میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کیخلاف کیس، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری، جواب طلب

جرات ڈیسک
منگل, ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی، سلمان اکر م راجہ کے ریمارکس

وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، بیرسٹر گوہر

ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا اور ایمرجنسی لگائی گئی،سلمان اکرم راجہ

 

پشاور ہائی کورٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ منگل کو پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت بیرسٹر گوہر نے عدالت سے ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ہوئی، اسی دن ایڈوائزری کونسل تشکیل پائی، 38 ڈپٹی کمشنر تبدیل ہوئے، ہمارے 12 اراکینِ قومی اسمبلی، 13 اراکینِ صوبائی اسمبلی اٹھائے گئے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے دفاتر گرائے گئے، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں توڑی گئیں، دیگر جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں چھوڑ کر ہماری کیوں توڑی جا رہی ہیں، ہم سے مینڈیٹ لیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج معطل کیا جائے۔چیئرمین تحریکِ انصاف نے کہا کہ ایک ٹولہ ہے جو پی ٹی آئی میں اور دیگر سیاسی جماعتوں میں غلط فہمیاں پیدا کر رہا ہے، ہم ایک ہیں، ایسا کیوں ہو رہا ہے، یہ غلط ہو رہا ہے، مائنز اینڈ منرلز کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن اس کو میں زیرِ بحث نہیں لایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کوئی دو رائے نہیں، ہم پرامن ہیں، دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں، جو ہو رہا ہے، اس سے بہت نفرت بڑھ رہی ہے۔عدالت میں سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کر دیا، جس کے بعد درخواستوں پر سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عدالت میں ثابت کریں گے کہ گورنر راج و ایمرجنسی غیر آئینی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درخواستوں میں ہم نے ایمرجنسی اور گورنر راج کو چیلنج کیا ہے، کارکنان اور ایم این ایز کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے اس کا بھی بتایا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم عدالت میں ثابت کریں گے کہ یہ غیر آئینی اقدام ہے۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے خلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، ہماری لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، ہم نے وفاق کے الزام کو مسترد کر دیا ہے، ہمارے مینڈیٹ کا قلعہ ہم سے لیا گیا۔اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ جمہوریت پر حملہ ہے، ہمارے اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبے کے اندر بے امنی کا کہا گیا اور ایمرجنسی لگائی گئی، صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور نہیں کی گئی، جو ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، وزیرِ اعلیٰ، اسمبلی، عدالتیں، پولیس سب تھے پھر بھی گورنر راج لگایا گیا۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 2007 میں بھی غیر آئینی ایمرجنسی لگائی گئی تھی، صرف پی ٹی آئی کے ترقیاتی کاموں کی تختیوں کو توڑا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں محمود اچکزئی نے کہا کہ ہماری وزیرِ اعظم سے دشمنی نہیں لیکن 4 کروڑ عوام کا مذاق بنایا گیا، یہ پی ٹی آئی کو پہلے دن سے اس کا مینڈیٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیٹوں کو مالِ غنیمت سمجھ کر بانٹا گیا، یہ ہماری حکومت چھینیں گے لیکن ہمیں رونے کا حق بھی نہیں دیں گے، اگر ہم نے آواز نہ اٹھائی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں