میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کچرا کنڈی سے انسانی اعضا برآمد،سکھر سے ایک ملزم گرفتار

کچرا کنڈی سے انسانی اعضا برآمد،سکھر سے ایک ملزم گرفتار

ویب ڈیسک
هفته, ۱۵ جون ۲۰۱۹

شیئر کریں

شہر قائد کے علاقے نیو کراچی کے قریب کچرا کنڈی سے انسانی اعضا ملے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ غیرت کے نام پر لرزہ خیز قتل کی واردات ہے ، کارروائی کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق نیو کراچی کے قریب ایک کچرا کنڈی سے انسانی اعضا ء ملے ۔ مقتول کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا اور بعد ازاں اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے کچرا کنڈی میں پھینکے گئے ۔ پولیس کے مطابق انسانی اعضا 2 جون کو لاپتا ہونے والے حق نواز کے ہیں، جوعائشہ نامی ملزمہ کی نشان دہی پر برآمد ہوئے ۔حق نواز نامی شہری کی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ بلال کالونی میں درج کی گئی تھی۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مقتول کی عائشہ نامی خاتون سے دوستی تھی۔ پولیس کو عائشہ کے گھر پر کارروائی میں پتا چلا کہ دیگر ملزمان اندرون سندھ اور پنجاب فرار ہوئے ، جس پر سکھر میں کارروائی کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ گرفتار ہونے والی ملزمہ نے حق نواز کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔واقعے میں ملوث مرکزی ملزم پنجاب فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے ۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں