آپ مجھے نہیں پڑھ سکتے!
شیئر کریں
ذرا تصور کیجیے ، ایک صبح آپ کسی کتب خانے میں داخل ہوں۔ دیواروں سے لگی ہزاروں کتابیں خاموشی سے اپنی اپنی الماریوں میں رکھی
ہوں، مگر آج وہ پہلے جیسی نہ ہوں۔ آپ ایک کتاب کی طرف ہاتھ بڑھائیں تو وہ آہستہ سے خود کو پیچھے سرکا لے ۔ دوسری کتاب کو اٹھانا
چاہیں تو وہ اپنے صفحات بند کر لے ۔ تیسری آپ کی آنکھوں میں دیکھ کر گویا یہ کہہ دے ، معاف کیجیے ، آپ ابھی میرے قاری نہیں ہیں۔کتنا
عجیب منظر ہوگا۔ آج تک انسان کتابوں کا انتخاب کرتا آیا ہے ، لیکن اگر ایک دن کتابیں انسانوں کا انتخاب کرنے لگیں تو شاید دنیا کا سب
سے بڑا امتحان ڈگریوں، عہدوں یا دولت کا نہیں، کردار کا ہوگا۔وہ کتابیں شاید چہروں کو نہیں، نیتوں کو پڑھیں۔ وہ ہاتھوں کی نرمی نہیں، دلوں
کی کیفیت کو دیکھیں۔ وہ یہ جانچیں کہ کون علم کو روشنی بنانے آیا ہے اور کون اسے صرف بحث جیتنے ، دوسروں کو نیچا دکھانے یا اپنے مفادات کی
سیڑھی بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے ۔شاید قرآن اس شخص کے ہاتھ میں جانے سے انکار کر دے جو اسے صرف دوسروں پر حکم
چلانے کے لیے کھولتا ہے مگر اپنی زندگی میں اس کی ایک ہدایت پر بھی عمل نہیں کرتا۔ شاید فلسفے کی کتاب اس طالب علم سے منہ موڑ لے جو
سوچنے کے بجائے صرف امتحان پاس کرنا چاہتا ہے ۔ شاید تاریخ کی کتاب اس سیاست دان کو اپنے صفحات نہ دکھائے جو تاریخ سے سبق
لینے کے بجائے اسے اپنے مطلب کے مطابق بدلنا چاہتا ہے ۔تب ہمیں پہلی بار احساس ہوگا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کون سی کتابیں
پڑھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم اس قابل بھی ہیں کہ کتابیں ہمیں اپنا قاری تسلیم کریں؟
شاید ناول بھی اپنے کرداروں کی طرح زندہ ہو جائیں۔ وہ اپنے قارئین سے کہیں، تم میرے صفحات میں محبت تلاش کرنے آئے ہو، مگر
تمہارے دل میں نفرت نے مستقل رہائش اختیار کر رکھی ہے ۔ تم میری کہانی کا لطف تو اٹھا سکتے ہو، لیکن اس کا درد کبھی محسوس نہیں کر سکتے ۔
شاعری کی کتاب شاید اس شخص کے ہاتھ میں جانے سے انکار کر دے جس کی زبان ہر وقت تلخ الفاظ اگلتی ہے ۔ وہ کہے ، میرے اشعار صرف
وہی سمجھ سکتا ہے جس کے اندر کسی کے لیے محبت، رحم، معافی یا کم از کم انسانیت کا ایک چراغ ابھی تک روشن ہو۔سائنس کی کتاب بھی شاید
اپنے دروازے ہر ایک پر نہ کھولے ۔ وہ اس ذہن کی تلاش کرے جو سوال پوچھنے کی جرأت رکھتا ہو، جو دلیل کو ضد پر اور تحقیق کو تعصب پر
ترجیح دیتا ہو۔ کیونکہ علم کبھی بند ذہنوں میں جنم نہیں لیتا، وہ ہمیشہ کھلے ذہنوں میں پھول کی طرح کھلتا ہے ؟پھر شاید کتابوں کی دکانیں پہلے
جیسی نہ رہیں۔ دروازے پر کوئی قیمتوں کی فہرست نہ لگی ہو، بلکہ ایک آئینہ رکھا ہو۔ ہر آنے والا پہلے اس آئینے میں اپنا چہرہ نہیں، اپنا کردار
دیکھے ۔ کیونکہ کتاب خریدنے کے لیے جیب میں پیسے کافی ہو سکتے ہیں، لیکن کتاب کو سمجھنے کے لیے دل میں ظرف، دماغ میں دیانت اور
روح میں سچائی بھی چاہیے ہوتی ہے ۔شاید اسی دن ہمیں یہ راز سمجھ آجائے کہ ہر شخص کے پاس کتابیں تو ہو سکتی ہیں، مگر ہر شخص کتابوں کا
قاری نہیں ہوتا۔
اور شاید سب سے زیادہ خاموش وہ کتابیں ہوں جنہوں نے صدیوں کا سفر طے کیا ہے ۔ وہ کسی شور مچانے والے کے ہاتھ میں جانے کے
بجائے کسی ایسے انسان کی تلاش کریں جو پڑھنے سے پہلے سننا جانتا ہو، اختلاف سے پہلے سمجھنا جانتا ہو اور فیصلہ کرنے سے پہلے سوچنا جانتا
ہو۔ممکن ہے وہ کتابیں ہمارے معاشرے کے بہت سے پردے بھی چاک کر دیں۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے گھروں کی دیواریں قیمتی
کتابوں سے سجی ہیں، مگر ان کے رویّے علم کی خوشبو سے خالی ہیں۔ الماریوں میں علم قید ہے اور زندگی میں جہالت آزاد۔ زبان پر بڑے
بڑے مصنفین کے نام ہیں، مگر کردار میں ان کی ایک سطر کا عکس بھی دکھائی نہیں دیتا۔اگر کتابوں کو یہ اختیار مل جائے کہ وہ اپنے قارئین کا
انتخاب خود کریں، تو شاید بہت سی کتابیں برسوں تک بند رہیں، کیونکہ انہیں اپنے لائق قاری ہی نہ ملے ۔ وہ انتظار کریں کہ کوئی ایسا شخص
آئے جو انہیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں، خود کو بدلنے کے لیے کھولے ۔ جو ہر صفحہ پلٹتے وقت یہ نہ سوچے کہ مصنف کیا کہہ رہا ہے ، بلکہ یہ
سوچے کہ میری زندگی میں کیا بدلنا چاہیے ۔آخر کتابیں الفاظ کا ڈھیر نہیں ہوتیں، وہ انسان کے باطن سے ایک خاموش مکالمہ کرتی ہیں۔ جو
شخص اس مکالمے کو سن لیتا ہے ، وہ پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اس کے فیصلے بدل جاتے ہیں، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، اس کے لہجے میں
نرمی آ جاتی ہے اور اس کی نگاہ میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے ۔شاید اسی لیے تاریخ میں وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے کتابوں کو صرف
نصاب نہیں سمجھا بلکہ اپنا استاد بنایا۔ انہوں نے کتابوں سے معلومات نہیں، بصیرت حاصل کی، الفاظ نہیں، راستے لیے اور یہی راستے انہیں
ترقی، تہذیب اور عظمت تک لے گئے ۔
شاید وہ دن انسان کی تاریخ کا سب سے عجیب دن ہوگا، جب کتابیں پہلی بار یہ اعلان کریں گی کہ انہیں زیادہ قارئین نہیں، اچھے قارئین
چاہیے ۔ وہ ان ہاتھوں میں جانے سے انکار کر دیں گی جو صفحات تو پلٹ لیتے ہیں مگر اپنی سوچ نہیں بدلتے ۔ وہ ان آنکھوں سے اوجھل ہو
جائیں گی جو لفظ تو پڑھ لیتی ہیں مگر سچائی کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتیں۔تب شاید ہمیں احساس ہو کہ کتاب کا اصل مقصد معلومات میں اضافہ
نہیں، انسان میں اضافہ ہے ۔ وہ انسان کو زیادہ پڑھا لکھا بنانے سے پہلے زیادہ مہذب، زیادہ منصف اور زیادہ باکردار بنانا چاہتی ہے ۔ اگر
ایک کتاب پڑھنے کے بعد بھی انسان کے لہجے میں نرمی نہ آئے ، فیصلوں میں انصاف نہ پیدا ہو، دل میں رحم نہ جاگے اور سوچ میں وسعت
نہ آئے تو شاید کتاب نے نہیں، صرف اس کے صفحات نے سفر کیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر عظیم کتاب اپنے قاری کو بدلنے کی طاقت
رکھتی ہے ، مگر شرط یہ ہے کہ قاری بھی خود کو بدلنے کی خواہش رکھتا ہو۔ بند ذہن کے سامنے کھلی ہوئی کتاب بھی بند ہی رہتی ہے ، جبکہ کھلے دل
کے لیے ایک سطر بھی پوری زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے ۔اس لیے اگر کبھی واقعی کتابوں کو اپنے قارئین کا انتخاب کرنے کا اختیار مل گیا تو شاید وہ
دولت، شہرت، عہدے یا ڈگریوں کی طرف دیکھنے کے بجائے خاموشی سے دلوں کا وزن کریں گی۔ وہ تلاش کریں گی کہ کس کے اندر سچ کو
قبول کرنے کا حوصلہ ہے ، غلطی مان لینے کی عاجزی ہے ، سیکھتے رہنے کی پیاس ہے اور انسان بننے کی آرزو ابھی زندہ ہے ۔اور شاید اس دن
دنیا کا سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے پاس ہزاروں کتابیں ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ ہزاروں کتابوں میں سے ایک کتاب بھی ہمیں اپنا
قاری تسلیم کر لے ۔
٭٭٭


