سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے کاغذی ثابت( کراچی میں کچرے کے ڈھیر)
شیئر کریں
5 گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر برسوں سے التواء کا شکار ، حیدرآباد ، سکھر کی اسکیمیں بھی ناکام
سڑکوں پر مٹی اور جگہ جگہ گندی ،2015 ء سے تاحال تاخیری حربے،کروڑوں روپے مختص ہیں
محکمہ بلدیات کے ماتحت ادارے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی ناکامی، 10 سال گذرنے کے باوجود کراچی میں کچرہ منتقل کرنے کے 5اسٹیشن نہ بن سکے، حیدرآباد اور سکر میں بھی اسکیمیں ناکام ہو گئیں۔ جرات کی رپورٹ کے مطابق محکمہ بلدیات کے ماتحت ادارے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے سال 2015 میں کچرہ منتقل کرنے کے لئے 5 اسٹیشن تعمیر کرنے کی اسکیمیں شروع کی، میوا شاہ قبرستان کے قریب، ملیر ندی کے قریب کورنگی کاز وے، شرافی گوٹھ سمیت 5 مقامات پر گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، اسکیم کے لئے رواں مالی سال میں صرف 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں اور یہ اسکیم سال 2027 میں مکمل ہوگی۔ جبکہ کراچی میں سرجانی اور حب ندی کے قریب پہلے سے موجود کچرہ ڈمپ کرنے کے دو لینڈ فل سائیٹ کو بہتر بنانے اور سائنسی بنیاد پر بنانے کی اسکیم سال 2017 میں شروع کی گئی، یہ اسکیم بھی 8سال گذرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوئی اور کہا جا رہا ہے کہ یہ اسکیم سال 2025 میں مکمل ہوگی، اسکیم کے لئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص ہوئے ہیں۔ حیدرآباد اور سکھر میں لینڈ فل سائیٹ تعمیر کرنے کے منصوبے سال 2017 میں شروع ہوئے لیکن 8 سال گذرنے کے باوجود مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے، دونوں منصوبے بھی سال 2027 میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، دونوں منصوبوں کے لئے 2 کروڑ 50 لاکھ اور 3 کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں۔ جبکہ وفاقی حکومت نے کراچی میں سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ افیشنسی پروگرام کے نام سے منصوبہ سال 2021 میں حکومت سندھ کے ساتھ مل کر شروع کیا ہے، حکومت سندھ نے اس منصوبے کے لئے 25 کروڑ روپے مختص کئے ہیں اور یہ منصوبہ بھی سال 2027 میں ہی مکمل ہوگا۔ جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں صدر، لیاری، کیماڑی، کورنگی، لانڈھی، قائد آباد، لیاقت آباد، گلشن اقبال میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں، اس کے علاہ سڑکوں پر تعمیرات کے بعد کچرے اور مٹی کی موجودگی شہریوں کے لئے درد سر بن گئی ہے، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کراچی میں کچرے کو گھر گھر سے جمع کرنا اور کچرے کو دوبارہ استعمال کرنے کے منصوبے مکمل نہیں کر سکی جس کے باعث شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر جمع ہونا معمول ہے۔


