گارڈن کے چڑیا گھر میں ہزاروں زندگیاں داؤ پر، مئیر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی لاعلم
شیئر کریں
شیروں کے لیے تعمیر کیا جانے والا جدیدیت کا شہکار خوبصورت چمکتے شیشے والا پنجرہ زمین بوس
منصوبے پر کروڑوں خرچ کیے گئے، اور اسے عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے دعوے کیے گئے
(رپورٹ؍ ایم جے کے)گارڈن کے چڑیا گھر میں ہزاروں زندگیاں داؤ پر, مئیر کراچی، میونسپل کمشنر کے ایم سی لاعلم، قدیم اور تاریخی Karachi Zoo میں شیروں کے لیے تعمیر کیا جانے والا جدیدیت کا شہکار ایک خوبصورت چمکتے شیشے والا پنجرہ زمین بوس، اس منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، اور اسے عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے دعوے بھی کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ سوال صرف ایک پنجرے کا نہیں، بلکہ اس نظام کا ہے جہاں ترقی کے نام پر اعداد و شمار کی جادوگری اکثر حقیقت پر بھاری پڑ جاتی ہے اس منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور اسے عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے دعوے بھی کیے گئے پھر آخر کیا وجہ ہے کہ وہ جدید شیشوں والا پنجرہ جسے شیروں کے لیے محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق قرار دیا جا رہا تھا، ناقص تعمیر اور مبینہ بدانتظامی کے باعث اپنی مضبوطی برقرار نہ رکھ سکا، شیشے سے تیار اس اسٹرکچر کے ٹوٹنے سے نہ صرف سرکاری وسائل کے ضیاع کا سوال کھڑا ہوگیا ہے بلکہ جانوروں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تاہم تعمیراتی معیار پر کوئی موثر نگرانی نہیں کی گئی، ماہرین کے مطابق ایسے حساس مقامات پر شیشے کے استعمال کے لیے بین الاقوامی معیار کے خصوصی مواد اور مضبوط فریم ورک ضروری ہوتا ہے جس کی عدم موجودگی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ شہری حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے اور اس منصوبے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں، سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے نے خاصی توجہ حاصل کی ہے جہاں صارفین اسے “ترقی کے نام پر تباہی” قرار دے رہے ہیں، دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا اب تک جبکہ ذرائع کے مطابق عارضی طور پر شیروں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جب اعداد و شمار عوام کے سامنے آتے ہیں تو حیرت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب اصل لاگت اور ظاہر کی گئی لاگت میں زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے اگر واقعی ایک کروڑ کا کام انیس کروڑ میں مکمل ہوا ہے تو یہ صرف مالی بے ضابطگی نہیں بلکہ عوام کے اعتماد پر ایک کاری ضرب ہے، یہ پہلا موقع نہیں کہ کراچی میں کسی ترقیاتی منصوبے پر سوالات اٹھے ہوں شہر کی سڑکوں سے لے کر نالوں کی صفائی تک ہر جگہ ایک ہی کہانی سنائی دیتی ہے، منصوبے بنتے ہیں، فنڈز جاری ہوتے ہیں، مگر نتائج کہیں کھو جاتے ہیں، ایسے میں جب چڑیا گھر جیسے عوامی تفریحی مقام پر بھی شفافیت سوالیہ نشان بن جائے تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ حکام اس پنجرے کو جانوروں کی فلاح اور شہریوں کے لیے بہتر سہولت قرار دے رہے تھے بلاشبہ، جانوروں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ایک مثبت قدم ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس بہتری کی قیمت بھی حقیقت کے مطابق ہے؟ کیا واقعی اتنی خطیر رقم خرچ کرنا ناگزیر تھا، یا یہ بھی ان منصوبوں کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں کاغذی ترقی زمینی حقیقت سے کہیں آگے نکل جاتی ہے؟ مذکورہ پنجرہ انجینئرنگ برانچ نے تعمیر کیا تھا اور تعمیر کے بعد اسے سینئر ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر کے حوالے کیا گیا تھا کیا ان صاحبان نے ہیڈلنگ کے وقت اس معیاری کام کا جائزہ لیکر انجینئرنگ برانچ کو این او سی جاری کی تھی؟


