میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر دھماکا، ایف سی اہلکاروں سمیت 30 شہادتیں، 50 زخمی

کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر دھماکا، ایف سی اہلکاروں سمیت 30 شہادتیں، 50 زخمی

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۴ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

  فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں 50 سے زائد زخمی بھی ہوئے، (سرکاری عہدے دار)

 

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے اتوار کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 30 شہادتیں ہوئی ہیں جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔

عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید بتایا کہ جان سے جانے والوں میں سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔

دھماکہ کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب اس وقت ہوا جب ٹرین سگنل عبور کر رہی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔

ایک اور سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹرین میں سوار کئی فوجی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کوئٹہ سے پشاور جا رہے تھے۔

حملے کے بعد جائے وقوعہ کی ویڈیوز اور تصاویر میں ٹرین کی ایک بوگی کو بری طرح تباہ اور پٹری سے اترا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ امدادی کارکن اور شہری ملبے کے درمیان پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

ایک اور اہلکار نے بتایا کہ متعدد فوجی اہلکار عید کی چھٹیوں کے سلسلے میں اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔

جائے وقوعہ پر موجود ایس پی سٹی قادر کنبرانی نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد، جو ابتدائی طور پر سات بتائی گئی تھی، بڑھ کر 52 تک پہنچ گئی۔

واقعے کے فوراً بعد ایمبولنسز اور سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔

علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

واقعے کے بعد کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ایک روز کے لیے معطل کر دی گئی۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اپنے بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا انڈیا اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

حنیف عباسی نے کہا کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹڑی سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔

صوبائی حکومت نے ایک بیان میں واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔

بیان کے مطابق شہر کے ہسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر کے تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور طبی عملے کو ڈیوٹیوں پر طلب کر لیا گیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں