بھارتی نوجوانوں کی گودی میڈیا کے خلاف مہم
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
مودی حکومت کا ساتھ دینے کیلئے بھارتی میڈیا بھی جین زی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے خلاف ہو گیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اپنے منشور میں مختلف اداروں سمیت بھارت کے میڈیا کو بھی نشانہ بنایا۔ سی جے پی نے اڈانی اور امبانی کے میڈیا گروپس کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جین زی تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے بھارتی میڈیا گروپس سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔بھارتی صحافی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ اگر بھارتی میڈیا ہمیں دہشت گرد ہی کہتا رہے گا تو پھر ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بھارت میں پچھلے 12 سال سے مودی حکومت پر سوال کرنے والوں کو میڈیا ملک دشمن کہتا رہا ہے۔جین زی تحریک کے مشہور ہونے کے بعد مودی حکومت نے سی جے پی کا ایکس اکاونٹ بھی بند کردیا۔
بھارتی گودی میڈیا مسائل سے توجہ ہٹا کرجھوٹ اورپراپیگنڈے کی مشین بن چکا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران نوجوانوں نے گودی میڈیا کی قلعی کھول دی۔ بھارتی نوجوانوں نے بھارتی گودی میڈیا کو دلال اور چورقراردیدیا ۔ نوجوانوں نے گودی میڈیا کوآئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اتنا دلال میڈیا پوری دنیا میں نہیں ہے جتنا بھارت میں گودی میڈیا ہے۔ گودی میڈیا صرف مودی کی تشہیر اوراس کو بہتر دکھانے کیلئے ساری کوششیں کرتا ہے۔ گودی میڈیا بی جے پی حکومت کے پیسوں پرچلنے والا میڈیا ہے جس کاعوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما ابجیت دیپکے نے کہا کہ نوجوانوں کے بھرپورمطالبہ پرمیں نے گودی میڈیا پرنہ جانے کا وعدہ کیا ہے۔گودی میڈیا کو صرف سنسنی خیزی اور شرانگیزی سے مطلب ہے اوروہ نوجوانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے۔بھارتی حکومت کی جانب سے نوجوانوں اور طلبہ سے متعلق حالیہ اقدامات عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے ان اقدامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ایک بین الاقوامی جریدے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے بعض نوجوانوں کی تنظیموں اور سرگرمیوں کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے سخت اقدامات کیے، جس کے بعد اس معاملے پر عالمی سطح پر بحث شروع ہوگئی۔
بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی بھارت میں طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں اور کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ عالمی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔تجزیہ کاروں کے مطابق نوجوانوں اور طلبہ کی سرگرمیوں پر پابندیوں اور قدغنوں سے متعلق اقدامات نے بھارت میں جمہوری اقدار، اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی تنوع کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔رپورٹ میں ناروے کے دورے کے دوران بھارتی قیادت اور صحافیوں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر میڈیا آزادی اور صحافتی حقوق کے موضوع پر مزید سوالات اٹھائے گئے۔عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کے مسائل، روزگار، تعلیم اور سماجی توقعات سے نمٹنا حکومتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور ان شعبوں میں مثر پالیسی سازی ہی پائیدار استحکام کی ضامن ہو سکتی ہے۔ بھارت میں نوجوانوں سے متعلق حالیہ پیش رفت نے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ عالمی سطح پر بھی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
مودی حکومت کی جانب سے بھارتی نوجوانوں کو شدید معاشی مشکلات، بلند شرحِ بے روزگاری، اور سیاسی پابندیوں کا سامنا ہے۔ طلبہ اور نوجوانوں کی جانب سے اٹھنے والی آوازوں اور احتجاجی تحریکوں کو دبانے کے لیے حکومتی اقدامات اور گودی میڈیا کا کردار شدید تنقید کی زد میں ہے۔مودی حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری کا شکار ہے، جس نے انہیں شدید مایوسی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جامعات اور تعلیمی اداروں میں طلبہ کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں اور جمہوری اقدار و آزادی اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حقوقِ نوجوانان اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اٹھنے والی احتجاجی آوازوں کو سختی سے کچلا جاتا ہے اور انہیں ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مودی حکومت کی ناکامیوں اور نوجوانوں کے حقیقی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ریاستی میڈیا کو بطورِ آلہ کار استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے نوجوان گودی میڈیا سے بھی سخت نالاں ہیں۔
بھارت میں نریندر مودی کے اقتدارمیں رہنے کے جنون نے ملک کی معیشت اور عوام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار دی ٹیلی گراف نے رپورٹ کیا ہے کہ بھارتی معیشت بکھر چکی ہے، کرنسی کی قدر میں کمی ہو رہی ہے اور سرمایہ ملک سے باہر جا رہا ہے۔ ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔مودی حکومت ذاتی مفاد کے لیے الیکشن کمیشن جیسے اداروں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ میڈیا پر دباؤ نے بھی مودی اور امیت شاہ کے اقتدار میں برقرار رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت ایک ایسے نظام کے تحت کام کر رہا ہے جہاں اشرافیہ کا ایک چھوٹا طبقہ حکمرانوں کو سہارا دے رہا ہے۔ مودی نے ووٹ بٹورنے کیلئے ہندؤں میں یہ خوف پیدا کیا ہے کہ مسلمان ان پر حکمرانی کرنا شروع کر دیں گے۔
٭٭٭


