میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۳ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

برطانیہ کے شہریوں نے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے تحریک چلائی اُن کے خیال میں برطانیہ کی مضبوط اور ترقی کرتی معیشت کی راہ
میں یورپ کے معاشی حوالے سے کمزور ممالک رکاوٹ ہیں۔ اِس خیال کی وجہ رومانیہ سمیت مشرقی یورپ کے ممالک سے لوگوں کی بڑی
تعدادکا اپنا مسکن برطانیہ کو بناناتھاجو برطانوی شہریوں کے لیے رہائشی اور ملازمتوں کے مواقع محدودکرنے کا باعث ہیں حالانکہ ایک فائدہ
بھی تھا کہ نئے آنے والے والے زیادہ محنت سے کام کرتے اور برطانیہ کو اقتصادی طورپر مضبوط بنارہے تھے ۔اُن کی محنت سے ملک کوزیادہ
ٹیکس حاصل ہونے لگا تھا لیکن عوامی تحریک نے حکومت کومجبورکردیاکہ یورپی یونین سے الگ ہواجائے، عوامی رائے جاننے کے لیے جون 2016 میں بریگزٹ کے نام سے ملک میں ریفرنڈم کرایا گیا جس میں 52فیصد کے لگ بھگ شہریوں نے یورپی یونین سے نکلنے کے حق
میں ووٹ دیا تاکہ برطانیہ اپنی سرحدوں کے ساتھ اپنے قوانین کے نفاذاور معیشت پر دوبارہ وہ کنٹرول حاصل کرسکے۔ اِس ریفرنڈم میں 48فیصد شہریوں نے بددستور یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا لیکن ظاہر ہے اکثریت کافیصلہ تسلیم کرنا ہوتا ہے، لہٰذا 31
جنوری2020میں برطانیہ نے یورپی یونین کو خیر باد کہہ دیا جس کے نتیجے میں آزاد تجارت کے ساتھ آزاد نقل وحمل کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن
آج ثابت ہوگیاہے کہ یہ فیصلہ ایک جذباتی سوچ کے زیر اثر کیاگیاجس سے فوائد کم اور نقصانات زیادہ برطانیہ کے حصے میں آئے۔ اسی
لیے ایک بار پھر سوچاجانے لگا ہے کہ یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ ایک غلطی تھا جسے درست کرناضروری ہے مگر یہ درستگی کا عمل شاید اتنا
آسان نہ ہو حالانکہ ایساکرنا یورپی یونین اوربرطانیہ دونوں کی ضرورت ہے۔
بریگزٹ کے حوالے سے برطانوی شہری تقسیم نظر آئے ، بڑے شہروں میں جہاں رہائشی اور ملازمتوں کے مسائل زیادہ تھے وہاں
بریگزٹ کے حامی اکثریت، لیکن دیہات اور چھوٹے شہریوں میں یورپی یونین کا حصہ رہنے کا رجحان نظر آیا ۔یورپی یونین کو خیر باد کہہ کر بھی
عوام اور کاروباری اداروں کے معاشی اور سماجی مسائل برقرار ہیں۔ آج بھی اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری ہے جو بریگزٹ فیصلے
کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، مزید یہ کہ حکومتی آمدن میں اضافے کا سلسلہ سست ہواہے جس سے سماجی تعاون کا سلسلہ برقرار رکھنے
کے لیے حکومت دبائو میںہے اور کٹوتیوں کے ذریعے دبائو سے نکلنے کی کوشش میں ہے، یہی اثرات حکومت اور شہریوں کی سوچ کوبدلنے
کاباعث ہیں کہ یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ جذباتی اور غیر دانشمندانہ تھا لہٰذا دوبارہ شمولیت کی ضرورت ہے، حالانکہ یورپی یونین نے
پوری کوشش کی کہ برطانیہ کو انخلا کے فیصلے سے باز رکھا جائے، اسی کشمکش میں وزیر اعظم تھریسامے مستعفی ہوئیں مگر اُن کے بعد وزیراعظم بورس
جانسن حکومت نے شہریوں کی رائے کا احترام کیااور یورپی یونین کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ اب لیبر پارٹی کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر
چاہتے ہیں کہ اگر شمولیت نہیں ممکن توبھی ایساراستہ تلاش کیا جائے جس سے سفری سہولتیں مزید آسان اور پیشہ وارانہ قابلیتوں کے تبادلے
ممکن ہوں اور دفاعی تعاون بہترہوتاکہ یوکرین جنگ کے حوالے سے یورپی یونین کی سوچ ایک ہو ۔ظاہر ہے ایسی سوچ یورپی یونین کے
