تھے۔ خیال رہے کہ ایران نے امریکہ کے ایک ایف 15ای طیارے کو مار گرایا تھا اور اس طیارے کا ایک کریو ممبر ایران میں لاپتہ ہو گیا تھا، جس کی تلاش کے لیے امریکہ نے بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیاں کی تھیں۔ ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے دوسرے رکن کو ریسکیو کرنے کے دوران امریکی اور ایرانی فورسز کا آمنا سامنا بھی ہوا تھا، صدر ٹرمپ نے اسے بہت بڑا جنگی مشن قرار دیا تھا، جس میں امریکہ کے درجنوں طیاروں نے حصہ لیا تھا، چھ اپریلشن کے دوران نقصان پہنچا ، جنرل ڈین کے نے ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ پانچ اپریل کو امریکہ کے ایک ایچ ایچ 60 ڈبلیو ہیلی کاپٹر کو ریسکیو مشن کے دوران نقصان پہنچا ۔ان کا اشارہ امریکی پائلٹ کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ریسکیو مشن کی جانب تھا جو ایران کی جانب سے گرائے گئے ایف 15 ای طیارے کے لاپتہ کریو ممبر کے لیے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ امریکی حکام ایران جنگ کے دوران اپنے زیادہ تر مقاصد حاصل کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ بھی متعدد مواقع پر یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کی فضائیہ اس کی فوج اور نیوی کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے جنگ میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی اور اب بھی اس کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس بات کا درجنوں بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی فضائیہ کا مکمل طور خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی نیوی کے تمام جہازوں کو تباہ کر دیا گیا ۔بات یہ ہے کہ اگر یہ دعوے صحیح ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایران جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے ۔اور ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ چھ ماہ تک جنگ لڑ سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار پر میزائلوں اور ڈرونز کا اسٹاک ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی نیوی کو تباہ کرنے کے دعوے غلط ہیں ۔امریکن تجزیہ کارحالیہ تنازع کے دوران ایران میں گر کر نہ پھٹنے والے امریکی اور اسرائیلی گولہ بارود کو تہران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے ایک اسٹریٹیجک موقع قرار دے رہے ہیں۔ 26 اپریل کو رپورٹ کیا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے ہربزگان صوبے میں 15بھاری امریکی میزائلوں کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا ہے اور ان ہتھیاروں کو ریورس انجینئرنگ کے لیے ٹیکنیکل اور ریسرچ یونٹس کے حوالے کر دیا ہے ۔یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان ہتھیاروں میں ایک جی بی یو 57بنکر بسٹر بم بھی شامل ہے ۔
ریورس انجینئرنگ ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی ہتھیار چیز سافٹ ویز یا مشین کو کھول کر اور اس کے حصوں کا تجزیہ کر کے یہ سمجھنے کی
کوشش کی جاتی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اسے کیسے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایران کے سخت گیر اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک نے ان
بموں کی دریافت کو ایک تحفہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ میدان جنگ اب ملک کی دفاعی صنعت کے لیے ایک ریسرچ لیبارٹری بن چکا ہے۔ ان کے مطابق نہ پھٹنے والے ہتھیاروں کو تجزیے کے لیے لیبارٹری منتقل کرنا ایران کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دشمن کی خطرناک ٹیکنالوجی کی تخلیق کی نقل کر کے اس صورتحال کو ایک اسٹریٹیجک موقع میں بدل دے۔ مغربی تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا ہے انہیں اصل تشویش اس بات پر ہے کہ ایران جدید امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کو ڈی کوٹ کر رہا ہے ۔اس رپورٹ میں ریورس انجینئرنگ کو ایران پر عائد
پابندیوں کے باعث ایک طویل عرصے سے ناگزیر ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور ماضی کی کوششوں کی مثالیں بھی دی گئی ہیں جن میں امریکی ساختہ ہا ک میزائلوں کی نقل اور 2011میں آر کیو 170ڈرون کو قبضے میں لینا شامل ہیں ۔ایران کے انتہائی سخت گیر اخبار کہان کے چیف ایڈیٹر شریعت مداری نے ان کامیابیوں کے وسیع تر جغرافیائی سیاسی استعمال کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران ریورس انجینئرنگ کرے اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی کو امریکہ کے حریف ممالک جیسے چین اور روس کے ساتھ شیئر کرے سخت گیر اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی ان صارفین نے ان اطلاعات کو ہمارے لیے اچھی اور امریکہ کے لیے بری خبر قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا جبکہ بعض نے جلد بڑے پیمانے پر ان ہتھیاروں کی تیاری کی پیش گوئی بھی کی۔ ماہرین نے اس معاملے کو محض ایک خبر نہیں بلکہ عالمی جنگ کے آغاز سے تعبیر کیا اور مغربی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برآمد ہونے والا ساز و سامان امریکی ٹیکنالوجی کی پوشیدہ تہوں کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ مشرقی وسطیٰ کے تجزیہ کار احسان تکنسی نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال کے پیش نظر امریکہ کو نئے ہتھیاروں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑ سکتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ عسکری طور پر بھی زیادہ محتاط ہو جائے گا۔ امریکی ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ امریکہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
٭٭٭


