میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

ویب ڈیسک
منگل, ۲۵ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے
نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا

معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا ۔ توانائی شعبے میں گزشتہ دس سال میں بجلی ٹیرف میں 3گنا اضافہ ہوا،نان انرجی ٹیرف کاسب سے زیادہ 60فیصدبوجھ غریب گھرانوں پرڈالاگیا۔ رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے میں پیداواری صلاحیت سال 2025ء میں 45ہزارمیگا واٹ تک پہنچ چکی، گردشی قرضہ بھی 2 ہزار 600ارب روپے سے تجاوزکرگیا،ادائیگی کا زیادہ بوجھ غریب گھرانے برداشت کر رہے ہیں،100یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا،نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا۔رپورٹ کے مطابق 10ڈسکوز کی نا اہلی اورنقصانات نے توانائی شعبے کوقرضوں کے جال میں پھنسا دیا جن کے ایوریج ٹرانسمیشن اورڈسٹری بیوشن نقصانات 16سے 17فیصد ہیں،صارفین سے ڈیبٹ سروسنگ سرچارج،ٹیرف ریسنلائزیشن سرچارج،فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافی بلزکی وصولی جاری کردی گئی،مڈل انکم و الے صارفین 34.2روپے فی یونٹ اورامیرطبقہ 46.5روپے یونٹ بجلی بل ادا کررہا ہے ،بجلی ٹیرف کا 35فیصد تک غیر توانائی سرچارجزپرمشتمل ہے ،لیکن غریب گھرانوں کے بلوں میں 37فیصد حصہ سرکلر ڈیٹ سرچارجزکا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بجلی کی لاگت میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ توانائی شعبے کے قرضوں کی لاگت بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے غریب ترین 40 فیصد گھرانے سرچارج کا 55تا 60فیصد ادا کرنے پرمجبورہیں۔45فیصد قومی آمدن کے مالک امیر گھرانے صرف 15سے 20فیصد سرچارج ادا کرتے ہیں۔ رپورٹ نے فوری اصلاحات اور منصفانہ ٹیرف اسٹرکچر کی سفارش کی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں