میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارت دنیا بھر کے لیے خطرہ

بھارت دنیا بھر کے لیے خطرہ

جرات ڈیسک
اتوار, ۱۱ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے اپنی رپورٹ اور انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں خبردار کیا ہے کہ بھارتی جرائم پیشہ گینگ (جیسے بشنوئی گینگ اور دیگر منظم نیٹ ورکس) دنیا بھر کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔یہ گینگ اور ان کے کارندے بیرونِ ملک (بشمول امریکہ اور کینیڈا) مقیم اہم اور نمایاں بھارتی شخصیات کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دیتے اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایف بی آئی کی فہرست میں بھارتی نژاد ستیندر سنگھ (Satinder Singh) جیسے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے میں انتہائی مطلوب اور خطرناک قرار دیا گیا ہے جو کیلیفورنیا یا کینیڈا میں مفرور ہیں۔امریکہ، کینیڈا اور یورپی سکیورٹی اداروں نے انڈین گینگز کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک کم از کم 24 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ کینیڈین حکومت پہلے ہی بھارت میں سرگرم بشنوئی گینگ کو ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کر چکی ہے۔ایف بی آئی نے خبردار کیا ہے کہ ستیندر جیت سنگھ انتہائی پرتشدد، مسلح اور خطرناک نوعیت کا مجرم ہے جس کے مفرور ہونے کے باعث اسے فوری گرفتار کرنا اولین ترجیح ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملزم ممکنہ طور پر کیلیفورنیا یا کینیڈا میں کہیں روپوش ہو سکتا ہے۔ بشنوئی گینگ اور اس کے کارندے بیرونِ ملک مقیم نمایاں بھارتی شخصیات کو کھلے عام قتل کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ یہ نیٹ ورک خاص طور پر کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے ہولناک قتل کے واقعے میں براہِ راست ملوث پایا گیا ہے۔

کینیڈا کی حکومت پہلے ہی ستمبر 2023 میں لارنس بشنوئی کے منظم جرائم گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی ادارے فکرمند ہیں۔امریکی اور کینیڈین حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک مشترکہ کارروائیوں کے دوران اس بھارتی گینگ کے 24 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان گرفتاریوں کا مقصد نیٹ ورک کی کمر توڑنا اور بیرونِ ملک جاری پرتشدد کارروائیوں کو مستقل بنیادوں پر روکنا ہے۔ایف بی آئی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ستیندرجیت سنگھ کی گرفتاری ان کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں تمام شراکت دار اداروں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔ عالمی سطح پر اس گینگ کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو نہایت سنجیدہ اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سنگین صورتحال کے پیش نظر امریکی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس ملزم کے بارے میں کوئی بھی اطلاع ملے تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں۔ عالمی طاقتیں اس گینگ کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

معروف امریکی ادارےPew Research Center کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ میں 50 سے زائد فیصد عوام نے بھارت کے خلاف منفی جذبات کا اظہار کیا ہے۔ جس کے بعد بھارتی مقبولیت 2008 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی۔ سینٹر ریسرچ پیو عالمی سطح پر سیاسی حقائق اور اعداد و شمار کی تحقیق کے سب سے زیادہ معتبر اداروں میں شمار ہوتا ہے۔سروے رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اقوام عالم میں صرف 45 فیصد افراد بھارت کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔امریکہ کے 56 فیصد نوجوان بھارت کے شدید مخالف ہیں۔اس طرح دو دہائیوں میں بھارتی مقبولیت میں 30 فیصد کمی آئی ہے۔ آسٹریلیا میں بھی بھارت کی مقبولیت گر کر 44 فیصد کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔امریکی عوام کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر سے اعتماد 5 سال میں آدھا رہ گیا۔

امریکی نوجوانوں میں بھارت کے خلاف منفی سوچ زیادہ غالب ہے، جہاں 18 سے 29 سال کے 56فیصد نوجوان بھارت کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں۔ پڑوسی ممالک اور عالمی سطح پر ملا جلا رجحانعالمی سطح پر 36 ممالک کے 42,000 سے زائد افراد سے رائے لی گئی، جس میں شدید تضاد دیکھا گیا۔ پاکستان میں بھارت کے خلاف سب سے زیادہ منفی جذبات پائے گئے، جہاں 91فیصد عوام بھارت کے بارے میں منفی اور صرف 7فیصد مثبت رائے رکھتے ہیں۔سری لنکا میں بھارت کے لیے سب سے زیادہ مثبت جذبات دیکھے گئے، جہاں 79فیصد عوام بھارت کے حق میں ہیں۔برطانیہ اور کینیا میں بھی 71فیصد لوگ بھارت کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر، عالمی سطح پر بھارت کی تصویر کافی منقسم نظر آتی ہے جہاں دنیا بھر میں اوسطاً 45 فیصد لوگ مثبت اور 41 فیصد لوگ منفی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ تصویر دھندلانے لگی ہے۔ اور عالمی سطح پر بھارتی امیج تیزی سے خراب ہورہا ہے۔

عالمی رائے عامہ کے سروے کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارت میں مضبوط عوامی حمایت حاصل ہے تاہم عالمی سطح پر ان کے بارے میں مجموعی رائے منفی توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ نتائج گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے سال 2025 کے اختتامی سروے میں سامنے آئے، جس میں 58 ممالک کے 57 ہزار 864 بالغ افراد کی آراء شامل کی گئیں۔ سروے کے مطابق دنیا بھر میں 25 فیصد افراد نے مودی کے بارے میں موافق جبکہ 37 فیصد نے ناموافق رائے ظاہر کی جبکہ 38 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ مودی کے بارے میں نہیں جانتے یا کوئی رائے نہیں رکھتے۔ اس طرح مودی کا عالمی سطح پر خالص موافقت اسکور منفی 12 رہا۔ سب سے زیادہ مثبت رائے بھارت میں ریکارڈ کی گئی جہاں خالص موافقت اسکور مثبت66 رہا، جبکہ منفی رائے رکھنے والے ممالک میں ایران، جنوبی کوریا،ڈنمارک، یوکرائن، اور پاکستان شامل ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں