سندھ بلڈنگ، انسپکٹر اورنگزیب کی سرپرستی ، گلستان جوہر میں دھندے بازی!
شیئر کریں
بلاک 1پلاٹ اے- 1اور بی- 29پر تعمیراتی مافیا کا بے روک ٹھکانہ، عوای شکایات نظر انداز
جعلی نقشے ، ضابطوں کی پامالی، سرکاری اہلکار غیر قانونی سرگرمیوں کے سب سے بڑے محافظ
گلستان جوہر بلاک 1 کے رہائشیوں کے سروں پر ایک نیا بحران منڈلا رہا ہے ۔ پلاٹ نمبر اے -1 اور بی- 29 پر بغیر کسی منظوری کے تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے ، جس نے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے پیچھے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان کا ہاتھ ہونے کے سنگین الزامات ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ان پلاٹوں پر بنائی جانے والی عمارتیں نہ تو کسی منظور شدہ نقشے کا حصہ ہیں اور نہ ہی بلڈنگ قوانین پر پوری اترتی ہیں۔ ان تعمیرات سے نہ صرف علاقے کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو رہا ہے بلکہ آگ یا قدرتی آفت کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے ۔ مقامی افراد کے مطابق، انسپکٹر اورنگزیب خان کی خاموشی اور مبینہ سرپرستی کے باعث ہی یہ کام بے روک ٹوک جاری ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب ان پلاٹوں پر یہ سب کچھ عیاں ہو رہا ہے تو ایس بی سی اے کی اعلیٰ انتظامیہ خاموش کیوں ہے ؟ کیا ادارے کے اندرونی احتساب کا نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے ؟ عوام کا اعتماد ٹوٹ رہا ہے اور انہیں یقین ہو چکا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون شکنی کر رہے ہیں۔رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ان غیر قانونی تعمیرات کو روکا جائے ، ملوث انسپکٹر اورنگزیب خان کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے اور اتھارٹی کو شفافیت کے ساتھ کام کرنے کے لیے مجبور کیا جائے ۔ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ مسئلہ پورے شہر میں پھیل کر ایک ناقابل کنٹرول بحران بن سکتا ہے۔


