مشروبات میں وٹامن ڈی کی برتری، سنترے کے جوس سے آگے
شیئر کریں
سنترے کے جوس (جوسِ مالٹا) وٹامن ڈی حاصل کرنے کے معروف ذرائع میں سے ایک ہے، خاص طور پر جب اسے وٹامن ڈی سے افزودہ کیا گیا ہو، لیکن یہ سب سے زیادہ مقدار فراہم نہیں کرتا۔
ویری ویل ہیلتھ ، کی رپورٹ کے مطابق ایک کپ وٹامن ڈی سے افزودہ سنترے کے جوس میں تقریباً 100 بین الاقوامی یونٹس (آئی یو) وٹامن ڈی پایا جاتا ہے تاہم اس کے مقابلے میں دیگر مشروبات زیادہ مقدار فراہم کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق وٹامن ڈی سے افزودہ دودھ سرفہرست ہے، جو ایک کپ میں تقریباً 117 IU وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے اور ہڈیوں کی صحت کے لیے کیلشیم کی وجہ سے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح پودوں سے حاصل ہونے والا دودھ، جیسے سویا یا بادام کا دودھ، بھی اسی کے برابر یا بعض صورتوں میں اس سے کچھ زیادہ وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے، جو بعض اقسام میں تقریباً 119 IU تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ مشروبات سبزی خور افراد کے لیے بھی موزوں ہوتے ہیں۔
ضرورت کے مطابق مختلف انتخاب
اعداد و شمار کے مطابق کیفر (Kefir) خاص طور پر اگر اسے وٹامن ڈی سے افزودہ کیا گیا ہو، ایک سرونگ میں 100 سے زائد بین الاقوامی یونٹس (IU) فراہم کر سکتا ہے اور یہ نظامِ ہضم کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح کچھ ریڈی میڈ پروٹین مشروبات میں وٹامن ڈی کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے، جو بعض صورتوں میں ایک بوتل میں تقریباً 332 IU تک پہنچ جاتی ہے، تاہم یہ مقدار برانڈ کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔
مزید یہ کہ مشروم (فنگس) سے تیار کیا جانے والا یخنی یا مشروبات بھی وٹامن ڈی کا ممکنہ نباتاتی ذریعہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب فنگس کو الٹرا وائلٹ روشنی کے سامنے رکھا گیا ہو۔
تاہم اس کی مقدار تیاری کے طریقے پر منحصر ہوتی ہے۔سفارشات کے مطابق بالغ افراد کو روزانہ تقریباً 600 IU وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے مختلف افزودہ مشروبات کا استعمال اس ضرورت کو پورا کرنے کا ایک عملی طریقہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو سورج کی روشنی کم لیتے ہیں۔
تاہم صرف ان مشروبات پر انحصار کافی نہیں ہوتا کیونکہ وٹامن ڈی کی مقدار مصنوعات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے اور اس کے جذب ہونے پر دیگر غذائی عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر وٹامن ڈی سے افزودہ مشروبات ایک آسان اور مؤثر ذریعہ ہیں، بشرطیکہ انہیں متوازن غذا کے ساتھ استعمال کیا جائے۔


