مہنگائی کا طوفان، آٹے کا بحران، عوام پریشان، معاشی نظام کا امتحان
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، محدود آمدنی اور کمزور قوتِ خرید نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے زندگی کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے
٭آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے نہ صرف حکومتی اقدامات کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ملک میں غذائی تحفظ اور عام آدمی کی قوتِ خرید کے مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے
٭ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کی اطلاعات کے بعد اس شعبے میں بھی نت نئے خدشات سامنے آ رہے ہیں ، گیس کی قلت اور گرانی نے بھی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے
٭ جب تک زرعی پالیسیوں میں تسلسل، مؤثر نگرانی اور انتظامی شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، نہ تو زرعی بحرانوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے حقیقی ریلیف مل سکتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی معیشت اس وقت تبدیلی اور چیلنجز کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں معاشی بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، مگر دوسری جانب عام شہری مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے ۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، محدود آمدنی اور کمزور قوتِ خرید نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے زندگی کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے ۔ مہنگائی اب محض ایک معاشی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سماجی، نفسیاتی اور انسانی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے ۔عام شہری کے لیے مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں بلکہ محدود وسائل میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کی مسلسل جدوجہد ہے ۔ خوراک، تعلیم، علاج، رہائش اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کیا ہے ۔ بہت سے خاندان اپنی ضروریات کم کرنے ، معیار زندگی محدود کرنے یا مالی مشکلات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مہنگائی کے پس پشت کئی عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، درآمدی اخراجات، روپے کی قدر میں کمی، توانائی
کی بلند قیمتیں، مالیاتی مسائل اور پیداواری لاگت میں اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، کمزور نگرانی اور غیر مؤثر انتظامی اقدامات بھی مہنگائی کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے ۔ محدود آمدنی رکھنے والے خاندانوں کے لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور بہتر مستقبل کے منصوبے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک مسلسل امتحان بن جاتا ہے ۔ اگر قیمتوں میں استحکام، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر، شفاف اور دیرپا اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ بحران معاشرتی مسائل میں مزید اضافہ کر سکتا ہے ۔مہنگے آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مسلسل بڑھتی قیمتیں صرف گھریلو بجٹ ہی نہیں بلکہ عوام کی ذہنی آسودگی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے تو بے چینی، مایوسی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار معاشی اصلاحات، زرعی و صنعتی ترقی، مؤثر پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے ۔ پاکستان قدرتی وسائل اور نوجوان افرادی قوت سے مالا مال ملک ہے ، اس لیے بہتر منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کے ذریعے عوام کی قوتِ خرید بہتر بنا کر حقیقی معاشی ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔
مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کے لیے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کسی نئے معاشی صدمے سے کم نہیں، کیونکہ آٹا ہر گھر کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی لاکھوں خاندانوں کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے ۔ پاکستان زرخیز زرعی زمین اور گندم کی پیداوار کی بھرپور صلاحیت رکھنے کے باوجود ناقص منصوبہ بندی، غیر مستقل پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں کے باعث تقریباً ہر سال گندم اور آٹے کے بحران کا سامنا کرتا ہے ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ گندم کی نئی فصل کو مارکیٹ میں آئے ابھی صرف کچھ ماہ ہی گزرے ہیں، لیکن اس کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے کئی سوالات پیدا کرتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرے ، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مستقل، شفاف اور طویل المدتی گندم پالیسی بھی تشکیل دی جائے ۔ جب تک زرعی پالیسیوں میں تسلسل، مؤثر نگرانی اور انتظامی شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، نہ تو زرعی بحرانوں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے حقیقی ریلیف مل سکتا ہے ۔مہنگے آٹے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی مسلسل بڑھتی قیمتیں صرف گھریلو بجٹ ہی نہیں بلکہ عوام کی ذہنی آسودگی کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے تو بے چینی، مایوسی اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار معاشی اصلاحات، زرعی و صنعتی ترقی، مؤثر پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے ۔
روٹی اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستان میں ایک سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔ روٹی عام آدمی کی بنیادی ضرورت ہے جبکہ آٹا ملک کے ہر گھر کی روزمرہ خوراک کا اہم جزو ہے ۔ جب ان بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر غریب اور متوسط طبقے کی زندگی پر پڑتا ہے ، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران آٹے کی قیمتوں میں بار بار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ گندم کی پیداوار میں کمی، ذخیرہ اندوزی، ترسیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کو اس صورتحال کی اہم وجوہات قرار دیا جاتا ہے ۔آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف گھروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ نان بائی اور تندور مالکان بھی اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں افراد خط غربت کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، وہاں روٹی کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے ۔ مزدور، دیہاڑی دار افراد اور کم تنخواہ والے ملازمین اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، چنانچہ جب بنیادی خوراک مہنگی ہوتی ہے تو انہیں تعلیم، صحت اور رہائش جیسی ضروریات پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے ۔حکومت گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو بہتر سہولیات، معیاری بیج، مناسب کھاد اور جدید زرعی ٹیکنالوجی فراہم کرے ۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے جبکہ گندم اور آٹے کی سپلائی چین کو شفاف بنایا جائے ۔ کم آمدنی والے طبقات کے لیے اہدافی سبسڈی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی غذائی اشیا عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں۔ روٹی صرف خوراک نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی اور بقا کی علامت ہے ، اس لیے اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ معاشرتی بے چینی، غربت اور ناہمواری میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کی اطلاعات کے بعد اس شعبے میں بھی نت نئے خدشات سامنے آ رہے ہیں
جب کہ گیس کی قلت اور گرانی نے بھی لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ الغرض بحرانوں کی ایک طویل فہرست ہے ،خصوصاً اشیائے خورونوش اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پورے معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے ۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری اشیا بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد آمدنی اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے ۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرے ۔
اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو بھی ضروری ہے کہ اس کا بوجھ کم سے کم عوام تک منتقل کیا جائے ، غیر ضروری اخراجات میں کمی لائی جائے اور مستحق طبقات کے لیے مؤثر امدادی نظام قائم کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے ، کیونکہ مؤثر نگرانی کے بغیر حکومتی اقدامات عوام تک حقیقی ریلیف نہیں پہنچا سکتے ۔
حالیہ گندم کی فصل کے حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں گندم پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے ، کسانوں نے اپنی محنت سے
فصل تیار کی اور خریداری کے عمل میں بھی گندم دستیاب رہی، لیکن اس کے باوجود عام شہری کو آٹا بلند قیمتوں پر خریدنے کی مشکلات کا سامنا ہے ۔کسان سے گندم کی خریداری، ذخیرہ کرنے کے نظام اور صارف تک رسائی کے مراحل میں موجود خامیاں آٹے کی قیمتوں میں
اضافے کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں کا مسئلہ ہر سال کسی نہ کسی صورت میں سامنے آتا ہے ، جس میں ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنا، بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری جیسے عوامل اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اس بحران کی شدت میں
حکومتی پالیسیوں کا عدم تسلسل، بروقت فیصلوں کا فقدان، کمزور نگرانی اور انتظامی خامیاں بھی اہم وجوہات ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں زرعی شعبے کے لیے مستقل اور جامع حکمت عملی اختیار کریں، جس کے تحت کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت
پر کھاد، جدید زرعی سہولیات، پانی کی دستیابی اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ گندم کی پیداوار سے لے کر ذخیرہ اور
تقسیم تک پورے نظام میں شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ مل سکے اور عوام کو آٹا مناسب
قیمت پر دستیاب ہو۔ مضبوط زرعی پالیسی اور بہتر انتظامی اقدامات ہی ملک کو بار بار پیدا ہونے والے غذائی بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔
زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اسی سے وابستہ ہے ۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو ملک کی
معیشت بھی مضبوط ہوگی، لیکن بدقسمتی سے بڑھتی ہوئی لاگت، مہنگی زرعی مداخل، ڈیزل اور بجلی کے اخراجات جبکہ فصلوں کی مناسب قیمت نہ
ملنے کے باعث کسان مشکلات کا شکار ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی شعبے کی ترقی کو اولین ترجیح دے ، کسانوں کو سستے قرضے ، معیاری بیج،
کھاد اور جدید زرعی سہولیات فراہم کرے ، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنائے اور فصلوں کی مناسب امدادی قیمتوں کا بروقت اعلان یقینی بنائے ۔
پاکستان کے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور سازگار موسمی حالات موجود ہیں۔ درست منصوبہ بندی اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ملک نہ
صرف گندم بلکہ دیگر زرعی اجناس میں بھی دوبارہ خود کفالت حاصل کر سکتا ہے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے ، کسانوں کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے اور غذائی تحفظ کو قومی ترجیح بنایا جائے ۔ ایک مضبوط زرعی شعبہ ہی آٹے ، گندم اور دیگر اشیائے
ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی یقینی بنا سکتا ہے اور ایک خوشحال و مستحکم پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا ہے ۔آٹا، جو پاکستان کے عام گھرانے کی بنیادی خوراک اور غریب طبقے کی زندگی کا اہم سہارا ہے ، ایک بار پھر مہنگائی کی زد میں ہے ۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے ، سپلائی کے مسائل، ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ کے دباؤ نے آٹے کی قیمتوں کو بلند کر دیا ہے ، جس سے کراچی سمیت سندھ کے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔
جولائی 2026 میں کراچی اور حیدرآباد میں آٹے کی قیمتیں ملک کی بلند ترین سطحوں میں شامل ہو چکی ہیں۔روزمرہ اخراجات پہلے ہی بڑھتے ہوئے ہیں، ایسے میں روٹی کی قیمت میں اضافہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن چکا ہے ۔ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ نے نہ صرف حکومتی اقدامات کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ ملک میں غذائی تحفظ اور عام آدمی کی قوتِ خرید کے مسائل کو بھی نمایاں کر دیا ہے ۔توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروریاتِ زندگی کو بھی متاثر کیا ہے ، جس سے عام آدمی کے لیے گھریلو بجٹ چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ انہی پریشان کن حالات میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کی اطلاعات نے عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔
کراچی کے عوام مسلسل مہنگے آٹے کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ ایک سال قبل بھی کراچی کے شہری ملک کے دیگر بڑے شہروں کے
مقابلے میں سب سے زیادہ قیمت پر آٹا خریدنے پر مجبور تھے اور موجودہ صورتحال میں بھی یہ مسئلہ برقرار ہے ۔ آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں
نے عام شہریوں، خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے ، جہاں روزمرہ استعمال کی بنیادی ضرورت پوری کرنا
بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے ۔
