میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
3 ہزار سال قدیم کہانی پر مبنی فلم'' دی اوڈیسی'' کی حیرت انگیز داستان

3 ہزار سال قدیم کہانی پر مبنی فلم'' دی اوڈیسی'' کی حیرت انگیز داستان

جرات ڈیسک
پیر, ۲۰ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

یہ داستان ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا بھر کے قارئین کو اپنی جانب راغب کرتی ہے

………………………………..

دنیا کی قدیم ترین اور عظیم ترین کہانیوں کا ذکر کیا جائے تو ہزاروں سال پرانی یونانی شاعر ہومر کی تخلیق ”دی اوڈیسی” کا نام سرفہرست آتا ہے۔

تقریبا 8 ویں صدی قبل مسیح میں لکھی جانے والی یہ داستان صرف ایک بادشاہ کے سفر کی کہانی نہیں بلکہ صبر، بہادری، عقل، وفاداری اور گھر لوٹنے کی تڑپ کی ایسی داستان ہے جو تقریبا 3 ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا بھر کے قارئین کو اپنی جانب راغب کرتی ہے۔

اب اس شاہکار پر ایک نئی فلم پیش  کی گئی ہے، جس کے باعث اس قدیم داستان میں ایک بار پھر عالمی سطح پر دلچسپی بڑھ گئی ہے۔

یہ کہانی جزیرہ ایتھاکا کے بادشاہ اوڈیسیئس کی ٹروجن جنگ کے بعد اپنے گھر واپسی کی داستان پر مبنی ہے۔

کہانی کا مرکزی کردار اوڈیسیئس ہے جو یونان کے جزیرے ایتھاکا کا بادشاہ تھا۔ اس نے مشہور جنگِ ٹرائے (ٹروجن وار) میں یونانی فوج کی قیادت کرنے والے بہادر جنگجوں میں اہم کردار ادا کیا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ اپنے وطن واپس روانہ ہوا، مگر اس کی منزل کا راستہ اتنا آسان نہ تھا۔

گھر واپسی کا سفر دس برسوں پر محیط ایک ایسے امتحان میں بدل گیا، جہاں ہر قدم پر نئی آزمائش اس کا انتظار کر رہی تھی۔

اوڈیسیئس کو اپنے سفر میں دیوقامت مخلوق سائیکلوپس پولیفیمس کا سامنا کرنا پڑا، جس کی صرف ایک آنکھ تھی۔

اپنی ذہانت سے اس نے نہ صرف خود کو بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس خوفناک دیو کے چنگل سے بچا لیا، مگر اس واقعے نے سمندر کے دیوتا پوسیڈن کو سخت ناراض کر دیا کیونکہ پولیفیمس اس کا بیٹا تھا۔

تاریخ دانوں کے مطابق اوڈیسی کی کہانی تقریبا 8ویں صدی قبل مسیح میں لکھی گئی اس دور میں کہانیاں کتابوں میں نہیں بلکہ زبانی روایت کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی تھیں۔

ہومر کی یہ تخلیق نہ صرف ایک ادبی شاہکار ہے بلکہ قدیم یونانی معاشرے، اس کی مذہبی روایات، خاندانی نظام، حکمرانی، جنگی ثقافت اور سماجی اقدار کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

اوڈیسی پر تیار کردہ نئی فلم میں جدید ٹیکنالوجی اور شاندار بصری اثرات کے ذریعے اس قدیم رزمیہ داستان کو نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اوڈیسی صرف ایک بادشاہ کے گھر واپس آنے کی کہانی نہیں بلکہ ہر اس انسان کی داستان ہے جو مشکلات، آزمائشوں اور ناامیدی کے باوجود اپنے مقصد سے دستبردار نہیں ہوتا۔

اسی لیے یہ رزمیہ آج بھی کتابوں، فلموں، ڈراموں اور جدید ادب کے لیے ایک لازوال سرچشمہ سمجھا جاتا ہے، اور ہر نئی نسل اسے اپنے انداز میں دوبارہ دریافت کرتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں