حکومت ٹیکس کٹوتی اور پابندیوں میں نرمی پر رضامند
شیئر کریں
(تاجروں کے سامنے حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور)
2 لاکھ نقد بینک میں جمع کرانے پر ٹیکس کی کٹوتی نہیں ہوگی،ایف بی آرکی آل پاکستان تنظیم تاجران کو یقین دہانی ، کسی صورت ظالمانہ ٹیکسز قبول نہیں کریں گے،تاجر رہنماؤں کا مؤقف
ڈیجیٹل انوائسنگ چھوٹے تاجروں اور ریٹیلرز کیلئے نہیں، بزنس ٹو بزنس سیلز ٹیکس رجسٹرڈ کمپنیوں پر مرحلہ وار لاگو ہوگی ،بڑے صنعت کارکو سیلز ٹیکس کے معاملے پر گرفتار نہیں کیا جائے گا،اعلامیہ
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے آل پاکستان تنظیم تاجران کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 2 لاکھ روپے نقد بینک میں جمع کرانے پر ٹیکس کی کٹوتی نہیں ہوگی۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان تنظیم تاجران کا وفد ایف بی آر حکام سے مذاکرات کیلئے پہنچا اور دونوں فریقین کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی۔ تنظیم تاجران کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ کاشف چوہدری، سلمان صدیقی، شرجیل میر و دیگر نے ٹیکس نظام پر مؤقف پیش کیا۔تاجر رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ کسی صورت ظالمانہ ٹیکسز قبول نہیں کریں گے جبکہ اس موقع پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ چھوٹے تاجروں اور ریٹیلرز پر لاگو نہیں ہوگی اور یہ صرف بزنس ٹو بزنس سیلز ٹیکس رجسٹرڈ کمپنیوں پر مرحلہ وار لاگو ہوگی۔ایف بی آر نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کمیٹی میں تاجر نمائندوں کو شامل کیا جائے گا، سیلز ٹیکس قانون 37 اے اور بی کا اطلاق چھوٹے تاجروں پر نہیں ہوگا جبکہ کسی بڑے صنعت کار کو بھی سیلز ٹیکس قانون کے تحت گرفتار نہیں کیا جائیگا۔ایف بی آر حکام نے کہا کہ 37 اے اور بی کے قانون کا مقصد جعلی انوائسز کی روک تھام ہے، مارکیٹوں میں کسٹمز کے چھاپوں کیخلاف الگ اجلاس میں نیا میکنزم طے ہوگا جبکہ موبائل فونز پر ٹیکس اصلاحات کیلئے تاجروں سے مشاورت کی جائے گی۔