ملک میں ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا۔ آٹے سمیت بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مختلف شہروں میں اضافہ دیکھا گیا، جس سے عوام پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھا ہے ۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کے لیے روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ، جبکہ اشیائے خورونوش کے بڑھتے نرخوں نے گھریلو بجٹ کو بھی شدید متاثر کیا ہے ۔وفاقی ادارہ شماریات کے حوالے سے شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 10 جولائی 2025 کے مقابلے میں 10 جولائی 2026 تک آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت مختلف شہروں میں 1,250 روپے تک بڑھ گئی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت تمام صوبوں کے بڑے شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق کراچی میں آٹے کی قیمت ملک کے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جہاں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ایک سال قبل 1,800 روپے تھی جو بڑھ کر 2,900 روپے تک پہنچ گئی۔ دستاویزات کے مطابق پشاور اور بنوں میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں ایک سال کے دوران 1,250 روپے ، کوئٹہ اور خضدار میں 1,200 روپے ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 1,173 روپے ، سکھر میں 1,140 روپے جبکہ کراچی اور حیدرآباد میں 1,100 روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح گوجرانوالہ میں 1,083 روپے ، بہاولپور میں 1,013 روپے ، سیالکوٹ، ملتان اور لاڑکانہ میں 1,000 روپے تک، فیصل آباد میں 950 روپے ، لاہور میں 850 روپے اور سرگودھا میں 806 روپے تک اضافہ ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق ایک سال میں اسلام آباد میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 1,627 روپے سے بڑھ کر 2,800 روپے ، راولپنڈی میں 1,613 روپے سے بڑھ کر 2,786 روپے ، گوجرانوالہ میں 1,450 روپے سے بڑھ کر 2,533 روپے ، سیالکوٹ میں 1,467 روپے سے بڑھ کر 2,467 روپے اور لاہور میں 1,400 روپے سے بڑھ کر 2,250 روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فیصل آباد میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 1,400 روپے سے بڑھ کر 2,350 روپے ، سرگودھا میں 1,494 روپے سے بڑھ کر 2,300 روپے ، ملتان میں 1,533 روپے سے بڑھ کر 2,533 روپے ، بہاولپور میں 1,467 روپے سے بڑھ کر 2,480 روپے جبکہ کراچی میں 1,800 روپے سے بڑھ کر 2,900 روپے تک پہنچ گئی۔ حیدرآباد میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت 1,700 روپے سے بڑھ کر 2,800 روپے ، سکھر میں 1,400 روپے سے بڑھ کر 2,540 روپے ، لاڑکانہ میں 1,500 روپے سے بڑھ کر 2,500 روپے ، پشاور میں 1,550 روپے سے بڑھ کر 2,800 روپے ، بنوں میں 1,450 روپے سے بڑھ کر 2,700 روپے ، کوئٹہ میں 1,600 روپے سے بڑھ کر 2,800 روپے جبکہ خضدار میں 1,600 روپے سے بڑھ کر 2,800 روپے تک پہنچ گئی۔
کمشنر کراچی کے 9 جولائی 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں آٹے کے سرکاری نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے تحت
12 مئی کے مقابلے میں آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ریگولر آٹے کی ہول سیل قیمت 110 روپے سے بڑھا کر 122 روپے فی کلو مقرر کر دی گئی، جبکہ ریٹیل قیمت 113 روپے سے بڑھا کر 125 روپے فی کلو کر دی گئی۔
اسی طرح فائن آٹے کی ہول سیل قیمت 118 روپے سے بڑھا کر 132 روپے اور ریٹیل قیمت 121 روپے سے بڑھا کر 135
روپے فی کلو مقرر کی گئی، جبکہ چکی کے آٹے کی ریٹیل قیمت 145 روپے فی کلو برقرار رکھی گئی۔ کمشنر کراچی نے تمام دکانداروں کو ہدایت کی
کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں، جبکہ مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی
جائے گی۔روزانہ کی بنیاد پر آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہو رہا ہے . اندیشہ ہے کہ آئندہ دنوں میں بھی آٹے کی قیمتوں میں اضافہ کا
امکان ہے ۔
سندھ حکومت نے گندم ذخیرہ کرنے والوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ گندم اور آٹے کی
بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے ، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں ہیرا
پھیری کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ عوام کو مناسب نرخوں پر آٹا دستیاب ہو سکے ۔ گندم کی سپلائی، ذخیرہ
اندوزی کی نگرانی اور مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے متعلقہ اداروں کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔سندھ
حکومت کی گندم ذخیرہ اندوزوں کے خلاف صوبہ بھر میں بھر پورکارروائیوں کے باوجود آٹے کی قیمت میں کمی نہیں آئی،کراچی میں تمام سپر
اسٹورز پر فروخت ہو نے والا آٹا کمشنر کراچی کے طے کردہ نرخ سے کہیں زیادہ مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے ،کمشنر کراچی نے ڈھائی نمبر
آٹے کی ریٹیل قیمت 125روپے مقرر کی ہے لیکن شہر میں ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت 170سے 180 روپے تک پہنچ گئی ہے ، فلور ملز
مالکان کی جانب سے قیمت میں کمی کی یقین دہانی کے باوجود قیمت میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی،شہر کے بڑے سپر اسٹورز پر فروخت ہونے
والے مختلف برانڈ کے آٹے کی قیمت 170 سے 180 روپے فی کلو تک ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض بڑی کمپنیوں نے کاروائی سے
بچنے کے لئے اپنی سپلائی بھی معطل کر دی ہے ،سپر اسٹورز کے ساتھ چھوٹی چکیوں پر بھی آٹا سرکاری نرخ 145 کی بجائے 170 سے 190 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے ۔
حیدرآباد بھی مہنگے ترین شہروں میں شمار ہو رہا ہے ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں شہروں میں آٹے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں کے بعد اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی، تاہم خوردہ سطح پر صارفین اب بھی مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔سندھ کے شہر حیدر آباد میں بھی آٹے کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے شہریوں پر زندگی تنگ کر دی ہے ۔شہر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل من مانا اضافہ جاری ہے ، جس سے شہری سخت پریشانی میں مبتلا ہیں، کیوں کہ انتظامی سطح پر صارفین کی حفاظت کے لیے کوئی بھی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔حیدر آباد کے شہری پہلے سے انتہائی سطح کی مہنگائی کے دوران، ذخیرہ اندوزی کے باعث، مزید مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، اور صوبہ سندھ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں یہ مسلسل اضافہ تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے ۔رپورٹ کے مطابق صوبے میں آٹے کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، جس کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی اور قیمتوں میں اس غیر منضبط اضافے کے سلسلے کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے ، جب کہ گندم کی درآمد بھی ضروری ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے اہداف پورے نہ ہونے اور ذخیرہ اندوزی کے باعث مصنوعی بحران
پیدا ہو گیا ہے ۔
سندھ میں بیورو آف سپلائی اینڈ پرائسز اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل پرائس کنٹرول کا پورا نظام عوام کو سستی اشیائے خوردونوش فراہم کرنے
اور گراں فروشی روکنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے ۔ حکومتی دعووں اور مجسٹریٹس کی نام نہاد کارروائیوں کے باوجود صوبے بالخصوص
کراچی اور حیدرآباد میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے ۔صوبے بھر میں دودھ، دہی،آٹا، چینی، گھی اور سبزیوں جیسی بنیادی اشیاء سرکاری نرخوں
کے بجائے دکانداروں کی مرضی کی قیمتوں پر بک رہی ہیں۔پرائس کنٹرول کا ڈیپارٹمنٹ اشیا خورونوش کی سرکاری اور طے شدہ قیمتوں پر
عملدرامد کرانے میں بری طرح ناکا م ہو گیا ہے .صوبہ سندھ بشمول کراچی حیدرآباد میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی
کرنے والے پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر عوام کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے . دکاندار سرکاری نرخ
ناموں کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں اور من مانی قیمتوں پر اشیاء فروخت کرتے ہیں۔عملے کی مبینہ ملی بھگت اور ناکافی چھاپوں کی وجہ سے ذخیرہ
اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے ۔پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی جانب سے بروقت قیمتوں کا تعین نہ ہونا اور انتظامی کمزوری
بنیادی مسائل ہیں۔سندھ، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اور انتظامیہ کا قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا نظام مکمل طور
پر ناکام ہو چکا ہے ۔ سرکاری نرخ نامے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے ، جس کی وجہ سے منافع خور اور ذخیرہ اندوز کھلے عام شہریوں کو
دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں. پرائس کنٹرول کا محکمہ بھی اشیائے خورونوش کی سرکاری اور مقررہ قیمتوں پر مؤثر عملدرآمد کرانے میں
خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا، جس کے باعث صوبہ سندھ، خصوصاً کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور دیگر شہروں میں مہنگائی اور