لیے بھی پسندیدہ ہے اسی بناپر ایسی قیاس آرائیاںہیں کہ برطانیہ کا دوبارہ یورپی یونین میں شمولیت کا چاہے امکان کم ہے کیونکہ ایک طرف تو
یورپی یونین میں شامل ممالک کی سوچ میں تضادہے اور کسی حد تک بے چینی فروغ پذیر ہے، دوم یورپی ممالک میں بڑھتی قوم پرستی نے
سرحدوں پر سختیاں کرنے کی نوبت پیداکردی ہے، تعاون میں اضافہ ممکن ہے۔
برطانیہ کی عوامی سوچ میں آنے والی تبدیلی اوراپنی ضرورت کے باوجود یورپی یونین دوبارہ حصہ بنانے کے لیے پُرجوش نہیں، برطانیہ
میں بھی دوبارہ شمولیت کی عوامی خواہش کوغلبہ حاصل نہیں ہو سکا۔ حالانکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں یورپ کی ایک پالیسی ناگزیر ہے مگر
انخلا کی غلطی کو درست کرنے کی طرف قدم بڑھانا برطانیہ اور یورپ دونوں کے لیے مشکل ہے کیونکہ دونوں طرف رائے عامہ ایسے کسی عمل کو
شاید ہی پسند کرے ۔
یورپ اور امریکہ کا عشروں سے ایک دوسرے پر انحصار ہے جسے نیٹو نے ناگزیر بنادیالیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ امریکہ نے
ترجیحات میں اپنی معیشت کو اولیں درجہ دیدیا ہے اور وہ اب کسی کی حفاظت کے لیے ملکی وسائل صرف نہیں کرنا چاہتا ۔صدر ٹرمپ یورپی
یونین اور برطانیہ کو صاف کہہ دیا ہے کہ یا تو ہم سے تیل خریدویاپھر دوسرا راستہ آبنائے ہرمز کے راستے جاکر تیل خریدناہے تو خریدلائو۔ اِس
تنگ گزرگاہ سے ایک اندازے کے مطابق دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتاہے۔ اٹھارہ ملین بیرل سے زائد تیل روزانہ برطانیہ ،جاپان اور یورپی
ممالک تک پہنچایاجاتاہے جسے امریکہ اور ایران نے بندکررکھاہے۔ اس صورتحال نے یورپی یونین اور برطانیہ کو پریشان کردیا ہے دونوں
ہی امریکہ سے ترجیحات پر نظرثانی چاہتے ہیں جس کا امکان کم ہے، حالانکہ نئی ترجیحات کے نتائج کسی کے لیے بہتر ثابت نہیں ہو رہے۔ یہ
موجودہ عالمی نظام کی موت بن سکتی ہیں جسے ڈالر کی صورت میں خود امریکہ نے ہی بنایا ۔برطانیہ میں ابھی تک کووڈ وباکے اثرات ہیں
یوکرین جنگ نے الگ اقتصادی مسائل پیداکردیے ہیںجن کاتقاضاہے کہ اقتصادیات اور دفاعی نکتہ نظر سے کچھ نیا سوچاجائے مگر یورپی
یونین کا اِس حوالے سے تعاون شایدہی حاصل ہو، اسی لیے ممکن ہے کہ برطانیہ اپنی موجودہ طاقتورحیثیت برقرارنہ رکھ سکے ۔
امریکہ کی طرح برطانیہ اور یورپی ممالک بڑے پیمانے پر دفاعی سامان بناتے ہیں لیکن دفاعی سامان کی تجارت میں برطانیہ اور یورپی
ممالک کا اُتنا حصہ نہیں جتنا امریکہ کا ہے۔ 2024کے اعدادو شمار کے مطابق امریکہ نے 318ارب ڈالر کا دفاعی سامان فروخت کیا جبکہ
دیگر ممالک سے حاصل ہونے والی ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری الگ ہے۔ برطانیہ جس نے اکثر عالمی تنازعات میں امریکہ کا ساتھ دیا
عراق، افغانستان اور لیبیا کی جنگوں میں پیش پیش رہا ،نیٹو سے امریکہ کے حق میں فیصلے کرانے میں بھرپورتعاون دیا لیکن آج جب اُسے
مسائل کا سامناہے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہورہا ہے تو یورپی یونین اور امریکہ دونوں تعاون سے انکاری ہیں جس کی اہم
وجہ یورپی یونین سے انخلا اور امریکہ پر زیادہ انحصار ہے۔ بہترین حل تو یہی ہے کہ برطانیہ اپنے مسائل کو ہزاروں کلومیٹر دور نہیں بلکہ قرب
وجوار کے ممالک کے تعاون سے حل کرے۔ درپیش مسائل سے تو عیاں ہے کہ برطانیہ کی مجبوری یورپی یونین ہے جس کاجلد ادراک اور
درست اقدامات ناگزیرہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں