ایم ڈی اے، فائلوں کی ہیرا پھیری کا دھندا عروج پر
شیئر کریں
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی اصل فائلوں میں جعلسازی ، جعلی ناموں پراز سرنو فروخت
محکمے کے افسران سے لے کر برطرف ملازمین اور بروکروز تمام کے تمام ملوث نکلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایم ڈی اے میں فائلوں کی ہیرا پھیری کا دھندا عروج پر پہنچ گیا ہے۔
حقیقی مالکان کی فائلیں جعلی ناموں سے فروخت کی جانے لگیں، جس میں محکمے کے افسران سے لے کر غیر فعال ، برطرف ملازمین اور بروکروز تمام کے تمام ملوث نکلے۔
گزشتہ اتوار کو ایم ڈی اے کے سیکٹر 49 ۔ بی کے پلاٹ نمبر آر۔سیون اور آر ۔ ایٹ میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب ایک حقیقی الاٹی محمد آصف پولیس موبائل لے کر پہنچا جہاں ایک جعلی الاٹی تعمیرات کرا رہا تھا۔
یہ پلاٹ احمدمدنی اور اس کے شراکت دار عارف نے جعلی فائل بنا کر محکمہ سے اندرونی ملی بھگت کے ذریعے کسی اور کے نام الاٹ کرا دیا تھا۔ جس کے اصل مالک نے پولیس کی مدد سے تعمیرات رکوا دیں۔
مذکورہ اصل الاٹی محمد آصف نے اس ضمن میں فوری طور پر ڈی جی ایم ڈی اے یسین شر کو ایک خط لکھا جس میں واضح کیا کہ اُس نے اپنایہ پلاٹ کسی کو بھی فروخت نہیں کیا ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اصل الاٹی نے اپنا پلاٹ فروخت ہی نہیں کیا تو پھر اس کی جعلی فائل محکمے کے اندر سے کیسے بن گئی اور اس کی فروخت کے بعد پلاٹ پر تعمیرات کیسے شروع ہو گئیں؟
واضح رہے کہ محکمے کے اندر موجود کچھ افسران محکمے کے سابق ملازمین یہاں تک کہ عدالتوں میں مقدمات کے شکار افسران سمیت ایسے بروکرز کو استعمال کر رہے ہیں جو ایم ڈی اے کی مختلف فائلوں کی ہیر پھیر کرتے ہوئے اصل مالکان کے ناموں کو ہٹا کر فائلوں کو از سرنو فروخت کر رہے ہیں۔
اس ضمن میں حساس تفصیلات کو آئندہ شمار وں میں شائع کیا جائے گا۔