ناجائز منافع خوری ایک سنگین عوامی مسئلہ بن چکی ہے ۔ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے تعین، نرخ ناموں کے
اجرا، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس، خصوصی چھاپہ مار مہمات اور سخت کارروائیوں کے دعوے ضرور کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر
بازاروں میں ان کے اثرات انتہائی محدود دکھائی دیتے ہیں۔ دکاندار، تھوک فروش اور بعض بڑے سپر اسٹورز سرکاری نرخ ناموں کو نظرانداز
کرتے ہوئے اپنی مرضی کے مطابق قیمتیں وصول کرتے ہیں، جبکہ عام شہری، خصوصاً کم آمدنی اور متوسط طبقہ، مہنگے داموں اشیائے ضروریہ
خریدنے پر مجبور رہتا ہے ۔ عوامی شکایات کے مطابق متعلقہ عملے کی ناقص نگرانی، بعض اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت، غیر مستقل چھاپوں، کمزور
قانونی کارروائی اور مؤثر احتساب کے فقدان نے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ پرائس کنٹرول
کمیٹیوں کی جانب سے بروقت نرخ مقرر نہ ہونا، مقامی منڈیوں اور تھوک مارکیٹوں کی مسلسل نگرانی نہ کرنا، اور قیمتوں کے تعین میں زمینی
حقائق کو مکمل طور پر مدنظر نہ رکھنا بھی اس نظام کی بڑی کمزوریاں شمار کی جاتی ہیں۔ نتیجتاً چکن، گوشت، دودھ، دہی، آٹا، چاول، دالیں، گھی،
کوکنگ آئل، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کئی علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کے مقررہ نرخوں سے 30 سے 50 فیصد
بلکہ بعض مقامات پر اس سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت کی جاتی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود نہ ٹرانسپورٹ کرایوں
میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور نہ ہی اس کا فائدہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں عوام تک منتقل کیا جا سکا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قیمتوں
کی نگرانی اور نفاذ کا نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے ۔ بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانوں پر آویزاں سرکاری ریٹ لسٹیں صرف رسمی
کارروائی اور جرمانوں سے بچنے کا ذریعہ بن چکی ہیں، جبکہ ان نرخوں پر اشیا دستیاب نہیں ہوتیں۔ پرائس کنٹرول ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ
صرف رمضان یا مخصوص دنوں میں متحرک نظر آتے ہیں۔ عام دنوں میں مارکیٹ کو مکمل طور پر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور
مانیٹرنگ کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں ہے ۔
عام دنوں میں مارکیٹ کی مسلسل نگرانی، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی جانچ، صارفین کی شکایات کے فوری ازالے اور خلاف ورزی
کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا فقدان نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی پر قابو پانے کے لیے صرف
جرمانے یا وقتی چھاپے کافی نہیں، بلکہ زرعی منڈیوں سے لے کر تھوک اور پرچون مارکیٹ تک سپلائی چین کو شفاف بنانا، ذخیرہ اندوزی اور
ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کرنا، ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرانا، روزانہ کی بنیاد پر نرخوں
کی نگرانی، صارفین کی شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کرنا، متعلقہ افسران کی کارکردگی کو جوابدہی سے مشروط کرنا اور قانون پر
یکساں عملدرآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے ۔ جب تک ان بنیادی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا جاتا، پرائس کنٹرول کا موجودہ نظام محض
کاغذی کارروائی اور نمائشی اقدامات تک محدود رہے گا، جبکہ مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا بوجھ بدستور عام شہری، خصوصاً
غریب اور متوسط طبقے ، کو برداشت کرنا پڑے گا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ دکانوں پر سرکاری ریٹ لسٹیں صرف جرمانے سے بچنے کے لیے لٹکائی
جاتی ہیں، ان نرخوں پر کوئی چیز دستیاب نہیں ہوتی۔معاشی ماہرین کے مطابق جب تک سپلائی چین کو بہتر نہیں کیا جاتا، ذخیرہ اندوزوں کو
سخت سزائیں نہیں دی جاتیں اور روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ مانیٹرنگ نہیں ہوتی، تب تک پرائس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی یہ روایتی کارروائیاں
عوام کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کر سکیں گی۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور گرانفروشی میں ملوث
عناصر کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
٭٭٭


